صحيح مسلم حدیث نمبر: 2369
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1025.1
Sahih Muslim 2369
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: " لِمَ ضَرَبْتَهُ "، فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، فَقَالَ: " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا ".
یزید بن ابی عبید نے کہا: میں نے آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے کر کے خشک کرنے کا حکم دیا، میرے پاس ایک مسکین آ گیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھلا دیا۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا۔ تو انہوں نے مجھے مارا۔ اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا: ”تم نے اسے کیوں مارا؟“ اس نے کہا: میرے حکم کے بغیر میرا کھانا (دوسروں کو) دیتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجر تم دونوں کے درمیان ہوگا۔“ (تم دونوں کو ملے گا) [صحيح مسلم/حدیث: 2369]