جامع الترمذي حدیث نمبر: 2942
Jami at-Tirmidhi 2942
کتاب #47: کتاب: قرآن کریم کی قرأت و تلاوت
10: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَوْ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ، فَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے یا تم میں سے کسی کے لیے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ، بلکہ یہ کہو کہ وہ بھلا دیا گیا ۱؎ تم قرآن یاد کرتے دھراتے رہو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل بھاگنے میں چوپایوں کے اپنی رسی سے نکل بھاگنے کی بہ نسبت زیادہ تیز ہے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2942]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت ”نہی تحریمی“ نہیں ہے، بلکہ ”نہی تنزیہی“ ہے یعنی: ایسا نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ اس سے اپنی سستی اور قرآن سے غفلت کا خود ہی اظہار ہے، یا یہ مطلب ہے کہ ”ایسا موقع ہی نہ آنے دے کہ یہ بات کہنے کی نوبت آئے“ بعض روایات میں ”میں بھول گیا“ کہنا بھی ملتا ہے، اس لیے مذکورہ ممانعت ”نہی تنزیہی“ پر محمول کی گئی ہے۔ یعنی ایسا نہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
۲؎: معلوم ہوا کہ قرآن کو باربار پڑھتے اور دہراتے رہنا چاہیئے، کیونکہ قرآن جس طرح جلد یاد ہوتا ہے اسی طرح جلد ذہن سے نکل جاتا ہے، اس لیے قرآن کوبار بار پڑھنا اور اس کا دہرانا ضروری ہے۔
۲؎: معلوم ہوا کہ قرآن کو باربار پڑھتے اور دہراتے رہنا چاہیئے، کیونکہ قرآن جس طرح جلد یاد ہوتا ہے اسی طرح جلد ذہن سے نکل جاتا ہے، اس لیے قرآن کوبار بار پڑھنا اور اس کا دہرانا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الظلال (422)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5032)، و 26 (5039)، صحیح مسلم/المسافرین 33 (790)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (944) (تحفة الأشراف: 9295)، و مسند احمد (1/382، 417، 423، 463439)، وسنن الدارمی/فضائل القرآن 4 (3390)، والرقاق 32 (2787) (صحیح)