📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل (كتاب الرضاع) 🏷️ باب: باب: دودھ کی نسبت مرد کی طرف ہو گی۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1148 Jami at-Tirmidhi 1148
کتاب #13: کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
2: باب مَا جَاءَ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ
باب: دودھ کی نسبت مرد کی طرف ہو گی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ "، قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: " فَإِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ كَرِهُوا لَبَنَ الْفَحْلِ، وَالْأَصْلُ فِي هَذَا حَدِيثُ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي لَبَنِ الْفَحْلِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا آئے ، وہ مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کیا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تیرے پاس آ سکتے ہیں کیونکہ وہ تیرے چچا ہیں “ ، اس پر انہوں نے عرض کیا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے نہیں ، تو آپ نے فرمایا : ” تیرے چچا ہیں ، وہ تیرے پاس آ سکتے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے انہوں نے «لبن فحل» ( مرد کے دودھ ) کو حرام کہا ہے ۔ اس باب میں اصل عائشہ کی حدیث ہے ، ¤ ۳- اور بعض اہل علم نے «لبن فحل» ( مرد کے دودھ ) کی رخصت دی ہے ۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1148]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے دودھ پلانے سے جس مرد کا دودھ ہو (یعنی اس عورت کا شوہر) وہ بھی شیرخوار پر حرام ہو جاتا ہے اور اس سے بھی شیرخوار کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1948)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع 2 (1445)، (تحفة الأشراف: 1682) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشہادات 7 (2644) وتفسیر سورة السجدة 9 (6974)، و النکاح 22 (5103)، و1117 (5239)، والأدب 93 (6156)، صحیح مسلم/الرضاع (المصدر المذکور) سنن النسائی/النکاح 49 (3303)، سنن الدارمی/النکاح 48 (2294) من غیر ہذا الوجہ۔
جامع الترمذي • حدیث #1148
1146 1147 1148 1149 1150

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1149 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْ...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے پاس دو ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ