كتاب الرضاع
کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
کتاب #13 • کل احادیث: 29
|
1: باب مَا جَاءَ يُحَرَّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يُحَرَّمُ مِنَ النَّسَبِ
باب: رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام کر دئیے ہیں جو نسب سے حرام ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- علی کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، ابن عباس اور ام حبیبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ اس سلسلے میں ہم ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1146]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سات رشتے ہیں (۱) مائیں (۲) بیٹیاں (۳) بہنیں (۴) پھوپھیاں (۵) خالائیں (۶) بھتیجیاں (۷) بھانجیاں، ماں میں دادی نانی داخل ہے اور بیٹی میں پوتی نواسی داخل، اور بہنیں تین طرح کی ہیں: سگی، سوتیلی اور اخیافی، اسی طرح بھتیجیاں اور بھانجیاں اگرچہ نیچے درجہ کی ہوں اور پھوپھیاں سگی ہوں خواہ سوتیلی خواہ اخیافی، اسی طرح باپ دادا اور ماں اور نانی کی پھوپھیاں سب حرام ہیں اور «خالائیں علی ہذا القیاس» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (6 / 284)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10118) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ الْوِلَادَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دے دیئے ہیں جو ولادت ( نسب ) سے حرام ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- صحابہ وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1147]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1937)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ النکاح 7 (2055)، سنن النسائی/النکاح 49 (3302)، (تحفة الأشراف: 16344)، سنن الدارمی/النکاح 48 (2295) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشہادات 7 وفرض الخمس 4 (3105)، والنکاح 20 (5099) و27 (5111)، صحیح مسلم/الرضاع 2 (1444)، سنن النسائی/النکاح 49 (3303، 3304، 3305)، سنن ابن ماجہ/النکاح 34 (1937)، موطا امام مالک/الرضاع 1 (3)، مسند احمد (6/66، 72، 102)، سنن الدارمی/النکاح 48 (2291، 2292)، من غیر ہذا الوجہ۔
|
|
|
2: باب مَا جَاءَ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: دودھ کی نسبت مرد کی طرف ہو گی۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ "، قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " فَإِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ كَرِهُوا لَبَنَ الْفَحْلِ، وَالْأَصْلُ فِي هَذَا حَدِيثُ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے ، وہ مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کیا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تیرے پاس آ سکتے ہیں کیونکہ وہ تیرے چچا ہیں “ ، اس پر انہوں نے عرض کیا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے نہیں ، تو آپ نے فرمایا : ” تیرے چچا ہیں ، وہ تیرے پاس آ سکتے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے انہوں نے «لبن فحل» ( مرد کے دودھ ) کو حرام کہا ہے ۔ اس باب میں اصل عائشہ کی حدیث ہے ، ¤ ۳- اور بعض اہل علم نے «لبن فحل» ( مرد کے دودھ ) کی رخصت دی ہے ۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1148]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے دودھ پلانے سے جس مرد کا دودھ ہو (یعنی اس عورت کا شوہر) وہ بھی شیرخوار پر حرام ہو جاتا ہے اور اس سے بھی شیرخوار کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1948)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، (تحفة الأشراف: 1682) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2644) وتفسیر سورة السجدة 9 (6974)، و النکاح 22 (5103)، و1117 (5239)، والأدب 93 (6156)، صحیح مسلم/الرضاع (المصدر المذکور) سنن النسائی/النکاح 49 (3303)، سنن الدارمی/النکاح 48 (2294) من غیر ہذا الوجہ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ، عَنْ رَجُلٍ لَهُ جَارِيتَانِ: أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا جَارِيَةً، وَالْأُخْرَى غُلَامًا، أَيَحِلُّ لِلْغُلَامِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْجَارِيَةِ؟، فَقَالَ: " لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا تَفْسِيرُ لَبَنِ الْفَحْلِ وَهَذَا الْأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو لونڈیاں ہوں ، ان میں سے ایک نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے اور دوسری نے ایک لڑکے کو ۔ تو کیا اس لڑکے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے ۔ انہوں نے ( ابن عباس رضی الله عنہما ) نے کہا : نہیں ۔ اس لیے کہ «لقاح» ایک ہی ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہی اس باب میں اصل ہے ۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1149]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں عورتوں کا دودھ ایک ہی شخص کے جماع اور منی سے پیدا ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1149) إسناده ضعيف ¤ ابن شھاب الزھري مدلس و عنعن (تقدم:440)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6311) (صحیح الإسناد)
|
|
|
3: باب مَا جَاءَ لاَ تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلاَ الْمَصَّتَانِ
باب: ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ "، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، حَدِيثُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ: الصَّحِيحُ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ دِينَارٍ وَزَادَ فِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَإِنَّمَا هُوَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ َلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. (حديث موقوف) وَقَالَتْ عَائِشَةُ: أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ " عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ "، فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسٌ، وَصَارَ إِلَى خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا، وَبِهَذَا كَانَتْ عَائِشَةُ تُفْتِي، وَبَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاق، وقَالَ أَحْمَدُ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ "، وقَالَ: إِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ، إِلَى قَوْلِ عَائِشَةَ فِي خَمْسِ رَضَعَاتٍ، فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ وَجَبُنَ عَنْهُ، أَنْ يَقُولَ فِيهِ شَيْئًا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ، وَكَثِيرُهُ إِذَا وَصَلَ إِلَى الْجَوْفِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَوَكِيعٍ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ، قَدِ اسْتَقْضَاهُ عَلَى الطَّائِفِ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَدْرَكْتُ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ام فضل ، ابوہریرہ ، زبیر بن عوام اور ابن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اس حدیث کو دیگر کئی لوگوں نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ایک یا دو بار دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی “ ۔ اور محمد بن دینار نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ، اس میں محمد بن دینار بصریٰ نے زبیر کے واسطے کا اضافہ کیا ہے ۔ لیکن یہ غیر محفوظ ہے ، ¤ ۳- محدثین کے نزدیک صحیح ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جسے انہوں نے بطریق : «عبد الله بن الزبير عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ، ¤ ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : صحیح ابن زبیر کی روایت ہے جسے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے اور محمد بن دینار کی روایت جس میں : زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے وہ دراصل ہشام بن عروہ سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے زبیر سے روایت کی ہے ، ¤ ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ ¤ ۶- عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قرآن میں ( پہلے ) دس رضعات والی آیت نازل کی گئی پھر اس میں سے پانچ منسوخ کر دی گئیں تو پانچ رضاعتیں باقی رہ گئیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو معاملہ انہیں پانچ پر قائم رہا ۲؎ ، ¤ ۷- اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسی کا فتویٰ دیتی تھیں ، اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔ ¤ ۸- امام احمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ” ایک بار یا دو بار کے چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی “ کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی عائشہ رضی الله عنہا کے پانچ رضعات والے قول کی طرف جائے تو یہ قوی مذہب ہے ۔ لیکن انہیں اس کا فتویٰ دینے کی ہمت نہیں ہوئی ، ¤ ۹- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ جب پیٹ تک پہنچ جائے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے ۔ یہی سفیان ثوری ، مالک بن انس ، اوزاعی ، عبداللہ بن مبارک ، وکیع اور اہل کوفہ کا قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1150]
💡 وضاحت:
۱؎: «مصّتہ» اور «رضعۃ» دونوں ایک ہی معنی میں ہے، جب بچہ ماں کی چھاتی کو منہ میں لے کر چوستا ہے پھر بغیر کسی عارضہ کے اپنی مرضی و خوشی سے چھاتی کو چھوڑ دیتا ہے تو اسے «مصّتہ» اور «رضعۃ» کہتے ہیں۔
۲؎: پھر یہ پانچ چوس والی آیت تلاوت منسوخ ہو گئی مگر اس کا حکم باقی رہا (عائشہ رضی الله عنہا کو منسوخ ہونے کا علم نہ ہو سکا) حدیث ”ایک یا دو چوس سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی“ کا مطلب یہی ہے کہ پانچ بار چوس سے ہوتی ہے یا کم از کم تین بار چوس سے ہوتی ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے، «واللہ اعلم بالصواب» (احتیاط یہ ہے کہ تین بار پر عمل کیا جائے)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1941)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 5 (1450)، سنن ابی داود/ النکاح 11 (2063)، سنن النسائی/النکاح 51 (3310)، سنن ابن ماجہ/النکاح 35 (1941)، (تحفة الأشراف: 16189) (صحیح) وأخرجہ کل من: مسند احمد (6/247)، وسنن الدارمی/النکاح 49 (2297) من غیر ہذا الوجہ۔
|
|
|
4: باب مَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ فِي الرَّضَاعِ
باب: رضاعت کے سلسلہ میں ایک عورت کی گواہی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ، أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي بِوَجْهِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، قَالَ: " وَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا؟ دَعْهَا عَنْكَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، دَعْهَا عَنْكَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَجَازُوا شَهَادَةَ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ فِي الرَّضَاعِ، وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الرَّضَاعِ، وَيُؤْخَذُ يَمِينُهَا، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ، حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ: سَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الْحُكْمِ، وَيُفَارِقُهَا فِي الْوَرَعِ ".
عقبہ بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تو ایک کالی کلوٹی عورت نے ہمارے پاس آ کر کہا : میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں نے فلاں کی بیٹی فلاں سے شادی کی ہے ، اب ایک کالی کلوٹی عورت نے آ کر کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ، وہ جھوٹ کہہ رہی ہے ۔ آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیا تو میں آپ کے چہرے کی طرف سے آیا ، آپ نے ( پھر ) اپنا چہرہ پھیر لیا ۔ میں نے عرض کیا : وہ جھوٹی ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ وہ کہہ چکی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ۔ اپنی بیوی اپنے سے علاحدہ کر دو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عقبہ بن حارث رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کو کئی اور بھی لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے اور ابن ابی ملیکہ نے عقبہ بن حارث سے روایت کی ہے اور ان لوگوں نے اس میں عبید بن ابی مریم کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے ، نیز اس میں «دعها عنك» ” اسے اپنے سے علاحدہ کر دو “ ، کا ذکر بھی نہیں ہے ۔ اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ۔ انہوں نے رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت کو درست قرار دیا ہے ، ¤ ۴- ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت جائز ہے ۔ لیکن اس سے قسم بھی لی جائے گی ۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ، ¤ ۵- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک عورت کی گواہی درست نہیں جب تک کہ وہ ایک سے زائد نہ ہوں ۔ یہ شافعی کا قول ہے ، ¤ ۶- وکیع کہتے ہیں : ایک عورت کی گواہی فیصلے میں درست نہیں ۔ اور اگر ایک عورت کی گواہی سن کر وہ بیوی سے علاحدگی اختیار کر لے تو یہ عین تقویٰ ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1151]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک «مرضعہ» کی گواہی کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2154)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 26 (88)، والبیوع 3 (2052)، والشہادات 4 (2640)، و13 (2659)، و14 (2660)، والنکاح 23 (5103)، سنن ابی داود/ الأقضیہ 18 (3603)، سنن النسائی/النکاح 57 (3332)، (تحفة الأشراف: 9905)، مسند احمد (4/7، 8، 384)، سنن الدارمی/النکاح 51 (2301) (صحیح)
|
|
|
5: باب مَا جَاءَ مَا ذُكِرَ أَنَّ الرَّضَاعَةَ لاَ تُحَرِّمُ إِلاَّ فِي الصِّغَرِ دُونَ الْحَوْلَيْنِ
باب: رضاعت کی حرمت دو سال سے کم کی عمر ہی میں دودھ پینے سے ثابت ہو گی۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرِّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ، وَكَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الرَّضَاعَةَ لَا تُحَرِّمُ إِلَّا مَا كَانَ دُونَ الْحَوْلَيْنِ، وَمَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ الْكَامِلَيْنِ، فَإِنَّهُ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَهِيَ امْرَأَةُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رضاعت سے حرمت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ انتڑیوں کو پھاڑ دے ۱؎ ، اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے ہو “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ رضاعت کی حرمت اس وقت ہوتی ہے جب بچے کی عمر دو برس سے کم ہو ، اور جو دو برس پورے ہونے کے بعد ہو تو اس سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1152]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آنتوں میں پہنچ کر غذا کا کام کرے۔
۲؎: یعنی جب بچہ دو برس سے کم کا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1946)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18285) (صحیح)
|
|
|
6: باب مَا جَاءَ مَا يُذْهِبُ مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ
باب: حق رضاعت کس چیز سے ادا ہوتا ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ، فَقَالَ: " غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ، يَقُولُ: إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ ذِمَامَ الرَّضَاعَةِ، وَحَقَّهَا، يَقُولُ: إِذَا أَعْطَيْتَ الْمُرْضِعَةَ، عَبْدًا أَوْ أَمَةً، فَقَدْ قَضَيْتَ ذِمَامَهَا، وَيُرْوَى عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ: هِيَ كَانَتْ أَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَحَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى هَؤُلَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ يُكْنَى أَبَا الْمُنْذِرِ، وَقَدْ أَدْرَكَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنَ عُمَرَ.
حجاج اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے رسول ! مجھ سے حق رضاعت کس چیز سے ادا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک جان : غلام یا لونڈی کے ذریعہ سے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح اسے یحییٰ بن سعید قطان ، حاتم بن اسماعیل اور کئی لوگوں نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔ اور سفیان بن عیینہ نے بطریق : «هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج بن أبي حجاج عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے ۔ صحیح وہی ہے جسے ان لوگوں نے ہشام بن عروۃ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ۔ ( یعنی : «حجاج بن حجاج» والی نہ کہ «حجاج بن أبي حجاج» والی ) ¤ ۳- اور «مايذهب عني مذمة الرضاعة» سے مراد رضاعت کا حق اور اس کا ذمہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں : جب تم دودھ پلانے والی کو ایک غلام دے دو ، یا ایک لونڈی تو تم نے اس کا حق ادا کر دیا ، ¤ ۴- ابوالطفیل رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں ایک عورت آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھا دی ، یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئی ، جب وہ چلی گئی تو کہا گیا : یہی وہ عورت تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1153]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ضعيف أبي داود (351) // عندنا برقم (445 / 2064)، ضعيف سنن النسائي (213 / 3329)، المشكاة (3174) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ النکاح 12 (2064)، سنن النسائی/النکاح 56 (3331)، (تحفة الأشراف: 3295)، مسند احمد (3/450)، سنن الدارمی/النکاح 50 (2300) (ضعیف) (اس کے راوی ”حجاج بن حجاح تابعی ضعیف ہیں)
|
|
|
7: باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تُعْتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ
باب: عورت جو آزاد کر دی جائے اور وہ شوہر والی ہو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا ، تو انہوں نے خود کو اختیار کیا ، ( عروہ کہتے ہیں ) اگر بریرہ کے شوہر آزاد ہوتے تو آپ بریرہ کو اختیار نہ دیتے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1154]
💡 وضاحت:
۱؎: نسائی نے سنن میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ آخری فقرہ حدیث میں مدرج ہے، یہ عروہ کا قول ہے، اور ابوداؤد نے بھی اس کی وضاحت کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، لكن قوله: " ولو كان.... " مدرج من قول عروة، الإرواء (1873)، صحيح أبي داود (1935)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/العتق 2 (1504/9)، سنن ابی داود/ الطلاق 19 (2233)، سنن النسائی/الطلاق 31 (3481)، (تحفة الأشراف: 16770) (صحیح) وأخرجہ مطولا ومختصرا کل من: صحیح البخاری/العتق 10 (2536)، والفرائض 22 (6758)، صحیح مسلم/العتق (المصدر المذکور) (504/10)، مسند احمد (6/46، 178)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2337) من غیر ھذا الوجہ، وانظر أیضا مایأتي برقم 1256 و 2124 و 2125
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَكَذَا، رَوَى هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا "، وَرَوَى عِكْرِمَةُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ زَوْجَ بَرِيرَةَ، وَكَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالُوا: إِذَا كَانَتِ الْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، فَأُعْتِقَتْ فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَإِنَّمَا يَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ، وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَوَى الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى أَبُو عَوَانَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ. قَالَ الْأَسْوَدُ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے ، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے ، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا ، ¤ ۳- عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : میں نے بریرہ کے شوہر کو دیکھا ہے ، وہ غلام تھے اور انہیں مغیث کہا جاتا تھا ، ¤ ۴- اسی طرح کی ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی گئی ہے ، ¤ ۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کر دی جائے تو اسے اختیار نہیں ہو گا ۔ اسے اختیار صرف اس صورت میں ہو گا ، جب وہ آزاد کی جائے اور وہ کسی غلام کی زوجیت میں ہو ۔ یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، ¤ ۶- لیکن اعمش نے بطریق : «إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا ۔ اور ابو عوانہ نے بھی اس حدیث کو بطریق : «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» بریرہ کے قصہ کے سلسلہ میں روایت کیا ہے ، اسود کہتے ہیں : بریرہ کے شوہر آزاد تھے ، ¤ ۷- تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1155]
💡 وضاحت:
۱؎: راجح روایت یہی ہے کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا «حراً» کا لفظ وہم ہے کما تقدم۔
قال الشيخ الألباني:
شاذ - بلفظ: " حرا "، والمحفوظ: " عبدا " -، ابن ماجة (2074) // ضعيف ابن ماجة برقم (450)، وصحيح سنن ابن ماجة - باختصار السند - برقم (1687)، الإرواء (6 / 276) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1155) إسناده ضعيف / د 2235، جه 2074
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 99 (2615)، والطلاق 30 (3479)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 29 (2074) (تحفة الأشراف: 15959)، مسند احمد (6/42) (المحفوظ: ”کان زوجھا عبداً“ ”حراً“ کا لفظ بقول بخاری ”وہم“ ہے) (صحیح) (حدیث میں بریرہ کے شوہر کو ”حرا“ کہا گیا ہے، یعنی وہ غلام نہیں بلکہ آزاد تھے، اس لیے یہ ایک کلمہ شاذ ہے، اور محفوظ اور ثابت روایت ”عبداً“ کی ہے یعنی بریرہ کے شوہر ”مغیث“ غلام تھے)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ، لِبَنِي الْمُغِيرَةِ يَوْمَ أُعْتِقَتْ بَرِيرَةُ وَاللَّهِ لَكَأَنِّي بِهِ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَنَوَاحِيهَا، وَإِنَّ دُمُوعَهُ لَتَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ يَتَرَضَّاهَا، لِتَخْتَارَهُ فَلَمْ تَفْعَلْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةُ هُوَ سَعِيدُ بْنُ مِهْرَانَ وَيُكْنَى أَبَا النَّضْرِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ کے شوہر بنی مغیرہ کے ایک کالے کلوٹے غلام تھے ، جس دن بریرہ آزاد کی گئیں ، اللہ کی قسم ، گویا میں انہیں مدینے کے گلی کوچوں اور کناروں میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں کہ ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں ، وہ انہیں منا رہے ہیں کہ وہ انہیں ساتھ میں رہنے کے لیے چن لیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1156]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2075)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 15 (5282)، 16 (5283)، سنن ابی داود/ الطلاق 19 (2232)، (تحفة الأشراف: 5998) و6189) (صحیح) و أخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الطلاق (2231)، و مسند احمد (1/215)، وسنن الدارمی/الطلاق 15 (2338) من غیر ہذا الوجہ۔
|
|
|
8: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ
باب: بچہ شوہر یا مالک کا ہو گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچہ صاحب فراش ( یعنی شوہر یا مالک ) کا ہو گا ۱؎ اور زانی کے لیے پتھر ہوں گے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، عثمان ، عائشہ ، ابوامامہ ، عمرو بن خارجہ ، عبداللہ بن عمر ، براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1157]
💡 وضاحت:
۱؎: فراش سے صاحب فراش یعنی شوہر یا مالک مراد ہے کیونکہ یہی دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں۔
۲؎: زانی کے لیے پتھر ہے، یعنی ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» سے مراد یہ ہے کہ اسے رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر سے مار مار کر ہلاک کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ رجم صرف شادی شدہ کو کیا جائے گا، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کی نسبت ہو گی اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرنے کا دعویٰ کرے اور یہ بھی دعویٰ کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ اس بچے کی مشابہت بھی ہو اور صاحب فراش کے ساتھ نہ ہو اس ساری صورتحال کے باوجود بچہ کو صاحب فراش کی طرف منسوب کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہ ہو گا اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچہ ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس بچہ کا نسب ماں کے ساتھ جوڑا جائے گا زانی کے ساتھ نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 10 (1458)، سنن النسائی/الطلاق 48 (3512)، سنن ابن ماجہ/النکاح 59 (2006) مسند احمد (2/239) (تحفة الأشراف: 13134) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الفرائض 17 (6750)، والحدود 23 (6818)، مسند احمد (2/280، 386، 409، 492) من غیر ہذا الوجہ۔
|
|
|
9: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَرَى الْمَرْأَةَ تُعْجِبُهُ
باب: آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے پسند آ جائے تو کیا کرے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، وَخَرَجَ وَقَالَ: " إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ، حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ هُوَ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو آپ زینب رضی الله عنہا کے پاس تشریف لائے اور آپ نے اپنی ضرورت پوری کی اور باہر تشریف لا کر فرمایا : ” عورت جب سامنے آتی ہے تو وہ شیطان کی شکل میں آتی ہے ۱؎ ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے بھلی لگے تو اپنی بیوی کے پاس آئے اس لیے کہ اس کے پاس بھی اسی جیسی چیز ہے جو اس کے پاس ہے ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- جابر کی حدیث صحیح حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- ہشام دستوائی دراصل ہشام بن سنبر ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1158]
💡 وضاحت:
۱؎: ”عورت کو شیطان کی شکل میں“ اس لیے کہا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ایسے بے پردہ عورت بھی مرد کو بہکاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحيح مسلم/النكاح 2 (1403)، سنن ابي داود/ النكاح 44 (2151)، مسند احمد (3/330) (تحفة الأشراف: 2975)، (صحيح) وأخرجه: مسند احمد (3/330، 341، 348، 395) من غير هذا الوجه.
|
|
|
10: باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ
باب: عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں معاذ بن جبل ، سراقہ بن مالک بن جعشم ، عائشہ ، ابن عباس ، عبداللہ بن ابی اوفی ، طلق بن علی ، ام سلمہ ، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1159]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے شوہر کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (1853)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15104) (صحیح) (اس سند سے حدیث حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیئے اگرچہ وہ تنور پر ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1160]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی روٹی پکا رہی ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (3257 / التحقيق الثانى)، الصحيحة (1202)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي فی الکبری) (تحفة الأشراف: 5026) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ، دَخَلَتِ الْجَنَّةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1161]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (1854) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (407)، ضعيف الجامع الصغير (2227) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/النکاح 4 (1854)، (تحفة الأشراف: 18294) (ضعیف) (مساور اور ان کی والدہ دونوں مجہول ہیں)
|
|
|
11: باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا
باب: شوہر پر عورت کے حقوق کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ خُلُقًا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو ، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1162]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، الصحيحة (284)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15059) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَّرَ وَوَعَظَ، فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةً، فَقَالَ: " أَلَا وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا، غَيْرَ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا، أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ، فَلَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ، أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: عَوَانٌ عِنْدَكُمْ يَعْنِي: أَسْرَى فِي أَيْدِيكُمْ.
سلیمان بن عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ۔ اور ( لوگوں کو ) نصیحت کی اور انہیں سمجھایا ۔ پھر راوی نے اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” سنو ! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو ۔ اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں ۔ تم اس ( ہمبستری اور اپنی عصمت اور اپنے مال کی امانت وغیرہ ) کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے ( اور جب وہ اپنا فرض ادا کرتی ہوں تو پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کا جواز کیا ہے ) ہاں اگر وہ کسی کھلی ہوئی بیحیائی کا ارتکاب کریں ( تو پھر تمہیں انہیں سزا دینے کا ہے ) پس اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں سے علاحدہ چھوڑ دو اور انہیں مارو لیکن اذیت ناک مار نہ ہو ، اس کے بعد اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو پھر انہیں سزا دینے کا کوئی اور بہانہ نہ تلاش کرو ، سنو ! جس طرح تمہارا تمہاری بیویوں پر حق ہے اسی طرح تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے ۔ تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ایسے لوگوں کو نہ روندنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو ، اور تمہارے گھر میں ایسے لوگوں کو آنے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم اچھا نہیں سمجھتے ۔ سنو ! اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کے لباس اور پہنے میں اچھا سلوک کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- «عوان عندكم» کا معنی ہے تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1163]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی طاقت کے مطابق یہ چیزیں احسن طریقے سے مہیا کرو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (1851)
تخریج دارالدعوہ:
*تخريج: سنن ابن ماجہ/النکاح 3 (1851)، والمؤلف في تفسیر التوبة (3087) (تحفة الأشراف: 10691) (حسن)
|
|
|
12: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ
باب: عورتوں کی دبر میں صحبت کرنے کی حرمت کا بیان۔
|
|
|
حدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ مِنَّا يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ فَتَكُونُ مِنْهُ الرُّوَيْحَةُ، وَيَكُونُ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: لَا أَعْرِفُ لِعَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَاحِدِ، وَلَا أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ، مِنْ حَدِيثِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ السُّحَيْمِيِّ، وَكَأَنَّهُ رَأَى أَنَّ هَذَا رَجُلٌ آخَرُ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
علی بن طلق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم میں ایک شخص صحرا ( بیابان ) میں ہوتا ہے ، اور اس کو ہوا خارج ہو جاتی ہے ( اور وضو ٹوٹ جاتا ہے ) اور پانی کی قلت بھی ہوتی ہے ( تو وہ کیا کرے ؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کی جب ہوا خارج ہو جائے تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ، اور عورتوں کی دبر میں صحبت نہ کرو ، اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- علی بن طلق کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سوائے اس ایک حدیث کے علی بن طلق کی کوئی اور حدیث مجھے نہیں معلوم ، جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو ، اور طلق بن علی سحیمی کی روایت سے میں یہ حدیث نہیں جانتا ۔ گویا ان کی رائے یہ ہے کہ یہ صحابہ میں سے کوئی اور آدمی ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں عمر ، خزیمہ بن ثابت ، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1164]
قال الشيخ الألباني:
// ضعيف الجامع الصغير (607)، المشكاة (314 و 1006)، ضعيف أبي داود (35 / 205) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطہارة 82 (205)، والصلاة 193 (1005)، سنن الدارمی/الطہارة 114 (1181) (ضعیف) (اس کے دو راوی عیسیٰ بن حطان اور ان کے شیخ مسلم بن سلام الحنفی دونوں کے بارے میں ابن حجر نے کہا ہے کہ مقبول ہیں، یعنی جب ان کا کوئی متابع یا شاہد ہو، لیکن یہاں کوئی چیز ان کو تقویت پہنچانے والی نہیں ہے اس واسطے دونوں لین الحدیث ہیں، اس لیے حدیث ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی 353)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ، أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَى وَكيِعُُُ هَذَا الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس شخص کی طرف ( رحمت کی نظر سے ) نہیں دیکھے گا جو کسی مرد یا کسی عورت کی دبر میں صحبت کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1165]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (3195)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائي في الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 6363) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَعَلِيٌّ هَذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ طَلْقٍ.
علی بن طلق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ہوا خارج کرے تو چاہیئے کہ وضو کرے اور تم عورتوں کی دبر میں صحبت نہ کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ علی سے مراد علی بن طلق ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1166]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ضعيف أبي داود (26) // عندنا برقم (35 / 205) ولفظه أتم ; لكن الشطر الثاني صحيح بما بعده (1166)
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم 1164 (ضعیف) (اس میں مسلم بن سلام ضعیف راوی ہے)
|
|
|
13: باب مَا جَاءَ فى كَرَاهِيَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الزِّينَةِ
باب: بناؤ سنگار کر کے عورتوں کے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ وَكَانَتْ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الرَّافِلَةِ فِي الزِّينَةِ فِي غَيْرِ أَهْلِهَا كَمَثَلِ ظُلْمَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا نُورَ لَهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَهُوَ صَدُوقٌ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
میمونہ بنت سعد رضی الله عنہا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں ، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے شوہر کے علاوہ غیروں کے سامنے بناؤ سنگار کر کے اترا کر چلنے والی عورت کی مثال قیامت کے دن کی تاریکی کی طرح ہے ، اس کے پاس کوئی نور نہیں ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- موسیٰ بن عبیدہ اپنے حفظ کے تعلق سے ضعیف قرار دیے جاتے ہیں ، وہ صدوق ہیں ، ان سے شعبہ اور ثوری نے بھی روایت کی ہے ۔ ¤ ۳- اور بعض نے اسے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کیا ہے ، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1167]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (1800) // ضعيف الجامع الصغير (5236) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1167) إسناده ضعيف ¤ موسي بن عبيدة ضعيف (تقدم:1122)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18089) (ضعیف) (اس کے راوی ”موسیٰ بن عبیدہ“ ضعیف ہیں)
|
|
|
14: باب مَا جَاءَ فى الْغَيْرَةِ
باب: غیرت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَالْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذَا الْحَدِيثُ وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ، وَالْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ هُوَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، وَأَبُو عُثْمَانَ اسْمُهُ مَيْسَرَةُ، وَالْحَجَّاجُ يُكْنَى أَبَا الصَّلْتِ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: سَأَلْتَ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ فَقَالَ: ثِقَةٌ فَطِنٌ كَيِّسٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کو غیرت آتی ہے اور مومن کو بھی غیرت آتی ہے ، اللہ کی غیرت اس پر ہے کہ مومن کوئی ایسا کام کرے جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اور یہ حدیث یحییٰ بن ابی کثیر ( اس طریق سے بھی ) سے مروی ہے «عن أبي سلمة عن عروة عن أسماء بنت أبي بكر عن النبي صلى الله عليه وسلم» یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں ، ¤ ۳- حجاج صواف ہی حجاج بن ابی عثمان ہیں ۔ ابوعثمان کا نام میسرہ ہے اور حجاج کی کنیت ابوصلت ہے ۔ یحییٰ بن سعید نے ان کی توثیق کی ہے ۔ یحییٰ بن سعید القطان نے حجاج صواف کے بارے میں کہا : وہ ثقہ ذہین اور ہوشیار ہیں ، ¤ ۴- اس باب میں عائشہ اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1168]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/التوبة 6 (2761) (تحفة الأشراف: 15363) (صحیح)
|
|
|
15: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ وَحْدَهَا بِغَيْرِ مَحْرَمٍ
باب: عورت کے تنہا سفر کرنے کی حرمت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَكُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا، أَوْ أَخُوهَا، أَوْ زَوْجُهَا، أَوِ ابْنُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا ". وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ "، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، يَكْرَهُونَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَرْأَةِ، إِذَا كَانَتْ مُوسِرَةً، وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مَحْرَمٌ هَلْ تَحُجُّ؟، فَقَالَ: بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَجِبُ عَلَيْهَا الْحَجُّ، لِأَنَّ الْمَحْرَمَ مِنَ السَّبِيلِ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97، فَقَالُوا: إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهَا مَحْرَمٌ، فَلَا تَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا كَانَ الطَّرِيقُ آمِنًا فَإِنَّهَا تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ فِي الْحَجِّ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو ، حلال نہیں کہ وہ تین دن ۱؎ یا اس سے زائد کا سفر کرے اور اس کے ساتھ اس کا باپ یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم نہ ہو “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” عورت ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کسی محرم کے بغیر نہ کرے ۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ عورت کے لیے درست نہیں سمجھتے کہ محرم کے بغیر سفر کرے ۔ اہل علم کا اس عورت کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو حج کی استطاعت رکھتی ہو لیکن اس کا کوئی محرم نہ ہو تو وہ حج کرے یا نہیں ؟ بعض اہل علم کہتے ہیں : اس پر حج نہیں ہے ، اس لیے کہ محرم بھی اللہ تعالیٰ کے ارشاد «من استطاع إليه سبيلا» میں استطاعت سبیل میں داخل ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس کا کوئی محرم نہ ہو تو وہ استطاعت سبیل نہیں رکھتی ۔ یہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب راستہ مامون ہو ، تو وہ لوگوں کے ساتھ حج میں جا سکتی ہے ۔ یہی مالک اور شافعی کا بھی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1169]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں تین دن کا ذکر ہے، بعض روایتوں میں دو اور بعض میں ایک دن کا ذکر ہے، اس لیے علماء نے لکھا ہے کہ ایک یا دو یا تین دن کا اعتبار نہیں اصل اعتبار سفر کا ہے کہ اتنی مسافت ہو جس کو سفر کہا جا سکے اس میں تنہا عورت کے لیے سفر کرنا جائز نہیں۔
۲؎: محرم سے مراد شوہر کے علاوہ عورت کے وہ قریبی رشتہ دار ہیں جن سے اس کا کبھی نکاح نہیں ہو سکتا، جیسے باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا اور بھانجا اور اسی طرح رضاعی باپ، بیٹا، بھائی، بھتیجا اور بھانجا ہیں، داماد بھی انہیں میں ہے، ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اس کا سفر کرنا جائز ہے، ان کے علاوہ کسی کے ساتھ سفر پر نہیں جا سکتی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2898)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 74 (1340)، سنن ابی داود/ المناسک 2 (1726)، سنن ابن ماجہ/المناسک 2 (1723)، مسند احمد (2/340، 493) (تحفة الأشراف: 14316)، سنن الدارمی/الاستئذان 46 (2720) (صحیح) وأخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة والمدینة 6 (1197)، وجزاء الصید 26 (1864)، والصوم 67 (1995)، من غیر ہذا الوجہ وبلفظ ”سفر یومین“
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی عورت ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1170]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2899)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج (1339)، سنن ابی داود/ المناسک 2 (1723)، مسند احمد (2/340، (تحفة الأشراف: 14316) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 4 (1088)، سنن ابن ماجہ/المناسک 7 (2899)، موطا امام مالک/الاستئذان 14 (37)، مسند احمد 2/236، 347، 423، 445) من غیر ہذا الوجہ۔
|
|
|
16: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِيبَاتِ
باب: غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ہونے کی حرمت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟، قَالَ: " الْحَمْوُ الْمَوْتُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ "، وَمَعْنَى قَوْلِهِ الْحَمْوُ يُقَالُ: هُوَ أَخُو الزَّوْجِ كَأَنَّهُ كَرِهَ لَهُ أَنْ يَخْلُوَ بِهَا.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے سے بچو “ ، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! دیور ( شوہر کے بھائی ) کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” دیور موت ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، جابر اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے کی حرمت کا مطلب وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت ( تنہائی ) میں ہوتا ہے تو اس کا تیسرا شیطان ہوتا ہے “ ، ¤ ۴- «حمو» شوہر کے بھائی یعنی دیور کو کہتے ہیں ، گویا آپ نے دیور کے بھاوج کے ساتھ تنہائی میں ہونے کو حرام قرار دیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1171]
قال الشيخ الألباني:
صحيح غاية المرام (181)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 111 (5232)، صحیح مسلم/السلام 8 (2172) (تحفة الأشراف: 9958) مسند احمد (4/149، 153)، سنن الدارمی/الاستئذان 14 (2684) (صحیح)
|
|
|
17: باب
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ "، قُلْنَا: وَمِنْكَ، قَالَ: " وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ، فَأَسْلَمُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وسَمِعْت عَلِيَّ بْنَ خَشْرَمٍ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ، فَأَسْلَمُ، يَعْنِي أَسْلَمُ أَنَا مِنْهُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَالشَّيْطَانُ لَا يُسْلِمُ، وَلَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ، وَالْمُغِيبَةُ الْمَرْأَةُ الَّتِي يَكُونُ زَوْجُهَا غَائِبًا، وَالْمُغِيبَاتُ: جَمَاعَةُ الْمُغِيبَةِ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ایسی عورتوں کے گھروں میں داخل نہ ہو ، جن کے شوہر گھروں پر نہ ہوں ، اس لیے کہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے اندر ایسے ہی دوڑتا ہے جیسے خون جسم میں دوڑتا ہے “ ، ہم نے عرض کیا : آپ کے بھی ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں میرے بھی ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد کی ہے ، اس لیے میں ( اس کے شر سے ) محفوظ رہتا ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔ بعض لوگوں نے مجالد بن سعید کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے ، ¤ ۲- سفیان بن عیینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «ولكن الله اعانني عليه فاسلم» ” لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اس لیے میں محفوظ رہتا ہوں “ کی تشریح میں کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ” میں اس شیطان سے محفوظ رہتا ہوں “ ، نہ یہ کہ وہ اسلام لے آیا ہے ( کیونکہ ) : شیطان مسلمان نہیں ہوتا ، ¤ ۳- «ولاتلجوا على المغيبات» میں «مغیبة» سے مراد وہ عورت ہے ، جس کا شوہر موجود نہ ہو ، «مغيبات» ، «مغيبة» کی جمع ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1172]
قال الشيخ الألباني:
صحيح - الطرف الأول يشهد له ما قبله وسائره فى " الصحيح " -، ابن ماجة (1779)، تخريج فقه السيرة (6)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2349) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”مجالد بن سعید“ کے اندر کچھ کلام ہے، صحیح سنن ابی داود 1133، 1134، تخریج فقہ السیرة 65)
|
|
|
18: باب
باب: عورتوں سے متعلق ایک اور باب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت ( سراپا ) پردہ ہے ، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1173]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (3109)، الإرواء (273)، التعليق على ابن خزيمة (1685)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1173) إسناده ضعيف ¤ قتاده مدلس وعنعن (تقدم:30)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد المؤلف بہذا الشق بہذا السند، وأخرج أبوداود الصلاة (54/570) بہذا السند الشق الأول، لہذا الحدیث فقط ”صلاة المرأة في بیتہا…الخ (تحفة الأشراف: 9529) (صحیح)
|
|
|
19: باب
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكَ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الشَّامِيِّينَ أَصْلَحُ وَلَهُ، عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ، وَأَهْلِ الْعِرَاقِ مَنَاكِيرُ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو عورت بھی اپنے شوہر کو دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہے تو ( جنت کی ) بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے اس کی بیوی کہتی ہے : تو اسے تکلیف نہ دے ۔ اللہ تجھے ہلاک کرے ، یہ تو ویسے بھی تیرے پاس بس مسافر ہے ، قریب ہے کہ یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اسماعیل بن عیاش کی روایتیں جنہیں انہوں نے اہل شام سے روایت کی ہیں بہتر ہے ، لیکن اہل حجاز اور اہل عراق سے ان کی روایتیں منکر ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1174]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2014)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/النکاح 62 (2041)، (تحفة الأشراف: 11356) (صحیح)
|
|