صحيح مسلم حدیث نمبر: 2774
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1167.5
Sahih Muslim 2774
کتاب #13: روزوں کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ، فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِهَا، فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ "، قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ: إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ، قَالَ: إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهِيَ التَّاسِعَةُ، فَإِذَا مَضَتْ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ، وَقَالَ ابْنُ خَلَّادٍ: مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ.
محمد بن مثنیٰ اور ابوبکر بن خلاد نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس کو کھول دیا جائے۔ آپ لیلۃ القدر کو تلاش کر رہے تھے۔ جب یہ (دس راتیں) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھاڑ دیا گیا، پھر (وہ رات) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے۔ اس پر آپ نے (خیمے لگانے کا) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: ”اے لوگو! مجھ پر لیلۃ القدر واضح کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتانے کے لیے نکلا تو دو آدمی (ایک دوسرے پر) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے، ان کے ساتھ شیطان تھا۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی۔ تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ تم نویں، ساتویں اور پانچویں (رات) میں تلاش کرو۔“ (ابونضرہ نے) کہا: میں نے کہا: ابوسعید! ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، ہم اسے جاننے کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ کہا: میں نے پوچھا: نویں، ساتویں، اور پانچویں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد (آخر سے گنتے ہوئے ساتویں رات آتی ہے) ساتویں ہے، اس کے بعد جب پچیسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے، پانچویں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2774]