جامع الترمذي حدیث نمبر: 1149
Jami at-Tirmidhi 1149
کتاب #13: کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
2: باب مَا جَاءَ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: دودھ کی نسبت مرد کی طرف ہو گی۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ، عَنْ رَجُلٍ لَهُ جَارِيتَانِ: أَرْضَعَتْ إِحْدَاهُمَا جَارِيَةً، وَالْأُخْرَى غُلَامًا، أَيَحِلُّ لِلْغُلَامِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالْجَارِيَةِ؟، فَقَالَ: " لَا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا تَفْسِيرُ لَبَنِ الْفَحْلِ وَهَذَا الْأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو لونڈیاں ہوں ، ان میں سے ایک نے ایک لڑکی کو دودھ پلایا ہے اور دوسری نے ایک لڑکے کو ۔ تو کیا اس لڑکے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے ۔ انہوں نے ( ابن عباس رضی الله عنہما ) نے کہا : نہیں ۔ اس لیے کہ «لقاح» ایک ہی ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہی اس باب میں اصل ہے ۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1149]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں عورتوں کا دودھ ایک ہی شخص کے جماع اور منی سے پیدا ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1149) إسناده ضعيف ¤ ابن شھاب الزھري مدلس و عنعن (تقدم:440)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6311) (صحیح الإسناد)