📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب صلاة العيدين

کتاب: عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) کی نماز کے احکام و مسائل

کتاب #23 • کل احادیث: 42
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
--: بَابُ :
باب:
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا , فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , قَالَ: " كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا , وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگوں کے لیے سال میں دو دن ایسے ہوتے تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے ہجرت کر کے ) مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا : ” تمہارے لیے دو دن تھے جن میں تم کھیل کود کیا کرتے تھے ( اب ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلہ ان سے بہتر دو دن دے دیئے ہیں : ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1557]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 593)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 245 (1134)، مسند احمد 3/103، 178، 235، 250 (صحیح)
2: بَابُ : الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدَيْنِ مِنَ الْغَدِ
باب: عیدالفطر کی نماز کے لیے (کسی سبب سے) دوسرے دن نکلنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ، أَنَّ قَوْمًا رَأَوْا الْهِلَالَ , فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ , وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْغَدِ".
ابو عمیر بن انس اپنے ایک چچا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور آپ سے اس کا ذکر کیا ) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں ، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1558]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 255 (1157)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1653)، (تحفة الأشراف: 15603)، مسند احمد 5/57، 58 (صحیح)
3: بَابُ : خُرُوجِ الْعَوَاتِقِ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فِي الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین میں جوان لڑکیوں اور پردہ والی عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي , فَقُلْتُ: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ , بِأَبِي، قال: " لِيَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ وَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ , وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى".
حفصہ بنت سرین کہتی ہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتی تھیں : ” میرے باپ آپ پر فدا ہوں “ تو میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا ذکر کرتے سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، میرے باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” چاہیئے کہ دوشیزائیں ، پردہ والیاں ، اور جو حیض سے ہوں ( عید گاہ کو ) نکلیں اور سب عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں ، البتہ جو حائضہ ہوں وہ صلاۃ گاہ سے الگ رہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1559]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 390 (صحیح)
4: بَابُ : اعْتِزَالِ الْحُيَّضِ مُصَلَّى النَّاسِ
باب: حائضہ عورتیں مصلیٰ (عیدگاہ) سے الگ رہیں۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: لَقِيتُ أُمَّ عَطِيَّةَ , فَقُلْتُ لَهَا: هَلْ سَمِعْتِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَكَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْهُ , قَالَتْ: بِأَبِي، قال: " أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ , وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( ایسا ایسا کہتے ہوئے ) سنا ہے ؟ اور وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتیں تو کہتیں : میرے باپ آپ پر فدا ہوں ، ( انہوں نے کہا : ہاں ) آپ نے فرمایا : ” بالغ لڑکیوں کو اور پردہ والیوں کو بھی ( عید کی نماز کے لیے ) نکالو تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں ، اور حائضہ عورتیں مصلیٰ ( عید گاہ ) سے الگ تھلگ رہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1560]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 15 (974)، صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، سنن ابی داود/الصلاة 247 (1137)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 165 (1308)، (تحفة الأشراف: 18095) (صحیح)
5: بَابُ : الزِّينَةِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کے لیے زیب و زینت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ , أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" , فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ , فَأَقْبَلَ بِهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قُلْتَ: إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ , ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْهَا وَتُصِبْ بِهَا حَاجَتَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں موٹے ریشمی کپڑے کا ایک جوڑا ( بکتے ہوئے ) پایا ، تو اسے لیا ، اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اسے خرید لیں ، اور عید کے لیے اور وفود سے ملتے وقت اسے پہنیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا ، یا اسے تو وہی پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا “ ، تو عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس باریک ریشمی کپڑے کا ایک جبہ بھیجا ، تو وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ، پھر آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے بیچ دو ، اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1561]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ تم خود اسے پہنو، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ بیچ کر تم اس کی قیمت اپنی ضرورت میں صرف کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1077)، اللباس 10 (4040)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)
6: بَابُ : الصَّلاَةِ قَبْلَ الإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، أَنَّ عَلِيًّا اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَى النَّاسِ فَخَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ , فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُصَلَّى قَبْلَ الْإِمَامِ".
ثعلبہ بن زہدم سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابومسعود رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر اپنا نائب مقرر کیا ، تو ( جب ) وہ عید کے دن نکلے تو کہنے لگے : لوگو ! یہ سنت نہیں ہے کہ امام سے پہلے نماز پڑھی جائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1562]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9978) (صحیح الإسناد)
7: بَابُ : تَرْكِ الأَذَانِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عیدین میں اذان نہ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيدٍ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1563]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/العیدین 4 (885)، (تحفة الأشراف: 2440)، مسند احمد 3/314، 318، 381، 382، سنن الدارمی/الصلاة 18 (1643)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1576 (صحیح)
8: بَابُ : الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن خطبہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قال: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ , يَقُولُ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ عِنْدَ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ , قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ , فَقَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا , أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَذْبَحَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا , وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لِأَهْلِهِ" , فَذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ دِينَارٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ , قَالَ: " اذْبَحْهَا وَلَنْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
شعبی ( عامر بن شراحیل ) کہتے ہیں کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اپنے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں ، پھر قربانی کریں ، تو جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا ، اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ محض گوشت ہے جسے وہ اپنے گھر والوں کو پہلے پیش کر رہا ہے “ ، ابوبردہ ابن نیار ( نماز سے پہلے ہی ) ذبح کر چکے تھے ، تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے ، جو دانت والے دنبہ سے بہتر ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” اسے ہی ذبح کر لو ، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1564]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 3 (951) مختصراً، 5 (955) مطولاً، 8 (957)، 10 (968)، 17 (976)، 23 (983) مطولاً، الأضاحي 1 (5556)، 8 (5557)، 11 (5560)، 12 (5563)، الأیمان والنذور 15 (6673)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1961)، سنن ابی داود/الضحایا 5 (2800، 2801) مطولاً، سنن الترمذی/الأضاحي 12 (1508) مطولاً، (تحفة الأشراف: 1769)، مسند احمد 4/28، 287، 297، 302، 303، سنن الدارمی/الأضاحي 7 (2005)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1571، 1582، 4399، 4400 (صحیح)
9: بَابُ : صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
باب: عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1565]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 8 (963)، صحیح مسلم/العیدین (888)، (تحفة الأشراف: 8045)، سنن الترمذی/الصلاة 266 (الجمعة 31) (531)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 155 (1276)، مسند احمد 2/12، 38 (صحیح)
10: بَابُ : صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ إِلَى الْعَنَزَةِ
باب: عیدین کی نماز نیزہ سامنے رکھ کر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخْرِجُ الْعَنَزَةَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى يُرْكِزُهَا فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں نیزہ لے جاتے اور اسے گاڑتے ، پھر اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1566]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 13 (973)، 14 (9772)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 164 (1304)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9597)، مسند احمد 2/98، 145، 151، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1450) (صحیح)
11: بَابُ : عَدَدِ صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کی نماز کی رکعات کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زُبَيْدٍ الْأَيَامِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ذَكَرَهُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: " صَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ , وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ , وَصَلَاةُ الْمُسَافِرِ رَكْعَتَانِ , وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ , تَمَامٌ لَيْسَ بِقَصْرٍ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے ، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے ، مسافر کی نماز دو رکعت ہے ، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے ۔ اور یہ سب ( دو دو رکعت ہونے کے باوجود ) بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکمل ہیں ، ان میں کوئی کمی نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1567]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1421 (صحیح)
12: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِـ { ق } وَ { اقْتَرَبَتْ }
باب: عیدین میں سورۃ ”قٓ“ اور سورۃ ”اقتربت“ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ عِيدٍ فَسَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ , بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ فَقَالَ: " بِقَافْ وَاقْتَرَبَتْ".
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ( ایک دفعہ ) عید کے دن عمر رضی اللہ عنہ نکلے تو انہوں نے ابوواقد لیثی سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کون سی ( سورتیں ) پڑھا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : سورۃ ” قٓ “ اور سورۃ ” اقتربت “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1568]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/العیدین 3 (891)، سنن ابی داود/الصلاة 252 (1154)، سنن الترمذی/الصلاة 268 (الجمعة 33) (534، 535)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 157 (1282)، موطا امام مالک/العیدین 4 (8)، مسند احمد 5/217، 219 (صحیح)
13: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى } وَ { هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ }}
باب: عیدین میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «ہل أتاک حدیث الغاشیۃ» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ , وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَيَقْرَأُ بِهِمَا".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے ، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے ، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1569]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1425 (صحیح)
14: بَابُ : الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بَعْدَ الصَّلاَةِ
باب: عیدین کا خطبہ نماز کے بعد دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُخْبِرُ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنِّي شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک رہا ، تو آپ نے خطبہ سے پہلے نماز شروع کی ، پھر آپ نے خطبہ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1570]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 161 (863)، العیدین 16 (975)، 18 (977)، الزکاة 33 (1449) مطولاً، النکاح 124 (5233)، اللباس 56 (5880)، الاعتصام 16 (7323)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1142، 1143، 1144)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 155 (1273)، (تحفة الأشراف: 5883)، مسند احمد 1/220، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1571]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)
15: بَابُ : التَّخْيِيرِ بَيْنَ الْجُلُوسِ فِي الْخُطْبَةِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عید کا خطبہ سننے کے لیے بیٹھنے اور نہ بیٹھنے دونوں کے جواز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِيدَ , قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْصَرِفَ فَلْيَنْصَرِفْ , وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيُقِمْ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی ، پھر فرمایا : ” جو ( واپس ) لوٹنا چاہے لوٹ جائے ، اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہے ٹھہرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1572]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 253 (1155)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 159 (1290)، (تحفة الأشراف: 5315) (صحیح)
16: بَابُ : الزِّينَةِ لِلْخُطْبَةِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کے خطبہ کے لیے زینت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قال: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے اور آپ پر ہرے رنگ کی دو چادریں تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1573]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد المؤلف بلفظ ’’یخطب‘‘ وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/اللباس 19 (4065)، الترجل 18 (4206، 4207)، سنن الترمذی/الأدب 48 (2812)، (تحفة الأشراف: 12036)، مسند احمد 2/226، 227، 228 و 4/163، سنن الدارمی/الدیات 25 (2433، 2434)، ولیس عندھم ذکرالخطبة، بل فی بعض روایات أحمد أنہ کان جالسا فی ظل الکعبة، وبدون ذکرالخطبة، یأتی عند المؤلف نفسہ فی الزینة 96 (برقم: 5321) (صحیح)
17: بَابُ : الْخُطْبَةِ عَلَى الْبَعِيرِ
باب: اونٹ پر سوار ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قال: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِي كَاهِلٍ الْأَحْمَسِيِّ، قال: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِ النَّاقَةِ".
ابو کاہل احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے اور ایک حبشی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1574]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 158 (1284، 1285)، (تحفة الأشراف: 12142)، مسند احمد 4/306 (حسن)
18: بَابُ : قِيَامِ الإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: امام کے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قال: سَأَلْتُ جَابِرًا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا؟ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً ثُمَّ يَقُومُ".
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ، پھر آپ کچھ دیر بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1575]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1105)، (تحفة الأشراف: 2184)، مسند احمد 5/87، 101 (صحیح)
19: بَابُ : قِيَامِ الإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ مُتَوَكِّئًا عَلَى إِنْسَانٍ
باب: خطبہ میں امام کے کسی آدمی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قال: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ مَالَ وَمَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ , فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ حَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: " تَصَدَّقْنَ , فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ" , فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ" , فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ قَلَائِدَهُنَّ وَأَقْرُطَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھی ، پھر جب نماز پوری کر لی ، تو آپ بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے ، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، لوگوں کو نصیحتیں کیں ، اور انہیں ( آخرت کی ) یاد دلائی ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا ، پھر آپ مڑے اور عورتوں کی طرف چلے ، بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ، آپ نے انہیں ( بھی ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا ، اور انہیں نصیحت کی اور ( آخرت کی ) یاد دلائی ، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا ، پھر فرمایا : ” تم صدقہ کیا کرو کیونکہ عورتیں ہی زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی ، تو ایک عام درجہ کی ہلکے کالے رنگ کے گالوں والی عورت نے پوچھا : کس سبب سے اللہ کے رسول ؟ آپ نے فرمایا : ” ( کیونکہ ) وہ شکوے اور گلے بہت کرتی ہیں ، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہیں “ ، عورتوں نے یہ سنا تو وہ اپنے ہار ، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں ، وہ انہیں صدقہ میں دے رہی تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1576]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1563 (صحیح)
20: بَابُ : اسْتِقْبَالِ الإِمَامِ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: امام کا لوگوں کی طرف منہ کر کے خطبہ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الثَّانِيَةِ وَسَلَّمَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ وَإِلَّا أَمَرَ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ , قَالَ: " تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" , فَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف نکلتے تو لوگوں کو نماز پڑھاتے ، پھر جب دوسری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے ، تو کھڑے ہوتے اور اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرتے ، اور لوگ بیٹھے رہتے ، پھر اگر آپ کو کوئی ضرورت ہوتی جیسے کہیں فوج بھیجنا ہو تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے ، ورنہ لوگوں کو صدقہ دینے کا حکم دیتے ، تین بار کہتے : ” صدقہ کرو “ ، تو صدقہ دینے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1577]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 6 (304)، العیدین 6 (956)، الزکاة 44 (1462)، صحیح مسلم/الإیمان 34 (80) مطولاً، العیدین (889)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 158 (1288)، (تحفة الأشراف: 4271)، مسند احمد 3/36، 57 (صحیح)
21: بَابُ : الإِنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ
باب: خطبہ کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا : خاموش رہو ، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1578]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 235 (1112)، (تحفة الأشراف: 13240)، موطا امام مالک/الجمعة 2 (6)، مسند احمد 2/474، 485، 532، سنن الدارمی/الصلاة 195 (1590) (صحیح)
22: بَابُ : كَيْفَ الْخُطْبَةُ؟
باب: عیدین کا خطبہ کیسا ہو؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ , ثُمَّ يَقُولُ: " مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ , وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ , وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ" , ثُمَّ يَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ" وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ , ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ , وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جو اس کی شایان شان ہوتی ، پھر آپ فرماتے : ” جسے اللہ راہ دکھائے تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جسے گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ، سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے ، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ، اور بدترین کام نئے کام ہیں ، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے “ ، پھر آپ فرماتے : ” میں اور قیامت دونوں اس قدر نزدیک ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہیں “ ، اور جب آپ قیامت کا ذکر کرتے تو آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو جاتے ، اور آواز بلند ہو جاتی ، اور آپ کا غصہ بڑھ جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں ، اور کہہ رہے ہوں : ( ہوشیار رہو ! دشمن ) تم پر صبح میں حملہ کرنے والا ہے ، یا شام میں ، پھر آپ فرماتے : ” جو ( مرنے کے بعد ) مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے ، اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے چھوڑ کر مرے تو وہ میری طرف یا میرے ذمہ ہیں ، اور میں مومنوں کا ولی ہوں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1579]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جن کا کفیل کوئی نہیں ان کا کفیل میں ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 13 (867)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (45)، مسند احمد 3/310، 311، 319، 337، 371، سنن الدارمی/المقدمة 23 (212)، (تحفة الأشراف: 2599) (صحیح)
23: بَابُ : حَثُّ الإِمَامِ عَلَى الصَّدَقَةِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: عیدین کے خطبے میں امام لوگوں کو صدقہ کرنے پر ابھارے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، قال: حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْطُبُ فَيَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ" , فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ , فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا تَكَلَّمَ وَإِلَّا رَجَعَ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے ، پھر خطبہ دیتے تو صدقہ کرنے کا حکم دیتے ، تو صدقہ کرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھی ، پھر اگر آپ کو کوئی حاجت ہوتی یا کوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو ذکر کرتے ورنہ لوٹ آتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1580]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1577 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ , قال: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ , فَقَالَ" أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ , فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ , فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ , وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ".
حسن بصری سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بصرہ میں خطبہ دیا تو کہا : تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو ، تو ( یہ سن کر ) لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، تو انہوں نے کہا : یہاں مدینہ والے کون کون ہیں ، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ ، اور انہیں سکھاؤ کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو ، چھوٹے ، بڑے ، آزاد ، غلام ، مرد ، عورت سب پر فرض کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1581]
قال الشيخ الألباني: صحيح المرفوع منه
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1622) وانظر الحديث الآتي (2510) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الزکاة 20 (1622) مطولاً، (تحفة الأشراف: 5394)، مسند احمد 1/228، 351، ویأتی عند المؤلف برقم: 2510، 2517 (صحیح) (سند میں حسن بصری کا سماع ابن عباس رضی اللہ عنہم سے نہیں ہے، اس لیے صرف حدیث کا مرفوع حصہ دوسرے طرق سے تقویت پاکر صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ , ثُمَّ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ" , فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ عَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ" , قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تُجْزِي عَنِّي؟ قَالَ: " نَعَمْ وَلَنْ تُجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا ، پھر فرمایا : ” جس نے ہماری ( طرح ) نماز پڑھی ، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا ، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی ، تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا ، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے ، اس لیے میں نے جلدی کر دی ، چنانچہ میں نے ( خود ) کھایا ، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو گوشت کی بکری ہوئی “ ( اب قربانی کے طور پر دوسری کرو ) تو انہوں نے کہا : میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے ، جو گوشت کی دو بکریوں سے ( بھی ) اچھا ہے ، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1582]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ قربانی کے لیے نہیں بلکہ صرف کھانے کے لیے ذبح کی گئی بکری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1564 (صحیح)
24: بَابُ : الْقَصْدُ فِي الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ میں میانہ روی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا , وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا ، تو آپ کی نماز درمیانی ہوتی تھی ، اور آپ کا خطبہ ( بھی ) درمیانہ ( اوسط درجہ کا ) ہوتا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1583]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 13 (866)، سنن الترمذی/الصلاة 247 (507)، (تحفة الأشراف: 2167)، سنن الدارمی/الصلاة 199 (1598)، 200 (1600) (صحیح)
25: بَابُ : الْجُلُوسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ وَالسُّكُوتُ فِيهِ
باب: دونوں خطبوں میں بیٹھنے اور اس میں خاموش رہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا , ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ فِيهَا , ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ خُطْبَةً أُخْرَى، فَمَنْ خَبَّرَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَاعِدًا فَلَا تُصَدِّقْهُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا ، پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس میں بولتے نہیں ، پھر کھڑے ہوتے ، اور دوسرا خطبہ دیتے ، تو جو شخص تمہیں یہ خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1584]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مؤلف کا محض استنباط ہے، جس کی بنیاد عیدین کے خطبہ کو جمعہ کے خطبہ پر قیاس ہے، خاص طور پر عیدین کے خطبہ کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صراحت مروی نہیں ہے، اس لیے بعض علماء جمعہ کے خطبہ پر قیاس کر کے عیدین میں بھی دو خطبے کے قائل ہیں، جب کہ بعض علماء صرف ایک خطبہ کے قائل ہیں، عیدین کے سلسلے میں ایک خطبہ ہی قرین قیاس ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 228 (1095)، (تحفة الأشراف: 2197)، مسند احمد 5/90، 97 (حسن)
26: بَابُ : الْقِرَائَةُ فِي الْخُطْبَةِ الثَّانِيَةِ وَالذِّكْرُ فِيهَا
باب: دوسرے خطبہ میں قرآن پڑھنے اور ذکر الٰہی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا , ثُمَّ يَجْلِسُ , ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلَاتُهُ قَصْدًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ، پھر بیٹھتے ، پھر کھڑے ہوتے ، اور بعض آیتیں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے ، اور آپ کا خطبہ اور آپ کی نماز متوسط ( درمیانی ) ہوا کرتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1585]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1419 (صحیح)
27: بَابُ : نُزُولُ الإِمَامِ عَنْ الْمِنْبَرِ قَبْلَ فَرَاغِهِ مِنْ الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ سے فارغ ہونے سے پہلے امام کے منبر سے اترنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ , إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا السَّلَام , عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ وَحَمَلَهُمَا , فَقَالَ: " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15" رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا , فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى نَزَلْتُ فَحَمَلْتُهُمَا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سرخ قمیص پہنے گرتے پڑتے آتے دکھائی دیے ، آپ منبر سے اتر پڑے ، اور ان دونوں کو اٹھا لیا ، اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے : «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ” تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں “ میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں منبر سے اتر گیا ، اور میں نے ان کو اٹھا لیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1586]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1414 (صحیح)
29: بَابُ : مَوْعِظَةُ الإِمَامِ النِّسَائَ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْ الْخُطْبَةِ وَحَثُّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ
باب: خطبہ سے فارغ ہو کر امام کا عورتوں کو نصیحت کرنے اور انہیں صدقہ و خیرات پر ابھارنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: شَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ، يَعْنِي مِنْ صِغَرِهِ أَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ" فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ , فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُهْوِي بِيَدِهَا إِلَى حَلَقِهَا تُلْقِي فِي ثَوْبِ بِلَالٍ".
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا : کیا آپ عیدین کے لیے جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں ، اور اگر میری آپ سے قرابت نہ ہوتی تو میں آپ کے ساتھ نہ ہوتا یعنی اپنی کم سنی کی وجہ سے ، آپ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے ، تو آپ نے ( وہاں ) نماز پڑھی ، پھر خطبہ دیا ، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے ، اور انہیں بھی آپ نے نصیحت کی اور ( آخرت کی ) یاد دلائی ، اور صدقہ کرنے کا حکم دیا ، تو عورتیں اپنا ہاتھ اپنے گلے کی طرف بڑھانے ( اور اپنا زیور اتار اتار کر ) بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1587]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 32 (98)، الأذان 161 (863)، العیدین 8 (964)، 19 (977)، الزکاة 21 (1431)، 33 (1449)، تفسیر الممتحنة 3 (4895)، النکاح 125 (5249)، الإعتصام 16 (7325)، سنن ابی داود/الصلاة 250 (1146)، (تحفة الأشراف: 5816)، مسند احمد 1/232، 345، 357، 368، وانظر أیضاً حدیث رقم: 1570 (صحیح)
29: بَابُ : الصَّلاةُ قَبْلَ الْعِيدَيْنِ وَبَعْدَهَا
باب: نماز عیدین سے پہلے اور اس کے بعد نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے ، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، نہ تو ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی ، اور نہ ہی ان کے بعد ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1588]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 26 (989)، الزکاة 21 (1431)، اللباس 57 (5881)، 59 (5883)، صحیح مسلم/العیدین 2 (884)، سنن ابی داود/الصلاة 256 (1159)، سنن الترمذی/الصلاة 270 (الجمعة 35) (537)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 160 (1291)، (تحفة الأشراف: 5558)، مسند احمد 1/280، 340، 355، سنن الدارمی/الصلاة 219 (1646) (صحیح)
30: بَابُ : ذَبْحُ الإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ وَعَدَدُ مَا يَذْبَحُ
باب: عید الاضحی کے دن امام کے ذبح کرنے کا اور ذبیحوں کی تعداد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن ہمیں خطبہ دیا ، اور ( اس کے بعد ) آپ دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف جھکے اور انہیں ذبح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1589]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأضاحي 4 (5549)، 9 (5558)، 12 (5561)، 14 (5565)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1962)، سنن ابی داود/الضحایا 4 (2793)، سنن الترمذی/الأضاحي 2 (1494)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 12 (3151)، (تحفة الأشراف: 1455)، مسند احمد 3/113، 117، ویأتی عند المؤلف فی الأضاحي 4393، 4401 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْبَحُ أَوْ يَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ ہی میں ذبح یا نحر کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1590]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 22 (982)، الأضاحي 6 (5552)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 17 (3161)، (تحفة الأشراف: 8261)، مسند احمد 2/108، ویأتی عند المؤلف برقم: 4371 (صحیح)
31: بَابُ : اجْتِمَاعُ الْعِيدَيْنِ وَشُهُودُهُمَا
باب: عید اور جمعہ دونوں کے اکٹھا آ پڑنے اور ان میں حاضر ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ , قُلْتُ: عَنْ أَبِيهِ، قال: نَعَمْ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ وَالْعِيدِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ , وَإِذَا اجْتَمَعَ الْجُمُعَةُ وَالْعِيدُ فِي يَوْمٍ قَرَأَ بِهِمَا".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عید دونوں میں «سبح اسم ربك الأعلى‏» اور «هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے ، اور جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے تو بھی آپ انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1591]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1425 (صحیح)
32: بَابُ : الرُّخْصَةُ فِي التَّخَلُّفِ عَنْ الْجُمُعَةِ لِمَنْ شَهِدَ الْعِيدَ
باب: عید کی نماز پڑھنے والے کے لیے جمعہ سے غیر حاضر رہنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ" أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّى الْعِيدَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ".
ایاس بن ابی رملہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا ، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین میں رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے صبح میں عید کی نماز پڑھی ، پھر آپ نے جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1592]
💡 وضاحت:
۱؎: عیدین سے مراد وہ دن ہے جس میں عید اور جمعہ دونوں ایک ساتھ آ پڑتے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 217 (1070)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 166 (1310)، (تحفة الأشراف: 3657)، مسند احمد 4/372، سنن الدارمی/الصلاة 225 (1653) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، قال: " اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخَّرَ الْخُرُوجَ حَتَّى تَعَالَى النَّهَارُ ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ فَأَطَالَ الْخُطْبَةَ , ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ لِلنَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْجُمُعَةَ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ , فَقَالَ: أَصَابَ السُّنَّةَ".
وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے دور میں دونوں عیدیں ایک ہی دن میں جمع ہو گئیں ، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نکلنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ دن چڑھ آیا ، پھر وہ نکلے ، اور انہوں نے خطبہ دیا ، تو لمبا خطبہ دیا ، پھر وہ اترے اور نماز پڑھی ۔ اس دن انہوں نے لوگوں کو جمعہ نہیں پڑھایا یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا : انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1593]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح صورت حال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اہل مدینہ کے ساتھ جمعہ پڑھا بھی اور انہیں پڑھایا بھی، ہاں دور سے آنے والے لوگوں کو جمعہ میں آنے سے رخصت دے دی، آپ نے فرمایا تھا: «نحن مجمعون» یعنی ہم تو جمعہ پڑھیں گے، (ابوداؤد، ابن ماجہ من حدیث ابوہریرہ وابن عباس) نیز ابھی حدیث رقم ۱۵۹۰ میں گزرا کہ جب عید اور جمعہ ایک ہی دن آ پڑتے تھے تو آپ «سبح اسم ربك الأعلى‏» اور «هل أتاك حديث الغاشية‏» دونوں میں پڑھا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 217 (1071)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6538) (صحیح)
33: بَابُ : ضَرْبُ الدُّفِّ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن دف بجانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ , فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، تو ان دونوں کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈانٹا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں چھوڑو ( بجانے دو ) کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے “ ( جس میں لوگ کھیلتے کودتے اور خوشی مناتے ہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1594]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16669)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 2 (949)، 3 (952)، 25 (987)، الجھاد 81 (2906)، المناقب 15 (3529)، مناقب الأنصار 46 (3931)، صحیح مسلم/العیدین 4 (892)، سنن ابن ماجہ/النکاح 21 (1898)، مسند احمد 6/33، 84، 99، 127، 134 (صحیح)
34: بَابُ : اللَّعِبُ بَيْنَ يَدَيْ الإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن حکمراں کے سامنے کھیلنے کودنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " جَاءَ السُّودَانُ يَلْعَبُونَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَدَعَانِي , فَكُنْتُ أَطَّلِعُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي انْصَرَفْتُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عید کے دن حبشی لوگ آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل کود رہے تھے ، آپ نے مجھے بلایا ، تو میں انہیں آپ کے کندھے کے اوپر سے دیکھ رہی تھی میں برابر دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں ( خود ) ہی لوٹ آئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1595]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17091) صحیح البخاری/الصلاة 69 (454)، العیدین 2 (950)، 25 (988)، الجھاد 81 (2907)، المناقب 15 (2530) النکاح 82 (5190)، 114 (5236)، صحیح مسلم/العیدین 4 (892)، مسند احمد 6/56، 83، 85، 116، 186، 233، 242، 247، 270 (صحیح)
35: بَابُ : اللَّعِبُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْعِيدِ وَنَظَرُ النِّسَائِ إِلَى ذَلِكَ
باب: عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے ، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے ، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی ، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود ( دیکھنے ) کی کتنی حریص ہوتی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1596]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 114 (5236)، (تحفة الأشراف: 16513)، مسند احمد 6/84، 85 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) داخل ہوئے ، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! انہیں چھوڑو ( کھیلنے دو ) یہ ” بنو ارفدہ “ ہی تو ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1597]
💡 وضاحت:
۱؎: بنی ارفدہ حبشیوں کا لقب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13194)، وقد أخرجہ: خ /الجھاد 79 (2901)، صحیح مسلم/العیدین 4 (893)، مسند احمد 2/368، 540 (صحیح)
36: بَابُ : الرُّخْصَةُ فِي الاسْتِمَاعِ إِلَى الْغِنَائِ وَضَرْبُ الدُّفِّ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن گانا سننے اور دف بجانے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّيَانِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: مُتَسَجٍّ ثَوْبَهُ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ , فَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ , إِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَهُنَّ أَيَّامُ مِنًى" وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے ( گھر میں ) داخل ہوئے ، ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں ، اور گانا گا رہی تھیں ۱؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ اپنے کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے ، تو آپ نے اپنا چہرہ کھولا ، اور فرمایا : ” ابوبکر ! انہیں چھوڑو کھیلنے دو ، یہ عید کے دن ہیں ، اور منیٰ کے دن تھے “ ۲؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مدینہ میں تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1598]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ گانا کوئی فحش گانا نہیں تھا، بلکہ ان کے آباء و اجداد کی بہادری کے قصے تھے، فحش گانے کسی بھی صورت میں اور کسی بھی موقع پر جائز نہیں، نیز جائز گانوں میں بھی موسیقی کی آمیزش ہو تو جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16609) (صحیح)
← پچھلی کتاب #22 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #24 →