سنن أبي داود حدیث نمبر: 4086
Sunan Abi Dawud 4086
کتاب #34: کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
27: باب مَا جَاءَ فِي إِسْبَالِ الإِزَارِ
باب: تہ بند (لنگی) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ؟، ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جا وضو کر کے آؤ“ وہ گیا اور وضو کر کے دوبارہ آیا، پھر آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور وضو کر کے آؤ“ تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو وضو کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہو رہتے ہیں آخر کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ ”تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو اپنا تہ بند ٹخنے کے نیچے لٹکائے ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4086]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (638)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم (638)، (تحفة الأشراف: 14241) (ضعیف)