جامع الترمذي حدیث نمبر: 1171
Jami at-Tirmidhi 1171
کتاب #13: کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟، قَالَ: " الْحَمْوُ الْمَوْتُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ "، وَمَعْنَى قَوْلِهِ الْحَمْوُ يُقَالُ: هُوَ أَخُو الزَّوْجِ كَأَنَّهُ كَرِهَ لَهُ أَنْ يَخْلُوَ بِهَا.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے سے بچو “ ، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! دیور ( شوہر کے بھائی ) کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” دیور موت ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، جابر اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے کی حرمت کا مطلب وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت ( تنہائی ) میں ہوتا ہے تو اس کا تیسرا شیطان ہوتا ہے “ ، ¤ ۴- حمو شوہر کے بھائی یعنی دیور کو کہتے ہیں ، گویا آپ نے دیور کے بھاوج کے ساتھ تنہائی میں ہونے کو حرام قرار دیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1171]
قال الشيخ الألباني:
صحيح غاية المرام (181)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 111 (5232)، صحیح مسلم/السلام 8 (2172) (تحفة الأشراف: 9958) مسند احمد (4/149، 153)، سنن الدارمی/الاستئذان 14 (2684) (صحیح)