📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) کی نماز کے احکام و مسائل (كتاب صلاة العيدين) 🏷️ باب: باب: عیدین کے لیے زیب و زینت کا بیان۔
عربی:
اردو:
5: بَابُ : الزِّينَةِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کے لیے زیب و زینت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ , أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" , فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ , فَأَقْبَلَ بِهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قُلْتَ: إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ , ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْهَا وَتُصِبْ بِهَا حَاجَتَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں موٹے ریشمی کپڑے کا ایک جوڑا ( بکتے ہوئے ) پایا ، تو اسے لیا ، اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اسے خرید لیں ، اور عید کے لیے اور وفود سے ملتے وقت اسے پہنیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا ، یا اسے تو وہی پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا “ ، تو عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس باریک ریشمی کپڑے کا ایک جبہ بھیجا ، تو وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ، پھر آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے بیچ دو ، اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1561]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ تم خود اسے پہنو، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ بیچ کر تم اس کی قیمت اپنی ضرورت میں صرف کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1077)، اللباس 10 (4040)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #1561
1559 1560 1561 1562 1563
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ