📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 2433

Sahih Muslim Hadith 2433 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #12 📁 زکاۃ کے احکام و مسائل (كِتَاب الزَّكَاةِ) ← 🏷️ باب: ضعیف الایمان لوگوں کو دینے کا بیان۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 2433 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 150.4 Sahih Muslim 2433
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
45: باب إِعْطَاءِ مَنْ يُخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ:
🏷️ باب: ضعیف الایمان لوگوں کو دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا "، قَالَ: " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ "، وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَكْرِيرُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ،
حسن بن علی حلوانی اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی کہا میرے والد نے ہمیں صالح سے حدیث بیان کی انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا جبکہ میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اس کو نہ دیا۔ وہ میرے لیے ان سب کی نسبت زیادہ پسندیدہ تھا میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور ازراہ رازداری کے ساتھ آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے آپ فلاں سے اعراض فرما رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ میں کچھ دیر کے لیے چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ فلاں کو نہیں دے رہے؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ اس کے بعد میں تھوڑی دیر چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی میں نے پھر عرض کی: فلاں سے آپ کے اعراض کا سبب کیا ہے اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: ”یا مسلمان۔“ (پھر) آپ نے فرمایا: ”میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس ڈر سے (دیتا ہوں) کہ وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جائے۔“ اور حلوانی کی حدیث میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”یا مسلمان“ کا) تکرار دو بار ہے (تین بار نہیں۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2433]
صحيح مسلم • حدیث #2433
2431 2432 2433 2434 2435

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2434 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّث...
سفیان ثوری، ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب) اور معمر سب نے (زہری) سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث...
#2435 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْ...
محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں یعنی زہری مذکورہ بالا حدیث انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ