صحيح مسلم حدیث نمبر: 2406
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1045.1
Sahih Muslim 2406
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَاءَ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ: أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ "، قَالَ سَالِمٌ: فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ،
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو اور اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ کر دو اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو (مال) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ سالم نے کہا: اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انہیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2406]