سنن النسائي حدیث نمبر: 1597
Sunan an-Nasa'i 1597
کتاب #23: کتاب: عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) کی نماز کے احکام و مسائل
35: بَابُ : اللَّعِبُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْعِيدِ وَنَظَرُ النِّسَائِ إِلَى ذَلِكَ
باب: عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) داخل ہوئے ، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! انہیں چھوڑو ( کھیلنے دو ) یہ ” بنو ارفدہ “ ہی تو ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1597]
💡 وضاحت:
۱؎: بنی ارفدہ حبشیوں کا لقب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13194)، وقد أخرجہ: خ /الجھاد 79 (2901)، صحیح مسلم/العیدین 4 (893)، مسند احمد 2/368، 540 (صحیح)