صحيح مسلم حدیث نمبر: 2325
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1003.1
Sahih Muslim 2325
کتاب #12: زکاۃ کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي؟، قَالَ: " نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ ".
ہشام کے ایک اور شاگرد ابواسامہ نے اسی سند کے ساتھ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: قریش کے ساتھ معاہدے کے زمانے میں، جب آپ نے ان سے معاہدہ صلح کیا تھا، میری والدہ آئیں، وہ مشرک تھیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کی: "اے اللہ کے رسول! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور (مجھ سے صلہ رحمی کی) امید رکھتی ہیں تو کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔" [صحيح مسلم/حدیث: 2325]