📖 سنن أبي داود (Sunan Abi Dawud) • تمام کتب ↗

كِتَاب اللِّبَاسِ

کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل

کتاب #41 • کل احادیث: 139
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا
باب: نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ إِمَّا قَمِيصًا أَوْ عِمَامَةً ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ"، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ أَحَدُهُمْ ثَوْبًا جَدِيدًا، قِيلَ لَهُ: تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو قمیص یا عمامہ (کہہ کر) اس کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ابونضرہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا: تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4020]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4342) ¤ أخرجه الترمذي (1767 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 29 (1767)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (310)، (تحفة الأشراف: 4326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/30، 50) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی جریری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4021]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (4020)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالثَّقَفِيُّ سَمَاعُهُمَا وَاحِدٌ.
اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4022]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (4020)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (4020)، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ نیز فرمایا: اور جس نے (نیا کپڑا) پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4023]
قال الشيخ الألباني: حسن دون زيادة وما تأخر
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (4343) ¤ أخرجه الترمذي (3458 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3285 وسنده حسن) أبو مرحوم عبد الرحيم وثقه الجمھور وحسنه الحافظ في الفتوحات الربانية
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الدعوات 56 (3458)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3285)، (تحفة الأشراف: 11297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439)، سنن الدارمی/الاستئذان 55 (2732) (حسن) دون زیادة: ’’وما تأخر‘‘ في الموضعین
2: باب فِيمَا يُدْعَى لِمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا
باب: نیا کپڑا پہننے والے کو دعا دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ الْجَرَّاحِ الْأَذَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: " مَنْ تَرَوْنَ أَحَقُّ بِهَذِهِ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِهَا، فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا، ثُمَّ قَالَ: أَبْلِي وَأَخْلِقِي مَرَّتَيْنِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ: سَنَاهْ سَنَاهْ يَا أُمَّ خَالِدٍ وَسَنَاهْ فِي كَلَامِ الْحَبَشَةِ الْحَسَنُ".
ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کس کو اس کا زیادہ حقدار سمجھتے ہو؟ تو لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لاؤ چنانچہ وہ لائی گئیں، آپ نے انہیں اسے پہنا دیا پھر دوبار فرمایا: پہن پہن کر اسے پرانا اور بوسیدہ کرو آپ چادر کی دھاریوں کو جو سرخ یا زرد رنگ کی تھیں دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: اے ام خالد! «سناه سناه» اچھا ہے اچھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4024]
💡 وضاحت:
۱؎: سناہ حبشی زبان میں اچھا کے معنی میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5823)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد 188 (3071)، المناقب 37 (3874)، اللباس 22 (5823)، الأدب 17 (5993)، (تحفة الأشراف: 15779)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/365) (صحیح)
3: باب مَا جَاءَ فِي الْقَمِيصِ
باب: قمیص اور کرتے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ قمیص پسند تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4025]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (4328) ¤ أخرجه الترمذي (1762)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 28 (1763)، (تحفة الأشراف: 18169)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 8 (3575)، مسند احمد (306، 317، 318، 321) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: "لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے زیادہ کوئی اور کپڑا پسند نہ تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4026]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18169) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: " كَانَتْ يَدُ كُمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرُّصْغِ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قمیص (کرتے) کی آستین پہنچوں تک تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4027]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه الترمذي (1765 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 28 (1765)، (تحفة الأشراف: 15765) (ضعیف) (سند میں شہر بن حوشب حافظہ کے کمزور راوی ہیں)
4: باب مَا جَاءَ فِي الأَقْبِيَةِ
باب: قباء کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى، أَنَّ اللَّيْثَ يَعْنِيَ ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ قَالَ: " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قِبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ زَادَ ابْنُ مَوْهَبٍ مَخْرَمَةُ ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَةُ"، قَالَ قُتَيْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُسَمِّهِ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا (جب وہاں پہنچے) تو انہوں نے مجھ سے کہا: اندر جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لیے بلا لاؤ، تو میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر نکلے، آپ انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مخرمہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لیا تھا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے فرمایا: مخرمہ خوش ہو گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4028]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2599) صحيح مسلم (1058)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الہبة 19 (2599)، الشہادات 11 (2127)، الخمس 11 (3127)، اللباس 12 (5800)، 42 (5862)، الأدب 82 (6132)، صحیح مسلم/الزکاة 44 (1058)، سنن الترمذی/الأدب 53 (2818)، سنن النسائی/الزینة 45 (5326)، (تحفة الأشراف: 11268)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/328) (صحیح)
5: باب فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ
باب: شہرت کے کپڑوں کے پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الشَّامِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبًا مِثْلَهُ زَادَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ثُمَّ تُلَهَّبُ فِيهِ النَّارُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے شہرت اور ناموری کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی طرح کا لباس پہنائے گا۔ شریک کی روایت میں ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے مرفوع کرتے ہیں یعنی اپنے قول کے بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیتے ہیں نیز ابوعوانہ سے یہ اضافہ مروی ہے کہ پھر اس کپڑے میں آگ لگا دی جائے گی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4029]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (4346) ¤ أخرجه ابن ماجه (3607) وللحديث شواھد
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 24 (3606)، (تحفة الأشراف: 7464)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/92، 139) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: ثَوْبَ مَذَلَّةٍ.
مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا کپڑا پہنائے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4030]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (4029)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7464) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4031]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (4347) ¤ أخرجه أحمد (2/50) مطولًا، عبد الرحمن بن ثابت حسن الحديث وتابعه الأوزاعي في مشكل الآثار (1/88)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8593)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/50، 92) (حسن صحیح)
6: باب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعْرِ
باب: اونی اور بال والے کپڑے پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْن يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِي، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ"، وقَالَ حُسَيْنٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ پر ایک سیاہ بالوں کی چادر تھی جس میں (کجاوہ) کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے کے لیے کپڑا مانگا، آپ نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے تو میں اپنے کو دیکھتا تو اپنے آپ کو اپنے اور ساتھیوں کے بالمقابل اچھے لباس والا محسوس کرتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4032]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ [4032ب] إسناده ضعيف ¤ عقيل بن مدرك لم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ: مقبول (تق: 4663) أي مجهول الحال ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة 9 (2081)، سنن الترمذی/الأدب 49 (2813)، (تحفة الأشراف: 9753، 17857)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/185، 6/162) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: " يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ".
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا: بیٹے! اگر تم ہمیں دیکھتے اور ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور بارش ہوئی ہوتی تو تم ہم میں بھیڑوں کی بو محسوس کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4033]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ہمارے کپڑے کھالوں اور بالوں کے ہوتے تھے بھیگنے کی وجہ سے ان سے بھیڑ بکریوں کی بو آتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2479) ابن ماجه (3562) ¤ قتادة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/صفة القیامة 38 (2479)، سنن ابن ماجہ/اللباس 4 (3562)، (تحفة الأشراف: 9126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/407، 419) (صحیح)
6.1: باب
باب: قیمتی لباس پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً، فَقَبِلَهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شاہ ذی یزن ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا جسے اس نے (۳۳) اونٹ یا اونٹنیاں دے کر لیا تھا تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4034]
💡 وضاحت:
۱؎: ذی یزن حمیری بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا نام تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال أحمد في عمارة بن زاذان:”يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير“ (الجرح والتعديل 6/ 366 وسنده صحيح) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 459)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/221)، سنن الدارمی/السیر 53 (2536) (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ: " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى حُلَّةً بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ قَلُوصًا، فَأَهْدَاهَا إِلَى ذِي يَزَنَ".
اسحاق بن عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا بیس سے کچھ زائد اونٹنیاں دے کر خریدا پھر آپ نے اسے بادشاہ ذی یزن کو ہدیے میں بھیجا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4035]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ السند مرسل وعلي بن زيد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18434) (ضعیف)
7: باب لِبَاسِ الْغَلِيظِ
باب: موٹے کپڑے پہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَعْنَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ، فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ".
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا ایک موٹا تہبند اور ایک کمبل جسے «ملبدة» کہا جاتا تھا نکال کر دکھایا پھر وہ قسم کھا کر کہنے لگیں کہ انہیں دونوں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4036]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2080)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 5 (3108)، اللباس 19 (5818)، صحیح مسلم/اللباس 6 (2080)، سنن الترمذی/اللباس 10 (1733)، سنن ابن ماجہ/اللباس 1 (3551)، (تحفة الأشراف: 17693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/32، 131) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ائْتِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا جَمِيلًا جَهِيرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ لَقَدْ" رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مَنِ الْحُلَلِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خوارج نکلے تو میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: تم ان لوگوں کے پاس جاؤ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو؟ ابن عباس نے کہا: تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4037]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه الببيهقي (8/ 179 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5676) (حسن الإسناد)
8: باب مَا جَاءَ فِي الْخَزِّ
باب: خز (اون اور ریشم سے بنے لباس) پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْمَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَجُلًا بِبُخَارَى عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهِ عِمَامَةُ خَزٍّ سَوْدَاءُ، فَقَالَ: كَسَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" هَذَا لَفْظُ عُثْمَانَ وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِهِ.
سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ۱؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4038]
💡 وضاحت:
۱؎: خز: ایک قسم کا ریشمی اونی کپڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3321) ¤ سعد بن عثمان،لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجهول كما في التحرير (2250) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة الحاقة 67 (3321)، (تحفة الأشراف: 15578) (ضعیف الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ أَوْ أَبُو مَالِكٍ وَاللَّهِ يَمِينٌ أُخْرَى مَا كَذَّبَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّ وَالْحَرِيرَ، وَذَكَرَ كَلَامًا، قَالَ: يُمْسَخُ مِنْهُمْ آخَرُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَعِشْرُونَ نَفْسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَكْثَرُ لَبِسُوا الْخَزَّ مِنْهُمْ أَنَسٌ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ.
عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کہتے ہیں مجھ سے ابوعامر یا ابو مالک نے بیان کیا اور اللہ کی قسم انہوں نے جھوٹ نہیں کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو خز اور حریر (ریشم) کو حلال کر لیں گے پھر کچھ اور ذکر کیا، فرمایا: ان میں سے کچھ قیامت تک کے لیے بندر بنا دیئے جائیں گے اور کچھ سور۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بیس یا اس سے زیادہ لوگوں نے خز پہنا ہے ان میں سے انس اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4039]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري (5590)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، خ تعلیقًا/ الأشربة 6 (5590)، (تحفة الأشراف: 12161) (صحیح)
9: باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: حریر (ریشم) پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ تُبَاعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی جوڑا بکتا ہوا دیکھا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور وفود سے ملاقات کے وقت اسے زیب تن فرماتے (تو اچھا ہوتا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر انہیں میں سے کچھ جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے اس میں سے ایک جوڑا عمر بن خطاب کو دیا، تو عمر کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ آپ مجھے پہنا رہے ہیں حالانکہ آپ عطارد کے جوڑوں کے سلسلہ میں ایسا ایسا فرما چکے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم (خود) پہنو تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی (عثمان بن حکیم) کو دے دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4040]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2612) صحيح مسلم (2068)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (1076)، (تحفة الأشراف: 8335) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: حُلَّةُ إِسْتَبْرَقٍ، وَقَالَ: فِيهِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، وَقَالَ: تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے لیکن اس میں دھاری دار ریشمی جوڑے کے بجائے موٹے ریشم کا جوڑا ہے نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4041]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2054) صحيح مسلم (2068)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (1077)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا وَهَكَذَا أُصْبُعَيْنِ وَثَلَاثَةً وَأَرْبَعَةً".
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا مگر جو اتنا اور اتنا ہو یعنی دو، تین اور چار انگلی کے بقدر ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4042]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5829) صحيح مسلم (2069)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 25 (5828)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن النسائی/الزینة 38 (5314)، سنن ابن ماجہ/ الجہاد 21 (3593) (تحفة الأشراف: 10597)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/15، 36، 43) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، فَلَبِسْتُهَا فَأَتَيْتُهُ فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی دھاری دار جوڑا ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی آپ نے فرمایا: میں نے اسے اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے (خود) پہنو آپ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4043]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2071)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن النسائی/الزینة 30 (5300)، (تحفة الأشراف: 10329)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5840)، مسند احمد (1/90، 139، 153) (صحیح)
10: باب مَنْ كَرِهَهُ
باب: ریشم کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ"،
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی (ایک ریشمی کپڑا) اور معصفر (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) اور سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4044]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2078)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 41 (480)، اللباس 4 (2078)، سنن الترمذی/الصلاة 80 (264) واللباس 5 (1725)، 13 (1737)، سنن النسائی/التطبیق 7 (1041)، والزینة 43 (5180)، الزینة من المجتبی 23 (5269، 5270)، سنن ابن ماجہ/اللباس 21 (3602)، 40 (3642)، (تحفة الأشراف: 10179)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 6 (28)، مسند احمد (1/80، 81، 92، 104، 105، 114، 119، 121، 123، 126، 127، 132، 133، 134، 137، 138، 146) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ: " عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
اس سند سے بھی بواسطہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں رکوع اور سجدے دونوں میں قرآت کی ممانعت کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4045]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4044)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10179) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا زَادَ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ.
اس سند سے بھی ابراہیم بن عبداللہ سے یہی روایت مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4046]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أخرجه ابن عبد البر في التمھيد (16/144 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (4044)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (4044)، (تحفة الأشراف: 10179) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهِ تَذَبْذَبَانِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ، فَلَبِسَهَا ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا، قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس (ایک باریک ریشمی کپڑا) کا ایک چوغہ ہدیہ میں بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ اسے مل رہے ہیں، پھر آپ نے اسے جعفر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو انہوں نے کہا: پھر میں اسے کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4047]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ علي بن زيد ضعيف ¤ وأصله صحيح راجع مسند الحميدي بتحقيقي (1213) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1098)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/111، 229، 251) (ضعیف الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ، قَالَ: وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ، قَالَ: وَقَالَ: أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ"، قَالَ سَعِيدٌ: أُرَهُ، قَالَ: إِنَّمَا حَمَلُوا قَوْلَهُ فِي طِيبِ النِّسَاءِ عَلَى أَنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ فَأَمَّا إِذَا كَانَتْ عِنْدَ زَوْجِهَا فَلْتَطَّيَّبْ بِمَا شَاءَتْ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سرخ گدوں (زین پوشوں) پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں۔ راوی کہتے ہیں: حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو، سنو! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو۔ سعید کہتے ہیں: میرا خیال ہے قتادہ نے کہا: علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی بھی خوشبو چاہیں لگائیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4048]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2788) ¤ سعيد وقتادة والحسن مدلسون وعنعنوا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10803)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 36 (2789)، مسند احمد (4/442) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ يَعْنِي الْهَيْثَمَ بْنَ شَفِيٍّ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُكْنَى أَبَا عَامِرٍ رَجُلٌ مِنَ الْمَعَافِرِ لِنُصَلِّيَ بِإِيلْيَاءَ وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَدِفْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَنِي هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ فِي أَسْفَلِ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى وَرُكُوبِ النُّمُورِ وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ذِكْرُ الْخَاتَمِ.
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، اور مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ کے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4049]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (5094) وغيره،ابن ماجه (3655) ¤ أبو عامر المعافري الحجري: لم أجد من وثقه وھو: مجهول الحال كما في التحرير (8200) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 20 (5094)، 27 (5113، 5114، 5115)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 47 (3655)، (تحفة الأشراف: 12039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/134، 135)، سنن الدارمی/الاستئذان 20 (2690) (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سرخ گدوں (زین پوشوں) سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4050]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4356) ¤ وله شاھد صحيح عند النسائي (5183)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10237)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/121) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی ۱؎ پہننے سے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4051]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک ریشمی کپڑا جو مصر میں تیار ہوتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4356) ¤ رواية شعبة عن أبي إسحاق محمولة علي السماع
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/ الأدب 45 (2808)، سنن النسائی/ الزینة 43 (5168)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 46 (3654)، (تحفة الأشراف: 10304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/93، 104، 127، 132، 133، 137) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلَاتِي وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو جَهْمٍ بْنُ حُذَيْفَةَ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ غَانِمٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی تو آپ کی نظر اس کی دھاریوں پر پڑی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: میری یہ چادر ابوجہم کو لے جا کر دے آؤ کیونکہ اس نے ابھی مجھے نماز سے غافل کر دیا (یعنی میرا خیال اس کے بیل بوٹوں میں بٹ گیا) اور اس کی جگہ مجھے ایک سادہ چادر لا کر دو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجہم بن حذیفہ بنو عدی بن کعب بن غانم میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4052]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5817) صحيح مسلم (556)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (915)، (تحفة الأشراف: 16403) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ وَالْأَوَّلُ أَشْبَعُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4053]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (752) صحيح مسلم (556) ¤ انظر الحديث السابق (914)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (914)، (تحفة الأشراف: 16434) (صحیح)
11: باب الرُّخْصَةِ فِي الْعَلَمِ وَخَيْطِ الْحَرِيرِ
باب: کپڑے پر ریشمی بیل بوٹوں اور ریشمی دھاگوں کا استعمال جائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَبُو عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي السُّوقِ اشْتَرَى ثَوْبًا شَأْمِيًّا فَرَأَى فِيهِ خَيْطًا أَحْمَرَ، فَرَدَّهُ فَأَتَيْتُ أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ" يَا جَارِيَةُ نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ جُبَّةَ طَيَالِسَةَ مَكْفُوفَةَ الْجَيْبِ وَالْكُمَّيْنِ وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ".
عبداللہ ابوعمر مولی اسماء بنت ابی بکر کا بیان ہے میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بازار میں ایک شامی کپڑا خریدتے دیکھا انہوں نے اس میں ایک سرخ دھاگہ دیکھا تو اسے واپس کر دیا تو میں اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو وہ (اپنی خادمہ سے) بولیں بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مجھے لا دے، تو وہ نکال کر لائیں وہ ایک طیالسی ۱؎ جبہ تھا جس کے گریبان اور دونوں آستینوں اور آگے اور پیچھے ریشم ٹکا ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4054]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک اونی منقش کپڑا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (3594 وسنده حسن) وأصله عند مسلم (2069)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، (تحفة الأشراف: 15721)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 18 (3594)، مسند احمد (6/348، 353، 354، 355) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنَ الْحَرِيرِ فَأَمَّا الْعَلَمُ مِنَ الْحَرِيرِ وَسَدَى الثَّوْبِ، فَلَا بَأْسَ بِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کپڑے سے جو خالص ریشمی ہو منع فرمایا ہے، رہا ریشمی بوٹا اور ریشمی کپڑے کا تانا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4055]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فأما العلم
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ خصيف ضعيف وروي أحمد (313/1 وأطراف المسند 95/3) بإسناد صحيح عن ابن عباس قال:”إنما نهي رسول اللّٰه ﷺ عن (الثوب) المصمت حريرًا“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/313، 321) (صحیح) دون قولہ: ''فأما العلم...''
12: باب فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِعُذْرٍ
باب: عذر کی وجہ سے ریشمی کپڑا پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَلِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4056]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2919) صحيح مسلم (2076)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد 91 (2919)، واللباس 29 (5839)، صحیح مسلم/اللباس 3 (2076)، سنن النسائی/الزینة من المجتمع 38 (5312)، سنن ابن ماجہ/اللباس 17 (3592)، (تحفة الأشراف: 1169)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 2 (1722)، مسند احمد (3/127، 180، 215، 255، 273) (صحیح)
13: باب فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے لیے ریشمی کپڑا کی حلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ يَعْنِي الْغَافِقِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا، فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4057]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4394) ¤ وله طريق آخر عند النسائي (5148 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 40 (5147)، سنن ابن ماجہ/اللباس 19 (3595)، (تحفة الأشراف: 10183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96، 115) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا سِيَرَاءَ"، قَالَ: وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ریشمی دھاری دار چادر پہنے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: «سیراء» کے معنی ریشمی دھاری دار کپڑے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4058]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه البخاري (5842) مختصرًا
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5842 تعلیقًا)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 30 (5299)، (تحفة الأشراف: 1533)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 19(3598) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " كُنَّا نَنْزِعُهُ عَنِ الْغِلْمَانِ وَنَتْرُكُهُ عَلَى الْجَوَارِي، قَالَ: مِسْعَرٌ فَسَأَلْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو (اسے پہنے دیکھتے تو انہیں) چھوڑ دیتے تھے۔ مسعر کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4059]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مسعر نے جب یہ حدیث عبدالملک بن میسرہ زراد کوفی سے عمرو بن دینار کے واسطہ سے روایت کرتے سنی تو انہوں نے براہ راست عمرو بن دینار سے اس کے بارے میں پوچھا تو عمرو نے لاعلمی کا اظہار کیا ممکن ہے انہیں یہ حدیث یاد نہ رہی ہو وہ بھول گئے ہوں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2561) (صحیح)
14: باب فِي لُبْسِ الْحِبَرَةِ
باب: دھاری دار لال چادر پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ" أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: الْحِبَرَةُ".
قتادہ کہتے ہیں ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا؟ تو انہوں نے کہا: دھاری دار یمنی چادر ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4060]
💡 وضاحت:
۱؎: «حبرہ» : یمن کے اچھے کپڑوں کو کہتے تھے، اور یہاں اس سے یمن کی لال رنگ کی خط دار چادر جو سوت یا کتان کی ہوتی تھی مرادہے، اور اس کا شمار عرب کے بہترین کپڑوں میں تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5812) صحيح مسلم (2079)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 18 (5812)، صحیح مسلم/اللباس 5 (2079)، (تحفة الأشراف: 1395)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 45 (1787)، الشمائل 8 (60)، مسند احمد (3/134، 184، 251، 291) (صحیح)
15: باب فِي الْبَيَاضِ
باب: سفید کپڑوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا خَيْرُ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4061]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (1638) ¤ انظر الحديث السابق (3878)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم (3878)، (تحفة الأشراف: 5534) (صحیح)
16: باب فِي غَسْلِ الثَّوْبِ وَفِي الْخُلْقَانِ
باب: کپڑے دھونے کا اور پرانے کپڑوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ نَحْوَهُ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قَدْ تَفَرَّقَ شَعْرُهُ، فَقَالَ: " أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ، وَرَأَى رَجُلًا آخَرَ وَعَلْيِهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ، فَقَالَ: أَمَا كَانَ هَذَا يَجِدُ مَاءً يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کر لے؟ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا: کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4062]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4351) ¤ أخرجه النسائي (5238 وسنده صحيح) وابن عبد البر في التمھيد (5/52)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة من المجتبی 6 (5238)، (تحفة الأشراف: 3012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟ قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، قَالَ: فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا، فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ".
مالک بن نضلۃ الجشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مالدار ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام (ہر طرح کے مال سے) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4063]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أبو إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (3/473) ورواه عنه شعبة أيضًا
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 52 (5225)، الزینة من المجتبی 28 (5296)، (تحفة الأشراف: 11203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 473، 4/137) (صحیح الإسناد)
17: باب فِي الْمَصْبُوغِ بِالصُّفْرَةِ
باب: پیلے یا گیروے رنگ سے رنگے ہوئے کپڑوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْبُغُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ؟ فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهَا، وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ".
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد (زعفرانی) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4064]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4479) ¤ أخرجه النسائي (5088 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 37 (5852)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن النسائی/الزینة 17 (5088)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، (تحفة الأشراف: 6728) (صحیح الإسناد)
18: باب فِي الْخُضْرَةِ
باب: سبز (ہرے) رنگ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ بُرْدَيْنِ أَخْضَرَيْنِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ پر دو سبز رنگ کی چادریں دیکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4065]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4359) ¤ أخرجه النسائي (1573 وسنده صحيح) ورواه الترمذي (2812 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب 48 (2813)، سنن النسائی/العیدین 15 (1573)، الزینة من المجتبی 42 (5321)، (تحفة الأشراف: 12036)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/226، 227، 228) (صحیح)
19: باب فِي الْحُمْرَةِ
باب: لال رنگ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الرَّيْطَةُ عَلَيْكَ؟ فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورًا لَهُمْ، فَقَذَفْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے؟ میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو ناپسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عبداللہ! وہ چادر کیا ہوئی؟ تو میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4066]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ رواه ابن ماجه (3603 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (708)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 21 (3603)، (تحفة الأشراف: 8811)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 196) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ الْمُضَرَّجَةُ" الَّتِي لَيْسَتْ بِمُشَبَّعَةٍ وَلَا الْمُوَرَّدَةُ".
ہشام بن غاز کہتے ہیں کہ وہ مضرجہ (چادر) ہوتی ہے جو درمیانی رنگ کی ہو نہ بہت زیادہ لال ہو اور نہ بالکل گلابی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4067]
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8811) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ شُفْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ: أُرَاهُ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟، فَانْطَلَقْتُ، فَأَحْرَقْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ؟ فَقُلْتُ: أَحْرَقْتُهُ، قَالَ: أَفَلَا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ؟"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدٍ، فَقَالَ: مُوَرَّدٌ، وَطَاوُسٌ، قَالَ: مُعَصْفَرٌ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے (ناگواری کے انداز میں) فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد (گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا) اور طاؤس نے «معصفر» (کسم میں رنگا ہوا کپڑا) روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4068]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شفعة مستور وثقه ابن حبان وجھله ابن القطان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4066)، (تحفة الأشراف: 8824) (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4069]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2807) ¤ قال أحمد في أبي يحيي القتات:”روي عنه إسرائيل أحاديث كثيرة مناكير جدًا“ (الجرح والتعديل 433/3 وسنده صحيح) وقال الحافظ: لين الحديث (تق: 4069) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10 / 74،و انظر 200/7) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب 45 (2807)، (تحفة الأشراف: 8918) (ضعیف) (سند میں ابویحیی القتات لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَوَاحِلِنَا وَعَلَى إِبِلِنَا أَكْسِيَةً فِيهَا خُيُوطُ عِهْنٍ حُمْرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَرَى هَذِهِ الْحُمْرَةَ قَدْ عَلَتْكُمْ؟، فَقُمْنَا سِرَاعًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَرَ بَعْضُ إِبِلِنَا، فَأَخَذْنَا الْأَكْسِيَةَ فَنَزَعْنَاهَا عَنْهَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں (پالانوں) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے (ابھی تو زین پوش سرخ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگو گے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4070]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ رجل من بني حارثة: مجهول،كما قال المنذري (عون المعبود 93/4) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3592)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/463) (ضعیف الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال َ ابْنُ عَوْفٍ الطَّائِي ّ: وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ يَعْنِي ابْنَ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ الْأَبَحِّ السَّلِيحِيِّ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَتْ: " كُنْتُ يَوْمًا عِنْدَ زَيْنَبَ امْرَأَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَصْبُغُ ثِيَابًا لَهَا بِمَغْرَةٍ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْمَغْرَةَ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ عَلِمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ مَا فَعَلَتْ فَأَخَذَتْ، فَغَسَلَتْ ثِيَابَهَا وَوَارَتْ كُلَّ حُمْرَةٍ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَاطَّلَعَ فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا دَخَلَ".
حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے: میں ایک دن ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیروے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ناگوار لگا ہے، چنانچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4071]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حريث بن الأبج: مجهول (تق: 1179) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18369) (ضعیف الإسناد)
20: باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: لال رنگ کا استعمال جائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَرَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4072]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3551) صحيح مسلم (2337)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 23 (3551)، اللباس 35 (5848)، 68 (5901)، صحیح مسلم/الفضائل 25 (2337)، سنن الترمذی/اللباس 4 (1724)، الأدب 47 (2811)، المناقب 8 (3635)، الشمائل 1 (62)، 3 (64)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 5 (5234)، (تحفة الأشراف: 1869)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 20 (3599)، مسند احمد (4/281، 295)، وأعاد المؤلف بعضہ فی الترجل (4284) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَخْطُبُ عَلَى بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَامَهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ".
عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک خچر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ پر لال چادر تھی اور علی رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آپ کی آواز دوسروں تک پہنچا رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4073]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ جو کہتے ہیں اسے بلند آواز سے پکار کر کہہ دیتے تاکہ آپ کی باتیں لوگوں کو پہنچ جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4363) ¤ انظر الحديث السابق (1956)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5055)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/477) (صحیح)
21: باب فِي السَّوَادِ
باب: کالے رنگ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرَقَ فِيهَا وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ، فَقَذَفَهَا، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَكَانَ تُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سیاہ چادر رنگی تو آپ نے اس کو پہنا پھر جب اس میں پسینہ لگا اور اون کی بو محسوس کی تو اس کو اتار دیا، آپ کو خوشبو پسند تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4074]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17665)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/132، 144، 219، 249) (صحیح)
22: باب فِي الْهُدْبِ
باب: کپڑے کے جھالر کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ أَبِي خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ، قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ وَقَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ".
جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4075]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبيدة أبو خداش:مجهول (تق: 4414) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2125)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/63) (ضعیف)
23: باب فِي الْعَمَائِمِ
باب: عمامہ (پگڑی) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ایک کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4076]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه مسلم (1358) من طريق آخر
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 11 (1735)، سنن النسائی/الحج 107 (2872)، الزینة 55 (5346، 5347)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 22 (2822)، اللباس 14 (3585)، (تحفة الأشراف: 2689)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 84 (1358)، مسند احمد (3/363، 387) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4077]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1359)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، سنن الترمذی/الشمائل 16 (108)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 56 (5348)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 22 (2821)، اللباس 15 (3587)، (تحفة الأشراف: 10716)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/307)، سنن الدارمی/المناسک 88 (1982) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رُكَانَةُ: وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ".
محمد بن علی بن رکانہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو آپ نے رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر پگڑی باندھنے کا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4078]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1784) ¤ أبو الحسن و أبو جعفر مجهولان (تق 8048،8016) ¤ والحديث ضعفه الترمذي ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 42 (1784)، (تحفة الأشراف: 3614) (ضعیف) (سند میں ابوجعفر مجہول راوی ہیں، اور محمد علی اور ان کے دادا یعنی رکانہ کے درمیان انقطاع ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْغَطَفَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ خَرَّبُوذَ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، يَقُولُ: " عَمَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَدَلَهَا بَيْنَ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي".
اہل مدینہ کے ایک شیخ کہتے ہیں میں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عمامہ باندھا تو اس کا شملہ میرے آگے اور پیچھے دونوں جانب لٹکایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4079]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شيخ من أھل المدينة:مجهول كما قال المنذري (عون المعبود 96/4) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9731) (ضعیف) (شیخ مدینہ مبہم ہے)
24: باب فِي لِبْسَةِ الصَّمَّاءِ
باب: جسم پر اس طرح کپڑا لپیٹنا کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ مُفْضِيًا بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَيَلْبَسُ ثَوْبَهُ وَأَحَدُ جَانِبَيْهِ خَارِجٌ وَيُلْقِي ثَوْبَهُ عَلَى عَاتِقِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے ایک یہ کہ آدمی اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی ہو اس پر کوئی کپڑا نہ ہو، دوسرے یہ کہ اپنا کپڑا سارے بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ ایک طرف کا حصہ کھلا ہو، اور کپڑا اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4080]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه مسلم (1511، 1554)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/319، 380، 391) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّمَّاءِ، وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4081]
💡 وضاحت:
۱؎: صمّاء یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پر لپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں۔
۲؎: احتباء: یہ ہے کہ آدمی سرین اور پنڈلیاں کھڑی رکھے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2099)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 21 (299)، سنن الترمذی/الأدب 20 (2767)، سنن النسائی/الزینة 53 (5344)، (تحفة الأشراف: 2693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 297، 322، 331، 344، 349) (صحیح)
25: باب فِي حَلِّ الأَزْرَارِ
باب: بٹن کھلا رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ بْنُ قُشَيْرٍ أَبُو مَهَلٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَبَايَعْنَاهُ وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقُ الْأَزْرَارِ، قَالَ: فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدَيَّ فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ، فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ"، قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ قَطُّ إِلَّا مُطْلِقَيْ أَزْرَارِهِمَا فِي شِتَاءٍ وَلَا حَرٍّ وَلَا يُزَرِّرَانِ أَزْرَارَهُمَا أَبَدًا.
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ کچھ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، میں نے آپ سے بیعت کی پھر اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے گریبان میں داخل کیا اور مہر نبوت کو چھوا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ اور ان کے بیٹے کی قمیص کے بٹن جاڑا ہو یا گرمی ہمیشہ کھلے دیکھے، یہ دونوں کبھی بٹن لگاتے ہی نہیں تھے اپنے گریبان ہمیشہ کھلے رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4082]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4336) ¤ أخرجه ابن ماجه (3578 وسنده صحيح) والترمذي في الشمائل بتحقيقي (59 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/ الشمائل (58)، سنن ابن ماجہ/اللباس 11 (3578)، (تحفة الأشراف: 11079)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/434، 4/19، 5/35) (صحیح)
26: باب فِي التَّقَنُّعِ
باب: سر ڈھانپنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ عُرْوَةُ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: "بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اپنے گھر میں گرمی میں عین دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک کہنے والے نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھانپے ایک ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جس میں آپ نہیں آیا کرتے ہیں چنانچہ آپ آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر تشریف لائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4083]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه البخاري (5807)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 16 (5807)، (تحفة الأشراف: 16653، 16663)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/198) (صحیح)
27: باب مَا جَاءَ فِي إِسْبَالِ الإِزَارِ
باب: تہ بند (لنگی) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِي وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدُّ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكَ، قَالَ: قُلْتُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ، قَالَ: قُلْتُ اعْهَدْ إِلَيَّ، قَالَ: لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً، قَالَ: وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ".
ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے دو مرتبہ کہا: «عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك السلام» نہ کہو، یہ مردوں کا سلام ہے اس کے بجائے «السلام عليك» کہو۔ میں نے کہا: (کیا) آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس اللہ کا بھیجا رسول ہوں، جس کو تمہیں کوئی ضرر لاحق ہو تو پکارو وہ تم سے اس ضرر کو دور فرما دے گا، جب تم پر کوئی قحط سالی آئے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے غلہ اگا دے گا، اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو یا میدان پھر تمہاری اونٹنی گم ہو جائے تو اگر تم اس اللہ سے دعا کرو تو وہ اسے لے آئے گا، میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا: کسی کو بھی گالی نہ دو۔‏‏‏‏ اس کے بعد سے میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہ بند نصف «ساق» (پنڈلی) تک اونچی رکھو، اور اگر اتنا نہ ہو سکے تو ٹخنوں تک رکھو، اور تہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ غرور و تکبر کی بات ہے، اور اللہ غرور پسند نہیں کرتا، اور اگر تمہیں کوئی گالی دے اور تمہارے اس عیب سے تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے اس عیب سے عار نہ دلاؤ جسے تم جانتے ہو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/حدیث: 4084]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1918) ¤ أخرجه الترمذي (2722 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2124)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 28 (2722)، سنن النسائی/ الکبری (9691)، مسند احمد (3/482، 5/63) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ أَحَدَ جَانِبَيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِنِّي لَأَتَعَاهَدُ ذَلِكَ مِنْهُ، قَالَ: لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهُ خُيَلَاءَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی غرور اور تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا تو اللہ اسے قیامت کے دن نہیں دیکھے گا یہ سنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹکتا رہتا ہے جب کہ میں اس کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو جو غرور سے یہ کام کیا کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4085]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5784) ¤ مشكوة المصابيح (4332)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3665)، اللباس 1 (5783)، 2 (5784)، 5 (5791)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 50 (5337)، (تحفة الأشراف: 7026)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 9 (2085)، سنن الترمذی/اللباس 8 (1730)، 9 (1731)، سنن ابن ماجہ/اللباس 6 (3571)، 9 (3576)، موطا امام مالک/اللباس 5 (9)، مسند احمد (2/5، 10، 32، 42، 44، 46، 55، 56، 60، 65، 67، 69، 74، 76، 81) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ؟، ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا وضو کر کے آؤ وہ گیا اور وضو کر کے دوبارہ آیا، پھر آپ نے فرمایا: جاؤ اور وضو کر کے آؤ تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو وضو کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہو رہتے ہیں آخر کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو اپنا تہ بند ٹخنے کے نیچے لٹکائے ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4086]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث السابق (638)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم (638)، (تحفة الأشراف: 14241) (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، قُلْتُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا؟ فَأَعَادَهَا ثَلَاثًا، قُلْتُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَابُوا وَخَسِرُوا؟ فَقَالَ: الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ أَوِ الْفَاجِرِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا میں نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، پھر آپ نے یہی بات تین بار دہرائی، میں نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹخنہ سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، اور احسان جتانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4087]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (106)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 46 (106)، سنن الترمذی/البیوع 5 (1211)، سنن النسائی/الزکاة 69 (2564)، البیوع 5 (4463)، الزینة من المجتبی 50 (5335)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2208)، (تحفة الأشراف: 11909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/148، 158، 162، 168، 178)، دی/ البیوع 63 (2647) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ: الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ.
اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے راوی کہتے ہیں: «منان» وہ ہے جو بغیر احسان جتائے کچھ نہ دے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4088]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (106)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11909) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ بِشْرٍ التَّغْلِبِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ إِنَّمَا هُوَ صَلَاةٌ فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا هُوَ تَسْبِيحٌ وَتَكْبِيرٌ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَمَرَّ بِنَا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَقَدِمَتْ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي يَجْلِسُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: لَوْ رَأَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْعَدُوُّ فَحَمَلَ فُلَانٌ فَطَعَنَ، فَقَالَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ؟ قَالَ مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ بَطَلَ أَجْرُهُ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ آخَرُ، فَقَالَ: مَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا فَتَنَازَعَا حَتَّى سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لَا بَأْسَ أَنْ يُؤْجَرَ وَيُحْمَدَ، فَرَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ سُرَّ بِذَلِكَ وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَيَقُولُ: أَنْتَ سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَمَا زَالَ يُعِيدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، قَالَ: فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُنْفِقُ عَلَى الْخَيْلِ كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ وَإِسْبَالُ إِزَارِهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا فَعَجِلَ فَأَخَذَ شَفْرَةً فَقَطَعَ بِهَا جُمَّتَهُ إِلَى أُذُنَيْهِ وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا كَأَنَّكُمْ شَامَةٌ فِي النَّاسِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَتَّى تَكُونُوا كَالشَّامَةِ فِي النَّاسِ.
قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص دمشق میں تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ خلوت پسند آدمی تھے، لوگوں میں کم بیٹھتے تھے، اکثر اوقات نماز ہی میں رہتے تھے جب نماز سے فارغ ہوتے تو جب تک گھر نہ چلے جاتے تسبیح و تکبیر ہی میں لگے رہتے۔ ایک روز وہ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم ابو الدرداء کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ابوالدرداء نے کہا: کوئی ایسی بات کہئیے جس سے ہمیں فائدہ ہو، اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو تو وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد کے لیے بھیجا، جب وہ سریہ لوٹ کر واپس آیا تو اس میں کا ایک شخص آیا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے وہاں آ کر بیٹھ گیا، پھر وہ اپنے بغل کے ایک شخص سے کہنے لگا: کاش تم نے ہمیں دیکھا ہوتا جب ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تھی، فلاں نے نیزہ اٹھا کر دشمن پر وار کیا اور وار کرتے ہوئے یوں گویا ہوا لے میرا یہ وار اور میں قبیلہ غفار کا فرزند ہوں بتاؤ تم اس کے اس کہنے کو کیسا سمجھتے ہو؟ وہ بولا: میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کا ثواب جاتا رہا، ایک اور شخص نے اسے سنا تو بولا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چنانچہ وہ دونوں جھگڑنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: سبحان اللہ! کیا قباحت ہے اگر اس کو ثواب بھی ملے اور لوگ اس کی تعریف بھی کریں۔ بشر تغلبی کہتے ہیں: میں نے ابوالدرداء کو دیکھا وہ اسے سن کر خوش ہوئے اور اپنا سر ان کی طرف اٹھا کر پوچھنے لگے کہ آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر وہ باربار یہی سوال دہرانے لگے یہاں تک کہ میں سمجھا کہ وہ ان کے گھٹنوں پر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو ان سے ابو الدرداء نے کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جہاد کی نیت سے) گھوڑوں کی پرورش پر صرف کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اپنا ہاتھ پھیلا کے صدقہ کر رہا ہو کبھی انہیں سمیٹتا نہ ہو۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے پھر ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے، تو انہوں نے کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر ان کے سر کے بال بڑھے ہوئے نہ ہوتے، اور تہ بند ٹخنے سے نیچے نہ لٹکتا یہ بات خریم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے چھری لے کر اپنے بالوں کو کاٹ کر کانوں کے برابر کر لیا، اور تہ بند کو نصف «ساق» (پنڈلی) تک اونچا کر لیا۔ پھر دوبارہ ایک اور دن ہمارے پاس سے ان کا گزر ہوا تو ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے اور جس سے آپ کو کوئی نقصان نہ ہو، تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اب تم اپنے بھائیوں سے ملنے والے ہو (یعنی سفر سے واپس گھر پہنچنے والے ہو) تو اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو تاکہ تم اس طرح ہو جاؤ گویا تم تل ہو لوگوں میں یعنی ہر شخص تمہیں دیکھ کر پہچان لے، کیونکہ اللہ فحش گوئی کو، اور قدرت کے باوجود خستہ حالت (پھٹے پرانے کپڑے) میں رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح ابونعیم نے ہشام سے روایت کیا ہے اس میں «حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس» کے بجائے «حتى تكونوا كالشامة في الناس» ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4089]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4461)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4654)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/179، 180) (ضعیف)
28: باب مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ
باب: تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْمَعْنَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ مُوسَى: عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، وَقَالَ هَنَّادٌ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ هَنَّادٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے: بڑائی (کبریائی) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند، تو جو کوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4090]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وله شاھد عند مسلم (2620)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البر والصلة 38 (2620)، سنن ابن ماجہ/الزھد 16 (4174)، (تحفة الأشراف: 12192)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/248، 376، 414، 427، 442) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْقَسْمَلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ مِثْلَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر کبر و غرور ہو اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4091]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (91)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 39 (91)، سنن الترمذی/البر والصلة 61 (1998)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 9 (59)، (تحفة الأشراف: 9421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/287، 412، 416، 2/164، 3/12،17) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَجُلًا جَمِيلًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى حَتَّى مَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ، إِمَّا قَالَ بِشِرَاكِ نَعْلِي، وَإِمَّا قَالَ بِشِسْعِ نَعْلِي، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنَّ الْكِبْرَ: مَنْ بَطِرَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ ایک خوبصورت آدمی تھا اس نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خوبصورتی پسند ہے، اور مجھے خوبصورتی دی بھی گئی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ میں نہیں چاہتا کہ خوبصورتی اور زیب و زینت میں مجھ سے کوئی میری جوتی کے تسمہ کے برابر بھی بڑھنے پائے، کیا یہ کبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ کبر یہ ہے کہ حق بات کی تغلیط کرے، اور لوگوں کو کمتر سمجھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4092]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (4091)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14540) (صحیح الإسناد)
29: باب فِي قَدْرِ مَوْضِعِ الإِزَارِ
باب: تہ بند (لنگی) کہاں تک پہنے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنِ الْإِزَارِ، فَقَال: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَلَا حَرَجَ أَوْ لَا جُنَاحَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، فَهُوَ فِي النَّارِ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ".
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4093]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4331)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 6 (3573)، (تحفةالأشراف: 4136)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس 5 (12)، مسند احمد (3/5،31، 44، 52، 97) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ، وَالْقَمِيصِ، وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسبال: تہ بند (لنگی)، قمیص (کرتے) اور عمامہ (پگڑی) میں ہے، جو ان میں سے کسی چیز کو تکبر اور گھمنڈ سے گھسیٹے گا اللہ اسے قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4094]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ أخرجه النسائي (5336 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 9 (3576)، (تحفة الأشراف: 6768)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9720) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُمَيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ".
یزید بن ابی سمیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ازار (تہ بندں، لنگی) کے سلسلہ میں فرمائی ہے وہی قمیص (کرتہ) کے متعلق بھی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4095]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/110، 137) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ أَنَّهُ، رَأَى ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْتَزِرُ، فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهِ، قُلْتُ: لِمَ تَأْتَزِرُ هَذِهِ الْإِزْرَةَ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَزِرُهَا".
عکرمہ کا بیان ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں؟ تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4096]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4370)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6215)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9681) (صحیح الإسناد)
30: باب لِبَاسِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے لباس کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ لَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4097]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5885)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 61 (5885)، الحدود 33 (6834)، سنن الترمذی/الأدب 34 (2784)، سنن ابن ماجہ/النکاح 22 (1904)، (تحفة الأشراف: 6188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/251، 254، 330، 339)، سنن الدارمی/الاستئذان 21 (2691) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد پر جو عورتوں کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر جو مردوں کا لباس پہنتی ہے لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4098]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4469)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12670)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/325) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ وَبَعْضُهُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَ، فَقَالَتْ" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَةَ مِنَ النِّسَاءِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عورت جوتا پہنتی ہے (جو مردوں کے لیے مخصوص تھا) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد بننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4099]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن جريج عنعن ¤ والحديثان السابقان (الأصل: 4097،4098) يغنيان عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 145
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16251) (صحیح)
31: باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلاَبِيبِهِنَّ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «يدنين عليهن من جلابيبهن» کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ، فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ، وَقَالَتْ: لَهُنَّ مَعْرُوفًا، وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمِدْنَ إِلَى حُجُورٍ أَوْ حُجُوزٍ شَكَّ أَبُو كَامِلٍ، فَشَقَقْنَهُنَّ فَاتَّخَذْنَهُ خُمُرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورۃ النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4100]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ إبراهيم بن المھاجر حسن الحديث علي الراجح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17848)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن (النور) 12 (4758، 4759)، مسند احمد (6/188) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَدُ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتْ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ خَرَجَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِنَّ الْغِرْبَانَ مِنَ الْأَكْسِيَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ «يدنين عليهن من جلابيبهن» وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں (سورۃ الاحزاب: ۵۹) نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں نکلتیں تو سیاہ چادروں کی وجہ سے ایسا لگتا گویا ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4101]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18281) (صحیح)
32: باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ وَابْنُ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " يَرْحَمُ اللَّهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ سورة النور آية 31 شَقَقْنَ أَكْنَفَ"، قَالَ ابْنُ صَالِحٍ: أَكْثَفَ مُرُوطِهِنَّ، فَاخْتَمَرْنَ بِهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں (سورۃ النور: ۳۱) نازل فرمائی تو انہوں نے اپنے پردوں کو پھاڑ کر اپنی اوڑھنیاں اور دوپٹے بنا ڈالے۔ ابن صالح نے «أكنف» کے بجائے «أكثف» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4102]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ رواه البخاري (4758) من طريق آخر
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر رقم حدیث: (4100)، (تحفة الأشراف: 16567، 16577) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
ابن سرح کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں کی کتاب میں «عقيل عن ابن شهاب» کے طریق سے اسی مفہوم کی روایت دیکھی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4103]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4102)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(4100)، (تحفة الأشراف: 16567، 16577) (صحیح)
33: باب فِيمَا تُبْدِي الْمَرْأَةُ مِنْ زِينَتِهَا
باب: عورت اپنی زینت اور سنگار میں سے کس قدر ظاہر کر سکتی ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ دُرَيْكٍ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا، وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4104]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم عنعن وسعيدبن بشير: ضعيف (تقدم: 2580) حدّث عن قتادة بمناكير،انظرتهذيب التهذيب(10/4) وقتادة عنعن وابن دريك عن عائشة منقطع انظر تحفة الأشراف (11/ 392 قبل حديث 16062) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 16062) (صحیح)
34: باب فِي الْعَبْدِ يَنْظُرُ إِلَى شَعْرِ مَوْلاَتِهِ
باب: غلام کا مالکن کے بال دیکھنا جائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ مَوْهَبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: " أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4105]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2206)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 26 (2206)، سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3480)، (تحفة الأشراف: 2909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/350) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو جُمَيْعٍ سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، قَالَ: وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4106]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3120)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 399) (صحیح)
35: باب فِي قَوْلِهِ ‏{‏ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «غير أولي الإربة» کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِي، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: " إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4107]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2181)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 13 (2181)، (تحفة الأشراف: 16634، 17247)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9237)، مسند احمد (6/152) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی (حدیث) مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4108]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2181)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16634) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَأَخْرَجَهُ، فَكَانَ بِالْبَيْدَاءِ يَدْخُلُ كُلَّ جُمْعَةٍ يَسْتَطْعِمُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکال دیا، اور وہ بیداء میں رہنے لگا، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4109]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4107)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: 4107، (تحفة الأشراف: 16741) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ إِذَنْ يَمُوتُ مِنَ الْجُوعِ، فَأَذِنَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِي كُلِّ جُمْعَةٍ مَرَّتَيْنِ فَيَسْأَلُ، ثُمَّ يَرْجِعُ.
اوزاعی سے اس واقعہ کے سلسلہ میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تب تو وہ بھوک سے مر جائے گا تو آپ نے اسے ہفتہ میں دو بار آنے کی اجازت دے دی، وہ آتا اور کھانا مانگ کر لے جاتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4110]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4107)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(4107)، (تحفة الأشراف: 16518) (صحیح)
36: باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ سورة النور آية 31 الْآيَةَ، فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا سورة النور آية 60الْآيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (سورۃ النور: ۳۱) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو (سورۃ النور: ۶۰) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4111]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6266) (حسن الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجِبَا مِنْهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً أَلَا تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4112]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3116) ¤ أخرجه الترمذي (2778 وسنده حسن) نبھان مولٰي أم سلمة: وثقه الذھبي في الكاشف و الترمذي و ابن حبان و الحاكم بتصحيح حديثه فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب 29 (2778)، (تحفة الأشراف: 18222)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296) (ضعیف) (سند میں نبہان مولی ام سلمہ مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَيْمُونِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى عَوْرَتِهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4113]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ انظر الحديث الآتي (4114)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8742) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَصَوَابُهُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ وَهِمَ فِيهِ وَكِيعٌ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4114]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3111)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8718)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/187) (حسن)
37: باب فِي الاِخْتِمَارِ
باب: عورت سر پر اوڑھنی (دوپٹہ) کیسے اوڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ، فَقَالَ: لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَى قَوْلِهِ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ يَقُولُ: لَا تَعْتَمُّ مِثْلَ الرَّجُلِ لَا تُكَرِّرُهُ طَاقًا أَوْ طَاقَيْنِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4115]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حبيب عنعن وشيخه وهب مولي أبي أحمد: مجهول (تقريب التهذيب: 7486) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18223)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/293، 294، 296، 297، 307) (ضعیف)
38: باب فِي لُبْسِ الْقَبَاطِيِّ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے باریک کپڑا پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً، فَقَالَ: " اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ، فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ: وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، فَقَالَ: عَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ.
دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4116]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (4366) ¤ وللحديث شواھد عند الحاكم (4/187 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3538) (ضعیف)
39: باب فِي قَدْرِ الذَّيْلِ
باب: عورت کے دامن لٹکانے کی مقدار کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ الْإِزَارَ: " فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تُرْخِي شِبْرًا، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا، قَالَ: فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت (کتنا دامن لٹکائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائے ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4117]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4334) ¤ رواه النسائي (5340 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة من المجتبی 51 (5340)، (تحفة الأشراف: 18282)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، سنن ابن ماجہ/اللباس 13 (3580)، موطا امام مالک/اللباس 6 (13)، مسند احمد (6/293، 296، 309، 315)، سنن الدارمی/الاستئذان 16 (2686) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاق، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ.
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4118]
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4117)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/ الزینة من المجتبی 51 (5341)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 13 (3580)، سنن النسائی/ اللباس 13 (3580)، (تحفة الأشراف: 18159، 18282)، وانظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا ثُمَّ اسْتَزَدْنَهُ فَزَادَهُنَّ شِبْرًا فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین (رضی اللہ عنہن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4119]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3581) ¤ زيد العمي: ضعيف (تق: 2131) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10 / 110) ¤ والحديث السابق (الأصل: 4117) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/ اللباس 13 (3581)، (تحفة الأشراف: 6661)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، مسند احمد (2/18، 90) (صحیح)
40: باب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ
باب: مردہ جانور کی کھال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ، وَوَهْبٌ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: " أُهْدِيَ لِمَوْلَاةٍ لَنَا شَاةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَا دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا وَاسْتَنْفَعْتُمْ بِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ: إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی جسے میں نے آزاد کر دیا تھا کو صدقہ کی ایک بکری ہدیہ میں ملی تو وہ مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: تم اس کی کھال کو دباغت دے کر اسے اپنے کام میں کیوں نہیں لاتے؟، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے (نہ کہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4120]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1492) صحيح مسلم (363)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الزکاة 61 (1492) والبیوع 101 (2221)، صحیح مسلم/الحیض 27 (364، 365)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 3 (4240)، (تحفة الأشراف: 18066، 5839)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 7 (1727)، سنن ابن ماجہ/اللباس 25 (3610)، موطا امام مالک/الصید 6 (16)، مسند احمد (1/261، 327، 329، 365)، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2031) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ لَمْ يَذْكُرْ مَيْمُونَةَ قَالَ: فَقَالَ: أَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ لَمْ يَذْكُرِ الدِّبَاغَ.
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے، زہری کہتے ہیں: اس پر آپ نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اور دباغت کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4121]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1492) صحيح مسلم (363)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5839) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ" يُنْكِرُ الدِّبَاغَ وَيَقُولُ: يُسْتَمْتَعُ بِهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ الْأَوْزَاعِيُّ، وَيُونُسُ، وَعُقَيْلٌ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ الدِّبَاغَ، وَذَكَرَهُ الزُّبَيْدِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَحَفْصُ بْنُ الْوَلِيدِ ذَكَرُوا الدِّبَاغَ.
معمر کہتے ہیں زہری دباغت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: اس سے ہر حال میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی، یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں دباغت کا ذکر نہیں کیا ہے اور زبیدی، سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4122]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مسند أحمد (1/ 365) ¤ عبدالرزاق لم يصرح بالسماع ¤ والحديث المرفوع صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب چمڑہ دباغت دے دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4123]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (366)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 27 (366)، سنن الترمذی/اللباس 7 (1728)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 3 (4246)، سنن ابن ماجہ/اللباس 25 (3609)، (تحفة الأشراف: 5822)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید 6 (17)، مسند احمد (1/219، 237، 279، 280، 343)، سنن الدارمی/الأضاحی 20 (2029) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4124]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (509) ¤ أخرجه ابن ماجه (3612 وسنده حسن) والنسائي (4257 وسنده حسن) أم محمد بن عبد الرحمٰن بن ثوبان: وثقھا ابن حبان و ابن عبد البر و يعقوب بن سفيان الفارسي (المعرفة والتاريخ1/ 349، 350، 425) فالسند حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الفرع والعتیرة 5 (4257)، سنن ابن ماجہ/اللباس 25 (3612)، (تحفة الأشراف: 17991)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید 6 (18)، مسند احمد (6 /73، 104، 148، 153)، دي /الأضاحي 20 (2030) (صحیح لغیرہ) (سندمیں ام محمدبن عبدالرحمن مجہول ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناپر صحیح ہے،ملاحظہ ہو: صحیح موارد الظمآن: 122، غایة المرام: 26)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ: " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَتَى عَلَى بَيْتٍ فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَسَأَلَ الْمَاءَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: دِبَاغُهَا طُهُورُهَا".
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں ایک گھر میں تشریف لائے تو وہاں ایک مشک لٹک رہی تھی آپ نے پانی مانگا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ مردار کے کھال کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباغت سے پاک ہو گئی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4125]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (4248) ¤ الحسن البصري مدلس وعنعن ¤ والحديث السابق (الأصل: 4123) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الفرع والعتیرة 3 (4248)، (تحفة الأشراف: 4560)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/476، 5/6، 7) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ: لَوَ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا، فَقَالَتْ: أَوَ يَحِلُّ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ".
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں! تو میں بولی: کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی لوگوں نے عرض کیا: وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4126]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (510) ¤ أخرجه النسائي (4253 وسنده حسن) وللحديث شواھد
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الفرع والعتیرة 3 (4251، 4252)، (تحفة الأشراف: 18084)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/334) (صحیح)
41: باب مَنْ رَوَى أَنْ لاَ يُنْتَفَعَ بِإِهَابِ الْمَيْتَةِ
باب: مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ" أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ".
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا: مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4127]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (508) ¤ أخرجه ابن ماجه (3613 وسنده حسن) والنسائي (4254 وسنده حسن) من حديث شعبة عن الحكم به والحكم صرح بالسماع عند أحمد (4/311 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 7 (1729)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 4 (4254)، سنن ابن ماجہ/اللباس 26 (3613)، (تحفة الأشراف: 6642)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/310، 311) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ الْحَكَمُ: فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ، فَخَرَجُوا إِلَيَّ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ أَخْبَرَهُمْ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَنْ لَا يَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَإِذَا دُبِغَ لَا يُقَالُ لَه إِهَابٌ، إِنَّمَا يُسَمَّى شَنًّا وَقِرْبَةً، قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يُسَمَّى إِهَابًا مَا لَمْ يُدْبَغْ.
حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے، اندر چلے گئے، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا: مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کہتے ہیں: «اہاب» ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے «اہاب» نہیں کہتے بلکہ اسے «شنّ» یا «قربۃ» کہا جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4128]
💡 وضاحت:
۱؎: حلال مردہ جانوروں کے چمڑوں سے دباغت کے بعد فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (508) ¤ انظر الحديث السابق (4128)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6642) (صحیح)
42: باب فِي جُلُودِ النُّمُورِ وَالسِّبَاعِ
باب: چیتوں اور درندوں کی کھال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ"، قَالَ: وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ لَنَا أَبُو دَاوُدَ: أَبُو الْمُعْتَمِرِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ الْحِيَرَةَ.
امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو۔ ابن سیرین کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں متہم نہ تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4129]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4357) ¤ أخرجه ابن ماجه (3656 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11429)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 47 (3656)، مسند احمد (4/93، 94) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ چیتے کی کھال ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4130]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12898) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ" أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ، فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: هَذَا مِنِّي، وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ، فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ، فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ".
خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4131]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (505) ¤ أخرجه النسائي (4260 وسنده حسن) رواية بقية عن بحير صحيحة لأنھا من كتاب
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الفرع والعتیرة 6 (4259)، (تحفة الأشراف: 11411، 11555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/132) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ".
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4132]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ مشكوة المصابيح (506) ¤ وله شاھد حسن عند البيھقي (1/21)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس32 (1771)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 6 (4258)، (تحفة الأشراف: 131)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح)
43: باب فِي الاِنْتِعَالِ
باب: جوتا پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: " أَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے فرمایا: جوتے خوب پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتے پہنے رہتا ہے برابر سوار رہتا ہے (یعنی پاؤں اذیت سے محفوظ رہتا ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4133]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2096) ¤ ورواه مسلم (3096) نحو المعنيٰ
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2971)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 18 (2096)، مسند احمد (3/337) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ نَعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهَا قِبَالَانِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جوتے میں دو تسمے (فیتے) لگے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4134]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک فیتہ انگوٹھے اور اس کے پاس والی انگلی میں لگاتے تھے، جب کہ دوسرا فیتہ بیچ کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی میں لگاتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5857)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس 5 (3107)، اللباس 41 (5857)، سنن الترمذی/اللباس 33 (1773)، الشمائل 10 (71)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 62 (5369)، سنن ابن ماجہ/اللباس 27 (3615)، (تحفة الأشراف: 1392)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3 /122، 203، 245، 269) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4135]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2649) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ لِيَنْتَعِلْهُمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک جوتا پہن کر نہ چلا کرے، دونوں پہنے رکھے یا دونوں اتاr دے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4136]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5855) صحيح مسلم (2097)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 40 (5855)، صحیح مسلم/اللباس 19 (2097)، سنن الترمذی/اللباس 37 (1774)، سنن ابن ماجہ/اللباس 29 (1617)، (تحفة الأشراف: 13800)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس 7 (14)، مسند احمد (2 /245، 253، 314، 424، 443، 477، 480، 528) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک اس کا تسمہ درست نہ کر لے ایک ہی پہن کر نہ چلے، اور نہ ایک موزہ پہن کر چلے، اور نہ بائیں ہاتھ سے کھائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4137]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2099)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس20 (2099)، (تحفة الأشراف: 2717)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 327) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي نَهِيكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْلَعَ نَعْلَيْهِ فَيَضَعَهُمَا بِجَنْبِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پہلو میں رکھ لے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4138]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن هارون حجازي:مجهول (تق: 3674) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6571) (ضعیف الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، لِتَكُنْ الْيَمِينُ أَوَّلَهُمَا يَنْتَعِلُ وَآخِرَهُمَا يَنْزِعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی جوتا پہنے تو پہلے داہنے پاؤں سے شروع کرے، اور جب نکالے تو پہلے بائیں پاؤں سے نکالے، داہنا پاؤں پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4139]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5856) صحيح مسلم (2097)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 39 (5854)، سنن الترمذی/اللباس 37 (1779)، (تحفة الأشراف: 13814)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 19 (2097)، سنن ابن ماجہ/اللباس 28 (3616)، موطا امام مالک/اللباس 7 (15)، مسند احمد (2/245، 265، 283، 430، 477) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ"، قَالَ مُسْلِمٌ: وَسِوَاكِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ مُعَاذ وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَاكَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت بھر اپنے تمام کاموں میں، وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنے سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «وسواكه» بھی ہے یعنی مسواک کرنے میں اور انہوں نے «في شأنه كله» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معاذ نے شعبہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے مسواک کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4140]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (168) صحيح مسلم (268)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 31 (168)، الصلاة 47 (426)، الأطعمة 5 (5380)، اللباس 38 (5854)، 77 (5926)، صحیح مسلم/الطھارة 19 (268)، اللباس 44 (2097)، سنن الترمذی/الصلاة 316 (608)، الشمائل10 (80)، سنن النسائی/الطھارة 90 (112)، الغسل 17 (421)، الزینة 8 (5062)، الزینة من المجتبی 9 (5242)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 42 (401)، (تحفة الأشراف: 17657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/94، 130،147، 188، 202، 210) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4141]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (402) ¤ الأعمش مدلس وعنعن في ھذا اللفظورواه الترمذي (1766) من حديث شعبة عن الأعمش به بلفظ ”كان إذا لبس ثوبًا بدأبميا منه‘‘ وسنده صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 147
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 42 (402)، (تحفة الأشراف: 12380)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 28 (1766)، مسند احمد (2/354) (صحیح)
44: باب فِي الْفُرُشِ
باب: بستر اور بچھونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُرُشَ، فَقَالَ: " فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِلْمَرْأَةِ وَفِرَاشٌ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4142]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2084)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 8 (2084)، سنن النسائی/النکاح 82 (3387)، (تحفة الأشراف: 2377)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 324) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ، فَرَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ"، زَادَ ابْنُ الْجَرَّاحِ عَلَى يَسَارِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ أَيْضًا عَلَى يَسَارِهِ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ ابن الجراح نے «على يساره» کا اضافہ کیا ہے یعنی آپ اپنے بائیں پہلو پر ٹیک لگائے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسحاق بن منصور نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں بھی «على يساره» کا لفظ ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4143]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه الترمذي (2770 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الاستئذان 28 (2722، 2723)، الأدب 23 (2771)، (تحفة الأشراف: 2138) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رُفْقَةً مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ رِحَالُهُمُ الْأَدَمُ، فَقَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ كَانُوا بِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَؤُلَاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اہل یمن کے سفر کے چند ساتھیوں کو دیکھا ان کے بچھونے چمڑوں کے تھے، تو انہوں نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے رفقاء کو دیکھنا پسند ہو تو وہ انہیں دیکھ لے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4144]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 7080)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/120) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا، قُلْتُ: وَأَنَّى لَنَا الْأَنْمَاطُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے توشک اور گدے بنا لیے؟ میں نے عرض کیا: ہمیں گدے کہاں میسر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4145]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5161) صحيح مسلم (2083)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 25 (3631)، النکاح 62 (5161)، صحیح مسلم/اللباس 7 (2083)، سنن الترمذی/الأدب 26 (2774)، سنن النسائی/النکاح 83 (3388)، (تحفة الأشراف: 3029) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: الَّتِي يَنَامُ عَلَيْهَا بِاللَّيْلِ ثُمَّ اتَّفَقَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4146]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2082)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 6 (2082)، (تحفة الأشراف: 17202)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 16 (6456)، سنن الترمذی/اللباس 27 (1761)، وصفة القیامة 32 (17202)، سنن ابن ماجہ/الزھد 11 (4151)، مسند احمد (6 /48، 56، 73، 108، 207، 212) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَيَّانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَتْ ضِجْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4147]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2082)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/ الزہد 11 (4151)، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 16951) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ فِرَاشُهَا حِيَالَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بسترا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ کے سامنے رہتا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4148]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ أخرجه ابن ماجه (957 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 40 (957)، (تحفة الأشراف: 18278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/322) (صحیح)
45: باب فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ
باب: رنگین اور نقش و نگار والے پردے لٹکانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا، فَلَمْ يَدْخُلْ، قَالَ: وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً، فَقَالَ: مَا لَكِ؟ قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا، قَالَ: وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالرَّقْمَ، فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: قُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْمُرُنِي بِهِ، قَالَ: قُلْ لَهَا فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکتے دیکھا تو آپ اندر داخل نہیں ہوئے بہت کم ایسا ہو تاکہ آپ اندر جائیں اور پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نہ ملیں، اتنے میں علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غمگین دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اندر نہیں آئے، علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا سروکار، مجھے نقش و نگار سے کیا واسطہ؟ یہ سن کر وہ واپس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور آپ نے جو فرمایا تھا انہیں بتایا، اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اس پردے کے متعلق آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس سے کہو: اسے وہ بنی فلاں کو بھیج دے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4149]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2613)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الھبة وفضلھا 27 (2613)، (تحفة الأشراف: 8252)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/21) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَكَانَ سِتْرًا مَوْشِيًّا.
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4150]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2613)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8252) (صحیح)
46: باب فِي الصَّلِيبِ فِي الثَّوْبِ
باب: کپڑے میں صلیب کی صورت بنی ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لَا يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کسی ایسی چیز کو جس میں صلیب کی تصویر بنی ہوتی بغیر کاٹے یا توڑے نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4151]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5952)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس90 (5952)، (تحفة الأشراف: 17424)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/52، 237، 252) (صحیح)
47: باب فِي الصُّوَرِ
باب: تصویروں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا، یا جنبی (ناپاک شخص) ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4152]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (3650 وسنده حسن) والنسائي (262 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (227)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (227)، (تحفة الأشراف: 10291) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تِمْثَالٌ، وَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ نَسْأَلْهَا عَنْ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْنَا، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا فَهَلْ سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ وَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا كَانَ لَنَا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْعَرَضِ، فَلَمَّا جَاءَ اسْتَقْبَلْتُهُ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَأَكْرَمَكَ، فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَأَى النَّمَطَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا وَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَأَتَى النَّمَطَ حَتَّى هَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَاللَّبِنَ، قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ وَجَعَلْتُهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ".
ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم اس کی عطا کی ہوئی چیزوں میں سے پتھر اور اینٹ کو کپڑے پہنائیں پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال کا بھراؤ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کام پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4153]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2106)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3225)، 17 (3322)، المغازي 12 (4002)، اللباس 88 (5949)، 92 (5958)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، سنن الترمذی/الأدب 44 (2804)، سنن النسائی/الصید والذبائح 11 (4287)، الزینة من المجتبی 57 (5349)، سنن ابن ماجہ/اللباس 44 (3649)، (تحفة الأشراف: 16089، 3779)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 3 (6)، مسند احمد (4/28، 29، 30) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَالَ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ.
اس سند سے بھی سہیل سے اسی طرح مروی ہے اس میں «فقلنا يا أم المؤمنين إن أبا طلحة حدثنا عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم » کے بجائے «فقلت يا أمه إن هذا حدثني أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال» ہے نیز اس میں «سعيد بن يسار الأنصاري» کے بجائے «سعيد بن يسار مولى بني النجار» ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4154]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ انظر الحديث السابق (4153)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16089) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ"، قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ، فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ.
زید بن خالد رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو۔ بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب (پروردہ) عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی (پھر یہ کیا ہوا؟) تو عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا سوائے اس نقش و نگار کے جو کپڑے پر ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4155]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5958) صحيح مسلم (2106)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (4153)، (تحفة الأشراف: 3775) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنَّ إِسْمَاعِيل بْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرٍ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ، فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا فَلَمْ يَدْخُلْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت جب آپ بطحاء میں تھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور جتنی تصویریں ہوں سب کو مٹا ڈالیں، آپ اس وقت تک کعبہ کے اندر تشریف نہیں لے گئے جب تک سبھی تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4156]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ أصله عند الترمذي (1749 وسنده صحيح) بلفظ آخر
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/335، 336، 383، 385، 396) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ فَلَمَّا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے (کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4157]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2105)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 26 (2105)، سنن النسائی/الصید 9 (2481)، 11 (4288)، (تحفة الأشراف: 18068)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/330) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ لِي: أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ عَلَى الْبَابِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي فِي الْبَيْتِ يُقْطَعُ فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُجْعَلْ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِ تُوطَآَنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا الْكَلْبُ لِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ كَانَ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ فَأُمِرَ بِهِ فَأُخْرِجَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَالنَّضَدُ شَيْءٌ تُوضَعُ عَلَيْهِ الثِّيَابُ شَبَهُ السَّرِيرِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں (دروازے پر) ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہو جائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنا لیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نضد» چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4158]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4501) ¤ أخرجه الترمذي (2806 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب 44 (2806)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 60 (5367)، (تحفة الأشراف: 14345)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/305، 308، 478) (صحیح)
← پچھلی کتاب #40 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #42 →