كِتَاب الْحَمَّامِ
کتاب: حمامات (اجتماعی غسل خانوں) سے متعلق مسائل
|
1: باب الدُّخُولِ فِي الْحَمَّامِ
باب: حمام میں جانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمامات (غسل خانوں) میں داخل ہونے سے منع فرمایا، پھر آپ نے مردوں کو تہبند باندھ کر جانے کی رخصت دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4009]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4474) ¤ أخرجه الترمذي (2802 وسنده حسن) وابن ماجه (3749 وسنده حسن) وقال الترمذي: ’’وإسناده ليس بذك القائم‘‘، و أبو عذرة: حسن الحديث، و السند قائم و الحمد للّٰه
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأدب 43 (2802)، سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3749)، (تحفة الأشراف: 17798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/132، 139، 179) (ضعیف) (سند میں ابوعذرہ مجہول راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ قُلْنَ: مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ الْكُورَةِ الَّتِي تَدْخُلُ نِسَاؤُهَا الْحَمَّامَاتِ؟ قُلْنَ: نَعَمْ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَخْلَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَهُوَ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ جَرِيرٌ أَبَا الْمَلِيحِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ہے اور جریر نے ابوالملیح کا ذکر نہیں کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4010]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4475) ¤ أخرجه الترمذي (2803 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3750 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
وحدیث محمد بن قدامة قد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17804،16090)، وقد أخرجہ: حدیث محمد بن مثنی: سنن الترمذی/الأدب 43 (2803)، سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3750)، مسند احمد (6/41، 199)، سنن الدارمی/الاستئذان 23 (2693) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّهَا سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْعَجَمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا الْحَمَّامَاتُ فَلَا يَدْخُلَنَّهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِالْأُزُرِ وَامْنَعُوهَا النِّسَاءَ إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب عجم کی سر زمین تمہارے لیے فتح کر دی جائے گی اور اس میں تمہیں ایسے گھر ملیں گے جنہیں حمام کہا جائے گا تو اس میں مرد بغیر تہ بند کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو ان میں جانے سے روکو سوائے بیمار یا زچہ کے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4011]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3748) ¤ الإفريقي ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3748)، (تحفة الأشراف: 8877) (ضعیف) (عبدالرحمن بن زیاد بن انعم إفریقی ضعیف ہیں)
|
|
|
2: باب النَّهْىِ عَنِ التَّعَرِّي
باب: ننگا ہونا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ /a>، عَنْ يَعْلَى: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ بِلَا إِزَارٍ، فَصَعَدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَتِرْ".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے (میدان میں) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ حیاء دار ہے پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4012]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (447) ¤ أخرجه النسائي (406) عطاء: بينھما صفوان بن يعليٰ كما تقدم (1819) وانظر الحديث الآتي (4013)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الغسل والتیمم 7 (404)، (تحفة الأشراف: 11845)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/224) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْأَوَّلُ أَتَمُّ.
اس سند سے بھی صفوان بن یعلیٰ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4013]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ أخرجه النسائي (407) ورواه أسباط بن محمد عن عبد الملك بن السليمان، انظر النكت الظراف (9/115)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11840) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ جَرْهَدٌ هَذَا مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا وَفَخِذِي مُنْكَشِفَةٌ، فَقَالَ: " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ".
زرعہ بن عبدالرحمٰن بن جرہد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں جرہد اصحاب صفہ میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھے اور میری ران کھلی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم نہیں کہ ران ستر ہے (اس کو چھپانا چاہیئے)“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4014]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3112) ¤ زرعة بن عبد الرحمن بن جرھد: ذكره ابن حبان في الثقات وحسنه الترمذي وصحح له الحاكم والذھبي وللحديث شواھد كثيرة عند الترمذي (2797) وغيره
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الصلاة 12 (371 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الاستئذان 40 (2795)، (تحفة الأشراف: 3206)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان 22 (2692) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكْشِفْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ فِيهِ نَكَارَةٌ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ران نہ کھولو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں نکارت ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4015]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ انظر الحديث السابق (3140) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم:(3140)، (تحفة الأشراف: 10133) (ضعیف جدّاً)
|
|
|
3: باب مَا جَاءَ فِي التَّعَرِّي
باب: ننگے ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: حَمَلْتُ حَجَرًا ثَقِيلًا، فَبَيْنَا أَمْشِي، فَسَقَطَ عَنِّي ثَوْبِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بھاری پتھر اٹھائے ہوئے چل رہا تھا کہ اسی دوران میرا کپڑا (تہبند میرے جسم سے کھل کر) گر پڑا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کپڑا اٹھا کر باندھ لو اور ننگے نہ چلو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4016]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (341)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 19 (341)، (تحفة الأشراف: 11266) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى نَحْوَهُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَيَنَّهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ: اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ".
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے“ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے“ وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔“ [سنن ابي داود/حدیث: 4017]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3117) ¤ أخرجه الترمذي (2794 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (1920 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الطہارة قبیل حدیث (278 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الأدب 39 (2794)، سنن ابن ماجہ/النکاح 28 (1920)، (تحفة الأشراف: 11380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/3، 4) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عُرْيَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عُرْيَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي ثَوْبٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔“ [سنن ابي داود/حدیث: 4018]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (338)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 17 (338)، النکاح 21 (1437)، سنن الترمذی/الأدب 38 (2793)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 137 (661)، (تحفة الأشراف: 4115) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ. ح حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الطُّفَاوَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا وَلَدًا، أَوْ وَالِدًا، قَالَ: وَذَكَرَ الثَّالِثَةَ، فَنَسِيتُهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ (ایک کپڑے میں) ہرگز نہ لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ لیٹے سوائے بیٹے اور باپ کے“۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے تیسرے کا بھی ذکر کیا لیکن میں اسے بھول گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4019]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (2174) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم (2174)، (تحفة الأشراف: 15486) (ضعیف) (سند میں طفاوی مبہم راوی ہے)
|
|