جامع الترمذي حدیث نمبر: 2937
Jami at-Tirmidhi 2937
کتاب #47: کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
5: باب وَمِنْ سُورَةِ الْقَمَرِ
باب: سورۃ القمر میں «مدکر» کو دال مہملہ سے پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» ۱؎ پڑھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2937]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی مشہور قراءت ہے یعنی دال مہملہ کے ساتھ اس کی اصل ہے «مُذْ تَکِر» (بروزن «مُجْتَنِب» تاء کو دال مہملہ سے بدل دیا اور ذال کو دال میں مدغم کر دیا تو «مُدَّکِر» ہو گیا، بعض قراء نے «ُمُذَّکِر» (ذال معجم کے ساتھ) پڑھا ہے بہرحال معنی ہے: ”پس کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا“ (القمر: ۴۰)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/احادیث الأنبیاء 3 (3341)، وتسیر سورة القمر 2 (487 2- 4874)، صحیح مسلم/المسافرین 50 (823)، سنن ابی داود/ الحروف (2994) (تحفة الأشراف: 9179) (صحیح)