سنن النسائي حدیث نمبر: 1558
Sunan an-Nasa'i 1558
کتاب #23: کتاب: عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) کی نماز کے احکام و مسائل
2: بَابُ : الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدَيْنِ مِنَ الْغَدِ
باب: عیدالفطر کی نماز کے لیے (کسی سبب سے) دوسرے دن نکلنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ، أَنَّ قَوْمًا رَأَوْا الْهِلَالَ , فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ , وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْغَدِ".
ابو عمیر بن انس اپنے ایک چچا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور آپ سے اس کا ذکر کیا ) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں ، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1558]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 255 (1157)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1653)، (تحفة الأشراف: 15603)، مسند احمد 5/57، 58 (صحیح)