📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل (كِتَاب اللِّبَاسِ) 🏷️ باب: باب: تہ بند (لنگی) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا منع ہے۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 4089 Sunan Abi Dawud 4089
کتاب #34: کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
27: باب مَا جَاءَ فِي إِسْبَالِ الإِزَارِ
باب: تہ بند (لنگی) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ بِشْرٍ التَّغْلِبِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ إِنَّمَا هُوَ صَلَاةٌ فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا هُوَ تَسْبِيحٌ وَتَكْبِيرٌ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَمَرَّ بِنَا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَقَدِمَتْ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي يَجْلِسُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: لَوْ رَأَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْعَدُوُّ فَحَمَلَ فُلَانٌ فَطَعَنَ، فَقَالَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ؟ قَالَ مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ بَطَلَ أَجْرُهُ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ آخَرُ، فَقَالَ: مَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا فَتَنَازَعَا حَتَّى سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لَا بَأْسَ أَنْ يُؤْجَرَ وَيُحْمَدَ، فَرَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ سُرَّ بِذَلِكَ وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَيَقُولُ: أَنْتَ سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَمَا زَالَ يُعِيدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، قَالَ: فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُنْفِقُ عَلَى الْخَيْلِ كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ وَإِسْبَالُ إِزَارِهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا فَعَجِلَ فَأَخَذَ شَفْرَةً فَقَطَعَ بِهَا جُمَّتَهُ إِلَى أُذُنَيْهِ وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا كَأَنَّكُمْ شَامَةٌ فِي النَّاسِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَتَّى تَكُونُوا كَالشَّامَةِ فِي النَّاسِ.
قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص دمشق میں تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ خلوت پسند آدمی تھے، لوگوں میں کم بیٹھتے تھے، اکثر اوقات نماز ہی میں رہتے تھے جب نماز سے فارغ ہوتے تو جب تک گھر نہ چلے جاتے تسبیح و تکبیر ہی میں لگے رہتے۔ ایک روز وہ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم ابو الدرداء کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ابوالدرداء نے کہا: کوئی ایسی بات کہئیے جس سے ہمیں فائدہ ہو، اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو تو وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد کے لیے بھیجا، جب وہ سریہ لوٹ کر واپس آیا تو اس میں کا ایک شخص آیا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے وہاں آ کر بیٹھ گیا، پھر وہ اپنے بغل کے ایک شخص سے کہنے لگا: کاش تم نے ہمیں دیکھا ہوتا جب ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تھی، فلاں نے نیزہ اٹھا کر دشمن پر وار کیا اور وار کرتے ہوئے یوں گویا ہوا لے میرا یہ وار اور میں قبیلہ غفار کا فرزند ہوں بتاؤ تم اس کے اس کہنے کو کیسا سمجھتے ہو؟ وہ بولا: میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کا ثواب جاتا رہا، ایک اور شخص نے اسے سنا تو بولا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چنانچہ وہ دونوں جھگڑنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: سبحان اللہ! کیا قباحت ہے اگر اس کو ثواب بھی ملے اور لوگ اس کی تعریف بھی کریں۔ بشر تغلبی کہتے ہیں: میں نے ابوالدرداء کو دیکھا وہ اسے سن کر خوش ہوئے اور اپنا سر ان کی طرف اٹھا کر پوچھنے لگے کہ آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر وہ باربار یہی سوال دہرانے لگے یہاں تک کہ میں سمجھا کہ وہ ان کے گھٹنوں پر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو ان سے ابو الدرداء نے کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جہاد کی نیت سے) گھوڑوں کی پرورش پر صرف کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اپنا ہاتھ پھیلا کے صدقہ کر رہا ہو کبھی انہیں سمیٹتا نہ ہو۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے پھر ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے، تو انہوں نے کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر ان کے سر کے بال بڑھے ہوئے نہ ہوتے، اور تہ بند ٹخنے سے نیچے نہ لٹکتا یہ بات خریم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے چھری لے کر اپنے بالوں کو کاٹ کر کانوں کے برابر کر لیا، اور تہ بند کو نصف «ساق» (پنڈلی) تک اونچا کر لیا۔ پھر دوبارہ ایک اور دن ہمارے پاس سے ان کا گزر ہوا تو ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے اور جس سے آپ کو کوئی نقصان نہ ہو، تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اب تم اپنے بھائیوں سے ملنے والے ہو (یعنی سفر سے واپس گھر پہنچنے والے ہو) تو اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو تاکہ تم اس طرح ہو جاؤ گویا تم تل ہو لوگوں میں یعنی ہر شخص تمہیں دیکھ کر پہچان لے، کیونکہ اللہ فحش گوئی کو، اور قدرت کے باوجود خستہ حالت (پھٹے پرانے کپڑے) میں رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح ابونعیم نے ہشام سے روایت کیا ہے اس میں «حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس» کے بجائے «حتى تكونوا كالشامة في الناس» ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4089]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4461)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4654)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/179، 180) (ضعیف)
سنن أبي داود • حدیث #4089
4087 4088 4089 4090 4091

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4084 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِ...
ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ...
#4085 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ ع...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی غرور اور...
#4086 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَن...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی د...
#4087 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ...
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ ...
#4088 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُ...
اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اور پہلی روا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ