📖 جامع الترمذي (Jami at-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

كتاب القراءات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم

کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت

کتاب #47 • کل احادیث: 27
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ، يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ثُمَّ يَقِفُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3 ثُمَّ يَقِفُ، وَكَانَ يَقْرَؤُهَا مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَبِهِ يَقْرَأُ أَبُو عُبَيْدٍ وَيَخْتَارُهُ، وَهَكَذَا رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، وَغَيْرُهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، لِأَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ سَلمَةَ، أَنَّهَا وَصَفَتْ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرْفًا حَرْفًا، وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَكَانَ يَقْرَأُ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے ، آپ : «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے ، پھر رک جاتے ، پھر «الرحمن الرحيم» پڑھتے پھر رک جاتے ، اور «ملك يوم الدين» پڑھتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ابو عبید بھی یہی پڑھتے تھے اور اسی کو پسند کرتے تھے ۲؎ ، ¤ ۳- یحییٰ بن سعید اموی اور ان کے سوا دوسرے لوگوں نے ابن جریج سے اور ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے ام سلمہ سے اسی طرح روایت کی ہے ، اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے ، کیونکہ لیث بن سعد نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک سے انہوں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی کیفیت ایک ایک حرف الگ کر کے بیان کی ۔ لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور لیث کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «ملك يوم الدين»“ پڑھتے تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2927]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یعنی «مالک یوم الدین» کی جگہ «ملک یوم الدین» پڑھتے تھے۔
۲؎: یعنی: ابوعبید قاسم بن سلام «مالک یوم الدین» کے بجائے «ملک یوم الدین» کو پڑھنا پسند کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (343)، المشكاة (2205)، صفة الصلاة، مختصر الشمائل (270)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2927) إسناده ضعيف / د 4001 ¤ ابن جريح عنعن (تقدم:674) وحديث أحمد (288/6، الموسوعة الحديثية 46/44 ح 26451) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الحروف والقراءت (4001) (تحفة الأشراف: 18183) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأُرَاهُ قَالَ: وَعُثْمَانَ: " كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيِّ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ: " كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 "، وَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ " كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما ( راوی زہری کہتے ہیں کہ ) اور میرا خیال ہے کہ انس رضی الله عنہ نے عثمان رضی الله عنہ کا بھی نام لیا کہ یہ سب لوگ «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں صرف اس شیخ یعنی ایوب بن سوید رملی کی روایت سے ہی جانتے ہیں ، ¤ ۳- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) نے یہ حدیث زہری سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے ۔ اور عبدالرزاق نے معمر سے ، معمر نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے ، ( یعنی : اس کو مرفوعاً صرف ایوب بن سوید ہی نے روایت کیا ہے ، اور وہ ضعیف ہیں ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2928]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2928) إسناده ضعيف /د 4000 أيوب بن سويد:ضعيف على الراجع (د 5120)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1570) (ضعیف الإسناد) (سند میں ”ایوب بن محمد الرملی“ روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اس روایت میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ ”الزہري عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرسلاً“ ہے جیسا کہ مولف نے وضاحت کی ہے، مگر دیگر سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى بن يزيد: وهذا حديث حسن غريب، قَالَ مُحَمَّدٌ: تَفَرَّدَ ابْنُ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَهَكَذَا قَرَأَ أَبُو عُبَيْدٍ، وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ سورة المائدة آية 45 اتِّبَاعًا لِهَذَا الْحَدِيثِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا : «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ۱؎ «بالعين» ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ابوعلی بن یزید ، یونس بن یزید کے بھائی ہیں ، ¤ ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : اس حدیث کو یونس بن یزید سے روایت کرنے میں ابن مبارک منفرد ( تنہا ) ہیں ، ¤ ۴- اور ابو عبید ( قاسم بن سلام ) نے اس حدیث کی اتباع میں اس طرح ( «العين » «بالعين» ) پڑھا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2929]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: «العینُ» کی نون پر پیش کے ساتھ، جبکہ یہ «النفس» پر عطف ہے جس کا تقاضا ہے کہ نون پر بھی زبر (فتحہ) پڑھا جائے۔
۲؎: جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے (المائدہ: ۴۵)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (854 / 3976) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2929) إسناده ضعيف / د 3977، 3976
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى بن يزيد: وهذا حديث حسن غريب، قَالَ مُحَمَّدٌ: تَفَرَّدَ ابْنُ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَهَكَذَا قَرَأَ أَبُو عُبَيْدٍ، وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ سورة المائدة آية 45 اتِّبَاعًا لِهَذَا الْحَدِيثِ.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے یونس بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2929M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (854 / 3976) //
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ " هَلْ تَسْتَطِيعُ رَبَّكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَالْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «هل تستطيع ربك» ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف رشدین کی حدیث سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اور اس کی سند قوی نہیں ہے ، رشدین بن سعد اور ( عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ) افریقی دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2930]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور قراءت یوں ہے «هل يستطيع ربك» یعنی یاء تحتانیہ اور راء کے اوپر ضمہ کے ساتھ پوری آیت اس طرح ہے «هل يستطيع ربك أن ينزل علينا مآئدة من السماء» (المائدہ: ۱۱۲) اور اس حدیث میں مذکور قراءت کسائی کی ہے، معنی ہو گا کیا تو اپنے رب سے مانگنے کی طاقت رکھتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2930) إسناده ضعيف ¤ رشدين وابن أنعم الافريقي ضعيفان (تقدما: 54)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11337) (ضعیف الإسناد) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)
2: باب وَمِنْ سُورَةِ هُودٍ
باب: سورۃ ہود کی قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَؤُهَا إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ سورة هود آية 46 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ نَحْوَ هَذَا، وَهُوَ حَدِيثُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَن شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ هِيَ أُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي وَاحِدٌ، وَقَدْ رَوَى شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ غَيْرَ حَدِيثٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ وَهِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.
ام سلمہ ۱؎ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے «إنه عمل غير صالح» ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اسی طرح کئی ایک رواۃ نے ثابت بنانی سے اس حدیث کی روایت کی ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے اسماء بنت یزید کے واسطہ سے بھی روایت کی گئی ہے ، ¤ ۳- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اسماء بنت یزید ہی ام سلمہ انصاریہ ہیں ، ¤ ۴- یہ دونوں ہی حدیثیں میرے نزدیک ایک ہیں ، ¤ ۵- شہر بن حوشب نے کئی حدیثیں ام سلمہ انصاریہ سے روایت کی ہیں ، اور ام سلمہ انصاریہ یہی اسماء بنت یزید ہیں ، ¤ ۶- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2931]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا نہیں ہیں، بلکہ انصاریہ صحابیہ ہیں، لیکن مسند احمد کی بعض روایات میں ام المؤمنین کا اضافہ سے مزی نے اس حدیث کو دونوں ترجمہ میں ذکر کیا ہے۔
۲؎: نوح علیہ السلام کے بیٹے نے غیر صالح عمل کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2809)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الحروف (3982، و 2983) (تحفة الأشراف: 18163/الف)، و مسند احمد (6/459) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 2809)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَحَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ سورة هود آية 46 ".
ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی : «إنه عمل غير صالح» ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2932]
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 2809)
3: باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ
باب: سورۃ الکہف میں «من لدنی» میں نون کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ بَصْرِيٌ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " قَرَأَ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا سورة الكهف آية 76 مُثَقَّلَةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ثِقَةٌ، وَأَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ شَيْخٌ مَجْهُولٌ وَلَا نَعْرِفُ اسْمَهُ.
ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا : «قد بلغت من لدني عذرا» ۱؎ یعنی «لدني» کو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- امیہ بن خالد ثقہ ہیں ، ¤ ۳- ابوالجاریہ عبدی مجہول شیخ ہیں ، ہم ان کا نام نہیں جانتے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2933]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور قراءت اسی طرح ہے یعنی نون پر تشدید کے ساتھ لیکن نافع وغیرہ نے اس کو اس طرح پڑھا ہے «مِنْ لَدُنِیْ» یعنی نون پر صرف سادہ زیر کے ساتھ بہرحال معنی ایک ہی ہے، یعنی یقیناً آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے۔ (الکہف: ۷۶)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (856 / 3985) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2933) إسناده ضعيف / د 3985
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الحروف (3985) (تحفة الأشراف: 42) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو الجاریہ عبدی مجہول راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ سورة الكهف آية 86 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِرَاءَتُهُ وَيُرْوَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ اخْتَلَفَا فِي قِرَاءَةِ هَذِهِ الْآيَةِ وَارْتَفَعَا إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي ذَلِكَ، فَلَوْ كَانَتْ عِنْدَهُ رِوَايَةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاسْتَغْنَى بِرِوَايَتِهِ وَلَمْ يَحْتَجْ إِلَى كَعْبٍ وَمِنْ سُورَةِ الرُّومِ.
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «في عين حمئة» پڑھا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- صحیح ابن عباس کی قرأت ہے جو ان سے مروی ہے ، ¤ ۳- مروی ہے کہ ابن عباس اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم دونوں نے اس آیت کی قرأت میں آپس میں اختلاف کیا ، اور اپنا معاملہ ( فیصلہ کے لیے ) کعب احبار کے پاس لے گئے ۔ اگر ان کے پاس اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت ہوتی تو وہ روایت ان کے لیے کافی ہوتی ، اور کعب احبار کی طرف انہیں رجوع کی حاجت نہ رہتی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2934]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی مشہور قراءت ہے، یعنی: «حَمِئَةٍ» حاء کے بعد بغیر الف کے، جبکہ بعض قراء کی قراءت «حَامِئَةٍ» یعنی حاء کے بعد الف غیر مہموزہ کے ساتھ، بہرحال معنی ہے: اور سورج کو ایک دلدل کے چشمے میں ڈوبتا پایا۔ (الکہف: ۸۶)
قال الشيخ الألباني: صحيح المتن
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2934) إسناده ضعيف / د 3986
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الحروف (3986) (تحفة الأشراف: 43) (ضعیف الإسناد) (سند میں سعد بن اوس سے غلطیاں ہو جایا کرتی تھیں، اور مصدع لین الحدیث ہیں، مگر اس حدیث کا متن دیگر سندوں سے ثابت ہے)
4: باب وَمِنْ سُورَةِ الرُّومِ
باب: سورۃ الروم کے شانِ نزول کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ظَهَرَتْ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ الْمُؤْمِنِينَ، فَنَزَلَتْ الم {1} غُلِبَتِ الرُّومُ {2} إِلَى قَوْلِهِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ سورة الروم آية 1 ـ 4، قَالَ: يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِظُهُورِ الرُّومِ عَلَى فَارِسَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَيُقْرَأُ غَلَبَتْ وَغُلِبَتْ، يَقُولُ: كَانَتْ غُلِبَتْ ثُمَّ غَلَبَتْ، هَكَذَا قَرَأَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ غَلَبَتْ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر رومی ( اہل کتاب نصاریٰ ) اہل فارس ( آتش پرست مجوسیوں ) پر غالب آ گئے ۔ تو یہ چیز مسلمانوں کو بڑی پسند آئی اور اسی موقع پر ( «الم غلبت الروم» سے «يفرح المؤمنون» ) تک کی آیات نازل ہوئیں ۱؎ ۔ چنانچہ مسلمان اہل روم کے اہل فارس پر غلبہ سے خوش ہوئے ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- «غَلَبَتْ» اور «غُلِبَتْ» دونوں پڑھا جاتا ہے ۔ کہتے ہیں : اہل روم پہلے مغلوب ہوئے پھر غالب آ گئے ، ایسے ہی نصر بن علی نے «غَلَبَتْ» پڑھا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2935]
💡 وضاحت:
۱؎: «الم» رومی مغلوب ہو گئے ہیں نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے، چند سال میں ہی، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے، اس روز مسلمان خوش ہوں گے۔ (الروم: ۱-۴)
۲؎: اس لیے کہ مسلمان اہل کتاب (قرآن والے) تھے اور رومی بھی اہل کتاب (انجیل والے) تھے، اور اہل فارس کافر و مشرک تھے جیسے اہل مکہ کافر و مشرک تھے۔ ان کی خوشی ادنی موافقت کی بنا پر تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح وسيأتي برقم (3420)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2935) إسناده ضعيف ¤ عطية العوفى (تقدم: 477) سليمان الأعمش و سليمان التيمي مدلسان وعنعنا (تقدما: 169، 2035) والأحاديث الأتية:الأصل:3193۔ 3194 تغني عنه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4208) (صحیح) (عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ» ( ضاد کے فتحہ کے ساتھ ) پڑھا تو آپ نے فرمایا : «مِنْ ضَعْفٍ» نہیں «مِنْ ضُعْفٍ» ۱؎ ( ضاد کے ضمہ کے ساتھ ) پڑھو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف فضیل بن مرزوق کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2936]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی مشہور قراءت ہے، اور ضاد کے فتحہ کے ساتھ عاصم اور حمزہ کی قراءت ہے، یعنی ہے: اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا۔ (الروم: ۵۴)
قال الشيخ الألباني: حسن، الروض النضير (530)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2936) إسناده ضعيف / د 3978 ¤ عطية العوفي ضعيف (تقدم: 477)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا یزید بن ہارون نے اور یزید بن ہارون نے فضیل بن مرذوق سے کی حدیث روایت کی فضل بن مرذوق نے عطیہ سے اور عطیہ نے ابن عمر کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2936M]
قال الشيخ الألباني: حسن، الروض النضير (530)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (حسن)
5: باب وَمِنْ سُورَةِ الْقَمَرِ
باب: سورۃ القمر میں «مدکر» کو دال مہملہ سے پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» ۱؎ پڑھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2937]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی مشہور قراءت ہے یعنی دال مہملہ کے ساتھ اس کی اصل ہے «مُذْ تَکِر» (بروزن «مُجْتَنِب» تاء کو دال مہملہ سے بدل دیا اور ذال کو دال میں مدغم کر دیا تو «مُدَّکِر» ہو گیا، بعض قراء نے «ُمُذَّکِر» (ذال معجم کے ساتھ) پڑھا ہے بہرحال معنی ہے: پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا (القمر: ۴۰)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء 3 (3341)، وتسیر سورة القمر 2 (487 2- 4874)، صحیح مسلم/المسافرین 50 (823)، سنن ابی داود/ الحروف (2994) (تحفة الأشراف: 9179) (صحیح)
6: باب وَمِنْ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ
باب: سورۃ الواقعہ میں «فروح» کو راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ سورة الواقعة آية 89 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَارُونَ الْأَعْوَرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فروح وريحان وجنة نعيم» ۱؎ پڑھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اسے ہم صرف ہارون اعور کی روایت سے ہی جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2938]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور قراءت «فَرَوحٌ» (راء پر فتحہ کے ساتھ) ہے، یعقوب کی قراءت راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، فتحہ کی صورت میں معنی ہے اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے، اور ضمہ کی صورت میں معنی ہو گا: اس کی روح پھولوں اور آرام والی جنت میں نکل کر جائیگی (الواقعہ: ۸۹)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الحروف (3991) (تحفة الأشراف: 16204) (صحیح الإسناد)
7: باب وَمِنْ سُورَةِ اللَّيْلِ
باب: سورۃ اللیل میں «واللیل إذا یغشی والذکر والأنثی» کی قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ: " أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: فَأَشَارُوا إِلَيَّ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، فَقَال أَبُو الدَّرْدَاءِ: وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونَنِي أَنْ أَقْرَأَهَا وَمَا خَلَقَ سورة الليل آية 3 فَلَا أُتَابِعُهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0.
علقمہ کہتے ہیں کہ ہم شام پہنچے تو ابوالدرواء رضی الله عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا : کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو عبداللہ بن مسعود کی قرأت کی طرح پر قرأت کرتا ہو ؟ تو لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا ، میں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : تم نے یہ آیت «والليل إذا يغشى» عبداللہ بن مسعود کو کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے انہیں «والليل إذا يغشى والذكر والأنثى» ۱؎ پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔ ابو الدرداء نے کہا : اور میں ، قسم اللہ کی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے ، اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اسے «وما خلق» پڑھوں ( یعنی «وما خلق والذكر والأنثى» ) تو میں ان کی بات نہ مانوں گا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- عبداللہ بن مسعود کی قرأت بھی اسی طرح ہے : «والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى والذكر والأنثى» [سنن ترمذي/حدیث: 2939]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور قراءت ہے «والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى وما خلق الذكر والأنثى» حدیث میں مذکور قراءت اس میں مذکور اشخاص ہی کی ہے، ان کے علاوہ اور کسی بھی قاری سے یہ منقول نہیں ہے، عثمان رضی الله عنہ کے قراءت شاید اس کے منسوخ ہو جانے کی خبر پہنچی ہو جو ان مذکورہ اشخاص تک نہیں پہنچی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة اللیل 1 (4944)، صحیح مسلم/المسافرین 50 (824) (تحفة الأشراف: 10955) (صحیح)
8: باب وَمِنْ سُورَةِ الذَّارِيَاتِ
باب: سورۃ الذاریات میں «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھایا ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2940]
💡 وضاحت:
۱؎: جب کہ مشہور قرأت «إن الله هو الرزاق ذو القوة المتين» ہے، یعنی: اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے (الذاریات: ۵۸)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح المتن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الحروف (3993) (تحفة الأشراف: 9389) (صحیح)
9: باب وَمِنْ سُورَةِ الْحَجِّ
باب: سورۃ الحج میں «وترى الناس سكارى وما هم بسكارى» کی قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى سورة الحج آية 2 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِقَتَادَةَ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ أَنَسٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ، إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرٍ فَقَرَأَ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ سورة الحج آية 1 "، الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَحَدِيثُ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عِنْدِي مُخْتَصَرٌ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا : «وترى الناس سكارى وما هم بسكارى» ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- قتادہ صحابہ میں سے انس ابوطفیل کے علاوہ کسی اور صحابی سے ہم سماع نہیں جانتے ، ¤ ۳- یہ روایت میرے نزدیک مختصر ہے ۔ پوری روایت اس طرح ہے : روایت کی گئی قتادہ سے ، قتادہ نے روایت کی حسن بصری سے ، اور حسن بصری نے روایت کی عمران بن حصین سے ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو آپ نے آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم» ۲؎ پڑھی ، ( آگے ) پوری حدیث بیان کی ، ¤ ۴- حکم بن عبدالملک کی حدیث میرے نزدیک اس حدیث سے مختصر ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2941]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی مشہور قراءت ہے، جس کے معنی ہیں: اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش اور بدمست دکھائی دیں گے، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے، بعض اور قاریوں نے اسے «سَکْرَی» پڑھا ہے۔
۲؎: الحج: ۱۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10837) (صحیح)
10: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ، فَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے یا تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ، بلکہ یہ کہو کہ وہ بھلا دیا گیا ۱؎ تم قرآن یاد کرتے دھراتے رہو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل بھاگنے میں چوپایوں کے اپنی رسی سے نکل بھاگنے کی بہ نسبت زیادہ تیز ہے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2942]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت نہی تحریمی نہیں ہے، بلکہ نہی تنزیہی ہے یعنی: ایسا نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ اس سے اپنی سستی اور قرآن سے غفلت کا خود ہی اظہار ہے، یا یہ مطلب ہے کہ ایسا موقع ہی نہ آنے دے کہ یہ بات کہنے کی نوبت آئے بعض روایات میں میں بھول گیا کہنا بھی ملتا ہے، اس لیے مذکورہ ممانعت نہی تنزیہی پر محمول کی گئی ہے۔ یعنی ایسا نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
۲؎: معلوم ہوا کہ قرآن کو باربار پڑھتے اور دہراتے رہنا چاہیئے، کیونکہ قرآن جس طرح جلد یاد ہوتا ہے اسی طرح جلد ذہن سے نکل جاتا ہے، اس لیے قرآن کوبار بار پڑھنا اور اس کا دہرانا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الظلال (422)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5032)، و 26 (5039)، صحیح مسلم/المسافرین 33 (790)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (944) (تحفة الأشراف: 9295)، و مسند احمد (1/382، 417، 423، 463439)، وسنن الدارمی/فضائل القرآن 4 (3390)، والرقاق 32 (2787) (صحیح)
11: باب مَا جَاءَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
باب: قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: مَرَرْتُ بِهِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ، لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَنَظَرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا؟ فَقَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي تَقْرَؤُهَا، فَانْطَلَقْتُ أَقُودُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ، اقْرَأْ يَا هِشَامُ "، فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ "، ثُمَّ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ يَا عُمَرُ "، فَقَرَأْتُ بِالْقِرَاءَةِ الَّتِي أَقْرَأَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ.
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے : میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا ، وہ سورۃ الفرقان پڑھ رہے تھے ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے ، میں نے ان کی قرأت سنی ، وہ ایسے حرفوں پر پڑھ رہے تھے ، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا ہی نہ تھا ۔ قریب تھا کہ میں ان پر حملہ کر دیتا مگر میں نے انہیں ( نماز پڑھ لینے تک کی ) مہلت دی ۔ جونہی انہوں نے سلام پھیرا میں نے ان کو انہیں کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر گھسیٹا ، میں نے ان سے پوچھا : یہ سورۃ جسے میں نے تمہیں ابھی پڑھتے ہوئے سنا ہے ، تمہیں کس نے پڑھائی ہے ؟ کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے ۔ میں نے کہا : تم غلط کہتے ہو ، قسم اللہ کی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی مجھے یہ سورۃ پڑھائی جو تم پڑھ رہے تھے ۱؎ ، میں انہیں کھینچتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے حرفوں ( طریقوں ) پر پڑھتے ہوئے سنا ہے جن پر آپ نے مجھے پڑھنا نہیں سکھایا ہے جب کہ آپ ہی نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھایا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! انہیں چھوڑ دو ، ہشام ! تم پڑھو “ ۔ تو انہوں نے وہی قرأت کی جو میں نے ان سے سنی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، ایسی ہی نازل ہوئی ہے “ ۔ پھر مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! تم پڑھو “ ، تو میں نے اسی طرح پڑھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھایا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اسی طرح نازل کی گئی ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے ۲؎ ، تو جو قرأت تمہیں آسان لگے اسی قرأت پر تم قرآن پڑھو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- مالک بن انس نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے ، لیکن انہوں نے اپنی روایت میں مسور بن مخرمہ کا ذکر نہیں کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2943]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن جس طرح تم پڑھ رہے تھے اس طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھایا، اس لیے تم غلط گو ہو۔
۲؎: سات حرفوں پر قرآن کے نازل ہونے کے مطلب میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں، لیکن سب سے راجح مطلب یہ ہے کہ ایک ہی لفظ کی ادائیگی (لہجہ) یا اس کے ہم معنی دوسرے لفظ کا استعمال مراد ہے جیسے بعض قبائل «حَتّٰی حِیْنَ» کو عین سے «عتّٰی حِیْنَ» پڑھتے تھے، اور جیسے «سُکٰریٰ» کو «سَکْرٰی» یا «سکر» پڑھتے تھے وغیرہ وغیرہ تو جس قبیلے کا جس لفظ میں جو لہجہ تھا اس کو پڑھنے کی اجازت دیدی گئی تاکہ قرآن پڑھنے میں لوگوں کو آسانی ہو، لیکن اس کا معنی یہ بھی نہیں ہے کہ قرآن کے ہر لفظ میں سات لہجے یا طریقے ہیں، کسی میں دو، کسی میں چار، اور شاذ و نادر کسی میں سات لہجے ہیں، زیادہ تر میں صرف ایک ہی لہجہ ہے، عثمان رضی الله عنہ نے سب ختم کر کے ایک لہجہ یعنی قریش کی زبان پر قرآن کو جمع کر کے باقی سب کو ختم کرا دیا تھا، تاکہ اب اس طرح کا جھگڑا ہی نہ ہو، «فجزاہ اللہ عن الاسلام خیراً» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1325)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخصومات 4 (2419)، وفضائل القرآن 5 (4992)، و 27 (5041)، والمرتدین 9 (6936)، والتوحید 53 (7550)، صحیح مسلم/المسافرین 48 (818)، سنن ابی داود/ الصلاة 357 (1475)، سنن النسائی/الإفتتاح 37 (937-939) (تحفة الأشراف: 10591 و10642)، وط/القرآن 4 (5) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فَقَالَ: " يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ، مِنْهُمُ الْعَجُوزُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ، وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ، قَالَ: " يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " وَفِي الْبَابِ، عَنْ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ أَيُّوبَ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، وَسَمُرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَأَبِي بَكْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے ملے ۔ آپ نے فرمایا : ” جبرائیل ! میں ایک امی ( ان پڑھ ) قوم کے پاس نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ، ان میں بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد ہیں ، لڑکے اور لڑکیاں ہیں ، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کبھی کوئی کتاب پڑھی ہی نہیں ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا : محمد ! قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، حذیفہ بن یمان ، ابوہریرہ ، اور ام ایوب رضی الله عنہم ام ایوب ( ابوایوب انصاری کی بیوی ) ۔ اور سمرہ ، ابن عباس ، ابوجہیم بن حارث بن صمہ ، عمرو بن العاص اور ابوبکرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- ابی بن کعب سے یہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2944]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، صحيح أبي داود (1328)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 20)، وانظر: مسند احمد (5/114، 122، 125) (حسن صحیح)
12: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا قَعَدَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنے بھائی کی کوئی دنیاوی مصیبت دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کوئی نہ کوئی مصیبت دور فرمائے گا ۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ۔ تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی کرے گا ، اور جس نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی ، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا ۔ اللہ اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ، اور جو ایسی راہ چلتا ہے جس میں اسے علم کی تلاش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ ہموار کر دیتا ہے اور جب قوم ( لوگ ) مسجد میں بیٹھ کر کلام اللہ ( قرآن ) کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے پڑھتے پڑھاتے ( سمجھتے سمجھاتے ) ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے ، انہیں رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے ۔ ملائکہ انہیں اپنے گھیرے میں لیے رہتے ہیں ، جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ایسے ہی کئی رواۃ نے اسی حدیث کی طرح اعمش سے اعمش نے ابوصالح کے واسطہ سے ، اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ¤ ۲- اسباط بن محمد نے بھی اعمش سے روایت کی ہے ، ( اس روایت میں ہے کہ ) اعمش کہتے ہیں : مجھ سے بیان کیا گیا ہے ۲؎ ابوصالح کے واسطہ سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں پھر اس حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2945]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ کہنا کہ میں فلاں خاندان کا ہوں، اس کے کہنے اور سمجھنے سے اس کا رتبہ و مرتبہ بلند نہیں ہو جائے گا، بلند ہو گا تو قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے ہو گا۔
۲؎: یعنی اس سند میں اعمش اور ابوصالح کے درمیان ایک اور راوی کا واسطہ ہے، جبکہ پہلی سند میں اعمش کی ابوصالح سے براہ راست روایت ہے، اور اعمش ابوصالح سے براہ راست روایت کرتے ہیں، بلکہ اعمش تو ابوصالح کے راویہ (بہت بڑے راوی) ہیں حتیٰ کہ ابوصالح سے روایت میں اعمش کے عنعنہ کو بھی تحدیث (براہ راست سماع) پر محمول کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (225)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 2646 (صحیح)
13: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: " اخْتِمْهُ فِي شَهْرٍ "، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " اخْتِمْهُ فِي عِشْرِينَ "، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " اخْتِمْهُ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ "، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: " اخْتِمْهُ فِي عَشْرٍ "، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: اخْتِمْهُ فِي خَمْسٍ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَمَا رَخَّصَ لِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوًجْهِ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ "، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ "، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَلَا نُحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَأْتِيَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَلَمْ يَقْرَأْ الْقُرْآنَ لِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يُقْرَأُ الْقُرْآنُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ لِلْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَرُوِي عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ يُوتِرُ بِهَا، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ فِي الْكَعْبَةِ، وَالتَّرْتِيلُ فِي الْقِرَاءَةِ أَحَبُّ إِلَى أَهْلِ الْعِلْمِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھ ڈالوں ؟ آپ نے فرمایا : ” مہینے میں ایک بار ختم کرو “ ، میں نے کہا میں اس سے بڑھ کر ( یعنی کم مدت میں ) ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” تو بیس دن میں ختم کرو “ ۔ میں نے کہا : میں اس سے زیادہ کی یعنی اور بھی کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” پندرہ دن میں ختم کر لیا کرو “ ۔ میں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” دس دن میں ختم کر لیا کرو “ ۔ میں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” پانچ دن میں ختم کر لیا کرو “ ۔ میں نے کہا : میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ تو آپ نے مجھے پانچ دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث بطریق : «أبي بردة عن عبد الله بن عمرو» غریب سمجھی گئی ہے ، ¤ ۳- یہ حدیث کئی سندوں سے عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے ۔ عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن تین دن سے کم مدت میں پڑھا ، اس نے قرآن کو نہیں سمجھا “ ، ¤ ۴- عبداللہ بن عمرو سے ( یہ بھی ) مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” قرآن چالیس دن میں پڑھ ڈالا کرو “ ، ¤ ۵- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : ہم اس حدیث کی بنا پر کسی آدمی کے لیے یہ پسند نہیں کرتے کہ اس پر چالیس دن سے زیادہ گزر جائیں اور وہ قرآن پاک ختم نہ کر چکا ہو ، ¤ ۶- اس حدیث کی بنا پر جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ تین دن سے کم مدت میں قرآن پڑھ کر نہ ختم کیا جائے ، ¤ ۷- اور بعض اہل علم نے اس کی رخصت دی ہے ، ¤ ۸- اور عثمان بن عفان سے متعلق ہے مروی ہے کہ وہ وتر کی ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ ڈالتے تھے ، ¤ ۹- سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کعبہ کے اندر ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھا ، ¤ ۱۰- قرأت میں ترتیل ( ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا ) اہل علم کے نزدیک پسندیدہ ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2946]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک دن یا تین دن میں ختم کرنے سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا اور تلاوت کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد، وقد، الصحيحة أنه قال له: " اقرأه في كل ثلاث "، صحيح أبي داود (1255) // (1237 / 1388) //، صحيح أبي داود (1260) // (1242 / 1394) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2946) إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن (تقدم:107)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 8956) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابواسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، نیز حدیث میں یہ ہے کہ اختمه في خمس یعنی پانچ دن میں قرآن ختم کرو، عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کم دن میں قرآن ختم کرنے کی مجھے اجازت نہیں دی، امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ غرابت بسند ابو بردة عن عبداللہ بن عمرو ہے، واضح رہے کہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا کہ اقرأ القرآن في كل شهر قال: إني أطيق أكثر فما زال حتى قال: $في ثلاث# تم ہر مہینے میں قرآن ختم کرو، تو انہوں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اور برابر یہ کہتے رہے کہ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تین دن میں قرآن ختم کرو“ (صحیح البخاری/الصیام 54 (1978)، اور صحیح بخاری (فضائل القرآن 34 5054)، اور صحیح مسلم (صیام 35 /182) وأبوداو سنن ابی داود/ الصلاة 325 (1388) میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے: فاقرأه في كل سبع ولا تزد على ذلك یعنی ہر سات دن پر قرآن ختم کرو، اور اس سے زیادہ نہ کرو، تو اس سے پتہ چلا کہ فما رخص لي مجھے پانچ دن سے کم کی اجازت نہیں سنن الدارمی/ کا جملہ شاذ ہے، اور تین دن میں قرآن ختم کرنے کی اجازت محفوظ اور ثابت ہے، اور ایسے ہی دوسری روایت میں سات دن ختم کرنے کی اجازت ہے) اور سبب ضعف ابواسحاق السبیعی ہیں)۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَرْبَعِينَ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” چالیس دن میں قرآن پورا پڑھ لیا کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- بعضوں نے معمر سے ، اور معمر نے سماک بن فضل کے واسطہ سے وہب بن منہہ سے روایت کی ہے ، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کو حکم دیا کہ وہ قرآن چالیس دن میں پڑھا کریں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2947]
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1261)، الصحيحة (1512)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة 326 (1395) (تحفة الأشراف: 8944) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ الْهَيْثَمِ بْنِ الرَّبِيعِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : «الحال» اور «المرتحل» ( اترنے اور کوچ کرنے والا ) عمل ۔ اس نے کہا : «الحال» اور «المرتحل» ( اترنے اور کوچ کرنے والا ) سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جو قرآن شروع سے لے کر آخر تک پڑھتا ہے ، جب بھی وہ اترتا ہے کوچ کر دیتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف ابن عباس رضی الله عنہما کی اس روایت سے جانتے ہیں جو اس سند سے آئی ہے اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2948]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے جو قاری مسافر کے مثل اپنی منزل تک پہنچ کر پھر نئے سرے سے سفر کا آغاز کر دیتا ہے۔ یعنی ایک بار قرآن ختم کرے دوبارہ شروع کر دیتا ہے اس کا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2948) إسناده ضعيف ¤ صالح المري: ضعيف (تقدم:2133)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18653) (ضعیف) (سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، اس لیے کہ زرارہ تابعی ہیں، اور انہوں نے روایت میں واسطہ نہیں ذکر کیا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ الْهَيْثَمِ بْنِ الرَّبِيعِ.
مجھ سے بیان کیا محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا مجھ سے مسلم بن ابراہیم نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا مجھ سے صالح مری نے قتادہ کے واسطہ سے اور قتادہ نے زرارہ بن اوفی کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی جیسی اسی معنی کی حدیث روایت کی ، لیکن اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ روایت میرے نزدیک نضر بن علی کی اس روایت سے جسے وہ ہیثم بن ربیع سے روایت کرتے ہیں ( یعنی : پہلی سند سے ) زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2948M]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے جو قاری مسافر کے مثل اپنی منزل تک پہنچ کر پھر نئے سرے سے سفر کا آغاز کر دیتا ہے۔ یعنی ایک بار قرآن ختم کرے دوبارہ شروع کر دیتا ہے اس کا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18653) (ضعیف) (سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، اس لیے کہ زرارہ تابعی ہیں، اور انہوں نے روایت میں واسطہ نہیں ذکر کیا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں جس نے تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کر ڈالا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2949]
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1260)، المشكاة (2201)، الصحيحة (1513)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
بیان کیا مجھ سے محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا مجھ سے محمد بن جعفر نے ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے شعبہ نے اس سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2949M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (1260)، المشكاة (2201)، الصحيحة (1513)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
← پچھلی کتاب #46 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #48 →