سنن أبي داود حدیث نمبر: 4010
Sunan Abi Dawud 4010
کتاب #33: کتاب: حمامات (اجتماعی غسل خانوں) سے متعلق مسائل
1: باب الدُّخُولِ فِي الْحَمَّامِ
باب: حمام میں جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ قُلْنَ: مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ الْكُورَةِ الَّتِي تَدْخُلُ نِسَاؤُهَا الْحَمَّامَاتِ؟ قُلْنَ: نَعَمْ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَخْلَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَهُوَ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ جَرِيرٌ أَبَا الْمَلِيحِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ہے اور جریر نے ابوالملیح کا ذکر نہیں کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4010]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4475) ¤ أخرجه الترمذي (2803 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3750 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
وحدیث محمد بن قدامة قد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17804،16090)، وقد أخرجہ: حدیث محمد بن مثنی: سنن الترمذی/الأدب 43 (2803)، سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3750)، مسند احمد (6/41، 199)، سنن الدارمی/الاستئذان 23 (2693) (صحیح)