جامع الترمذي حدیث نمبر: 2931
Jami at-Tirmidhi 2931
کتاب #47: کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
2: باب وَمِنْ سُورَةِ هُودٍ
باب: سورۃ ہود کی قرأت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَؤُهَا إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ سورة هود آية 46 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ نَحْوَ هَذَا، وَهُوَ حَدِيثُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَن شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ هِيَ أُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي وَاحِدٌ، وَقَدْ رَوَى شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ غَيْرَ حَدِيثٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ وَهِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.
ام سلمہ ۱؎ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے «إنه عمل غير صالح» ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اسی طرح کئی ایک رواۃ نے ثابت بنانی سے اس حدیث کی روایت کی ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے اسماء بنت یزید کے واسطہ سے بھی روایت کی گئی ہے ، ¤ ۳- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اسماء بنت یزید ہی ام سلمہ انصاریہ ہیں ، ¤ ۴- یہ دونوں ہی حدیثیں میرے نزدیک ایک ہیں ، ¤ ۵- شہر بن حوشب نے کئی حدیثیں ام سلمہ انصاریہ سے روایت کی ہیں ، اور ام سلمہ انصاریہ یہی اسماء بنت یزید ہیں ، ¤ ۶- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2931]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا نہیں ہیں، بلکہ انصاریہ صحابیہ ہیں، لیکن مسند احمد کی بعض روایات میں ”ام المؤمنین“ کا اضافہ سے مزی نے اس حدیث کو دونوں ترجمہ میں ذکر کیا ہے۔
۲؎: نوح علیہ السلام کے بیٹے نے غیر صالح عمل کیا۔
۲؎: نوح علیہ السلام کے بیٹے نے غیر صالح عمل کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2809)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحروف (3982، و 2983) (تحفة الأشراف: 18163/الف)، و مسند احمد (6/459) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 2809)