سنن النسائي حدیث نمبر: 1595
Sunan an-Nasa'i 1595
کتاب #23: کتاب: عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) کی نماز کے احکام و مسائل
34: بَابُ : اللَّعِبُ بَيْنَ يَدَيْ الإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن حکمراں کے سامنے کھیلنے کودنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " جَاءَ السُّودَانُ يَلْعَبُونَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَدَعَانِي , فَكُنْتُ أَطَّلِعُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي انْصَرَفْتُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عید کے دن حبشی لوگ آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل کود رہے تھے ، آپ نے مجھے بلایا ، تو میں انہیں آپ کے کندھے کے اوپر سے دیکھ رہی تھی میں برابر دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں ( خود ) ہی لوٹ آئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1595]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17091) صحیح البخاری/الصلاة 69 (454)، العیدین 2 (950)، 25 (988)، الجھاد 81 (2907)، المناقب 15 (2530) النکاح 82 (5190)، 114 (5236)، صحیح مسلم/العیدین 4 (892)، مسند احمد 6/56، 83، 85، 116، 186، 233، 242، 247، 270 (صحیح)