سنن أبي داود حدیث نمبر: 4112
Sunan Abi Dawud 4112
کتاب #34: کتاب: لباس سے متعلق احکام و مسائل
36: باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ }
باب: آیت کریمہ: «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجِبَا مِنْهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً أَلَا تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں ان سے پردہ کرو“ تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ”تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4112]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3116) ¤ أخرجه الترمذي (2778 وسنده حسن) نبھان مولٰي أم سلمة: وثقه الذھبي في الكاشف و الترمذي و ابن حبان و الحاكم بتصحيح حديثه فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأدب 29 (2778)، (تحفة الأشراف: 18222)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296) (ضعیف) (سند میں نبہان مولی ام سلمہ مجہول ہیں)