صحيح مسلم حدیث نمبر: 2406
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1045.02
📖 صحيح مسلم باب:12 حدیث نمبر : 143
Sahih Muslim 2406
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
37: باب جَوَازِ الْأَخْذِ بِغَيْرِ سُؤَالٍ وَلَا تَطَلُّعٍ
باب: بغیر سوال اور خواہش کے لینے کا بیان۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ "، قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ،
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کو لے لو اور اپنا مال بنالو یا اسے صدقہ کردو اور اس مال میں سے جو تمہار ےپاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو ( مال ) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ ۔ "" سالم نے کہا : اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انھیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے ۔