📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل (كتاب الرضاع) 🏷️ باب: باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1172 Jami at-Tirmidhi 1172
کتاب #13: کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
17: باب
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ "، قُلْنَا: وَمِنْكَ، قَالَ: " وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ، فَأَسْلَمُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وسَمِعْت عَلِيَّ بْنَ خَشْرَمٍ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ، فَأَسْلَمُ، يَعْنِي أَسْلَمُ أَنَا مِنْهُ، قَالَ سُفْيَانُ: وَالشَّيْطَانُ لَا يُسْلِمُ، وَلَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ، وَالْمُغِيبَةُ الْمَرْأَةُ الَّتِي يَكُونُ زَوْجُهَا غَائِبًا، وَالْمُغِيبَاتُ: جَمَاعَةُ الْمُغِيبَةِ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ایسی عورتوں کے گھروں میں داخل نہ ہو ، جن کے شوہر گھروں پر نہ ہوں ، اس لیے کہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے اندر ایسے ہی دوڑتا ہے جیسے خون جسم میں دوڑتا ہے “ ، ہم نے عرض کیا : آپ کے بھی ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں میرے بھی ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد کی ہے ، اس لیے میں ( اس کے شر سے ) محفوظ رہتا ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔ بعض لوگوں نے مجالد بن سعید کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے ، ¤ ۲- سفیان بن عیینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «ولكن الله اعانني عليه فاسلم» ” لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اس لیے میں محفوظ رہتا ہوں “ کی تشریح میں کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ” میں اس شیطان سے محفوظ رہتا ہوں “ ، نہ یہ کہ وہ اسلام لے آیا ہے ( کیونکہ ) : شیطان مسلمان نہیں ہوتا ، ¤ ۳- «ولاتلجوا على المغيبات» میں «مغیبة» سے مراد وہ عورت ہے ، جس کا شوہر موجود نہ ہو ، «مغيبات» ، «مغيبة» کی جمع ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1172]
قال الشيخ الألباني: صحيح - الطرف الأول يشهد له ما قبله وسائره فى " الصحيح " -، ابن ماجة (1779)، تخريج فقه السيرة (6)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2349) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”مجالد بن سعید“ کے اندر کچھ کلام ہے، صحیح سنن ابی داود 1133، 1134، تخریج فقہ السیرة 65)
جامع الترمذي • حدیث #1172
1170 1171 1172 1173 1174
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ