جامع الترمذي حدیث نمبر: 2928
Jami at-Tirmidhi 2928
کتاب #47: کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
1: باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَأُرَاهُ قَالَ: وَعُثْمَانَ: " كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيِّ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ: " كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 "، وَرَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ " كَانُوا يَقْرَءُونَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما ( راوی زہری کہتے ہیں کہ ) اور میرا خیال ہے کہ انس رضی الله عنہ نے عثمان رضی الله عنہ کا بھی نام لیا کہ یہ سب لوگ «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں صرف اس شیخ یعنی ایوب بن سوید رملی کی روایت سے ہی جانتے ہیں ، ¤ ۳- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) نے یہ حدیث زہری سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے ۔ اور عبدالرزاق نے معمر سے ، معمر نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما «مالك يوم الدين» پڑھتے تھے ، ( یعنی : اس کو مرفوعاً صرف ایوب بن سوید ہی نے روایت کیا ہے ، اور وہ ضعیف ہیں ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2928]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2928) إسناده ضعيف /د 4000 أيوب بن سويد:ضعيف على الراجع (د 5120)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1570) (ضعیف الإسناد) (سند میں ”ایوب بن محمد الرملی“ روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اس روایت میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ ”الزہري عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرسلاً“ ہے جیسا کہ مولف نے وضاحت کی ہے، مگر دیگر سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے)