جامع الترمذي حدیث نمبر: 2948
Jami at-Tirmidhi 2948
کتاب #47: کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
13: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ الْهَيْثَمِ بْنِ الرَّبِيعِ.
مجھ سے بیان کیا محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا مجھ سے مسلم بن ابراہیم نے ، وہ کہتے ہیں : بیان کیا مجھ سے صالح مری نے قتادہ کے واسطہ سے اور قتادہ نے زرارہ بن اوفی کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی جیسی اسی معنی کی حدیث روایت کی ، لیکن اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ روایت میرے نزدیک نضر بن علی کی اس روایت سے جسے وہ ہیثم بن ربیع سے روایت کرتے ہیں ( یعنی : پہلی سند سے ) زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2948M]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے جو قاری مسافر کے مثل اپنی منزل تک پہنچ کر پھر نئے سرے سے سفر کا آغاز کر دیتا ہے۔ یعنی ایک بار قرآن ختم کرے دوبارہ شروع کر دیتا ہے اس کا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18653) (ضعیف) (سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، اس لیے کہ زرارہ تابعی ہیں، اور انہوں نے روایت میں واسطہ نہیں ذکر کیا ہے)