جامع الترمذي حدیث نمبر: 2930
Jami at-Tirmidhi 2930
کتاب #47: کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
1: باب فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: سورۃ فاتحہ کی قرأت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ " هَلْ تَسْتَطِيعُ رَبَّكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَالْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «هل تستطيع ربك» ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف رشدین کی حدیث سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اور اس کی سند قوی نہیں ہے ، رشدین بن سعد اور ( عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ) افریقی دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2930]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور قراءت یوں ہے «هل يستطيع ربك» یعنی یاء تحتانیہ اور راء کے اوپر ضمہ کے ساتھ پوری آیت اس طرح ہے «هل يستطيع ربك أن ينزل علينا مآئدة من السماء» (المائدہ: ۱۱۲) اور اس حدیث میں مذکور قراءت کسائی کی ہے، معنی ہو گا کیا تو اپنے رب سے مانگنے کی طاقت رکھتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2930) إسناده ضعيف ¤ رشدين وابن أنعم الافريقي ضعيفان (تقدما: 54)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11337) (ضعیف الإسناد) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی اور رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں)