جامع الترمذي حدیث نمبر: 1154
Jami at-Tirmidhi 1154
کتاب #13: کتاب: رضاعت کے احکام و مسائل
7: باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تُعْتَقُ وَلَهَا زَوْجٌ
باب: عورت جو آزاد کر دی جائے اور وہ شوہر والی ہو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر غلام تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا ، تو انہوں نے خود کو اختیار کیا ، ( عروہ کہتے ہیں ) اگر بریرہ کے شوہر آزاد ہوتے تو آپ بریرہ کو اختیار نہ دیتے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1154]
💡 وضاحت:
۱؎: نسائی نے سنن میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ آخری فقرہ حدیث میں مدرج ہے، یہ عروہ کا قول ہے، اور ابوداؤد نے بھی اس کی وضاحت کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، لكن قوله: " ولو كان.... " مدرج من قول عروة، الإرواء (1873)، صحيح أبي داود (1935)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/العتق 2 (1504/9)، سنن ابی داود/ الطلاق 19 (2233)، سنن النسائی/الطلاق 31 (3481)، (تحفة الأشراف: 16770) (صحیح) وأخرجہ مطولا ومختصرا کل من: صحیح البخاری/العتق 10 (2536)، والفرائض 22 (6758)، صحیح مسلم/العتق (المصدر المذکور) (504/10)، مسند احمد (6/46، 178)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2337) من غیر ھذا الوجہ، وانظر أیضا مایأتي برقم 1256 و 2124 و 2125