جامع الترمذي حدیث نمبر: 2933
Jami at-Tirmidhi 2933
کتاب #47: کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
3: باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ
باب: سورۃ الکہف میں «من لدنی» میں نون کو تشدید کے ساتھ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ بَصْرِيٌ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " قَرَأَ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا سورة الكهف آية 76 مُثَقَّلَةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ثِقَةٌ، وَأَبُو الْجَارِيَةِ الْعَبْدِيُّ شَيْخٌ مَجْهُولٌ وَلَا نَعْرِفُ اسْمَهُ.
ابی بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا : «قد بلغت من لدني عذرا» ۱؎ یعنی «لدني» کو نون ثقیلہ کے ساتھ پڑھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- امیہ بن خالد ثقہ ہیں ، ¤ ۳- ابوالجاریہ عبدی مجہول شیخ ہیں ، ہم ان کا نام نہیں جانتے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2933]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور قراءت اسی طرح ہے یعنی نون پر تشدید کے ساتھ لیکن نافع وغیرہ نے اس کو اس طرح پڑھا ہے «مِنْ لَدُنِیْ» یعنی نون پر صرف سادہ زیر کے ساتھ بہرحال معنی ایک ہی ہے، یعنی یقیناً آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے۔ (الکہف: ۷۶)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (856 / 3985) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2933) إسناده ضعيف / د 3985
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحروف (3985) (تحفة الأشراف: 42) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو الجاریہ عبدی مجہول راوی ہے)