📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام 54 کتب ↗

كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ

کتاب #50م: قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال

کتاب کے ابواب • حدیث: 7045 تا 7129 • کل احادیث: 85
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
2: باب صِفَّةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ
باب: قیامت اور جنت اور دوزخ کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَءُوا فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا سورة الكهف آية 105 ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) ایک بہت بڑا (اور) موٹا آدمی آئے گا، (لیکن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ (وزن میں) مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔“ (یہ آیت) پڑھ لو: فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا ”پس ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7045]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 "،
فضیل بن عیاض نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، اور زمینوں کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئے ہنسے، پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ”انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7046]
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، وَقَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا، قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 وَتَلَا الْآيَةَ.
جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، فضیل کی حدیث کے مانند، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا: ”وہ (اللہ) ان (انگلیوں) کو ہلائے گا۔“ اور (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کھا، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے (اس طرح) ہنسے کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے (اس طرح) اللہ کی قدر نہیں کی (جس طرح) اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔“ (اور (پوری) آیت تلاوت فرمائی) وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ”انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7047]
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرْضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 "،
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا: میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔“ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کھا، آپ (اس بات پر) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر آپ نے (اس آیت کی) تلاوت کی: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ”انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7048]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ.
ابومعاویہ، عیسیٰ بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، مگر ان سب کی روایتوں میں ہے: ”اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لے گا۔“ اور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے: ”اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا۔“ لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے: ”اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا۔“ اور انہوں نے جریر کی حدیث میں مزید یہ کہا: ”اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے (آپ ہنسے)۔“ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ”انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7049]
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ".
ابن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟““ [صحيح مسلم/حدیث: 7050]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ، ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ".
سالم بن عبداللہ نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹے گا، پھر ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں۔ (آج دوسروں پر) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟“ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: ”بادشاہ میں ہوں، (آج) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟““ [صحيح مسلم/حدیث: 7051]
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: " يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ، فَيَقُولُ: أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا، أَنَا الْمَلِكُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے ابوحازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا کہ وہ (حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کر کے دکھاتے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا: ”میں اللہ، میں بادشاہ ہوں۔““ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا، وہ اپنے نچلے حصے سے (لے کر اوپر کے حصے تک) ہل رہا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر جائے گا؟ [صحيح مسلم/حدیث: 7052]
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.
عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا: مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”(اللہ) جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا۔“ پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7053]
1: باب ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ:
باب: مخلوق اور آدم علیہ السلام کی ابتداء کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
سریج بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے اسماعیل بن امیہ نے ایوب بن خالد سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلا دیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ (کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں) پیدا فرمایا۔“ جلودی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد ابراہیم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حسین بن علی بسطامی، سہل بن عمار، حفص کے نواسے ابراہیم اور دوسروں نے حجاج سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7054]
2: باب فِي الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَصِفَةِ الأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:
باب: مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت والے دن زمین کی حالت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لِأَحَدٍ ".
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو غبار کی رنگت ملی، سفید زمین پر اکٹھا کیا جائے گا، جیسے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی ہوتی ہے اور اس میں کسی شخص کے لیے کوئی علامت موجود نہیں ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7055]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ سورة إبراهيم آية 48، فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَقَالَ: عَلَى الصِّرَاطِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول کے متعلق سوال کیا: يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ”جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان (بھی بدل دیا جائے گا)“ تو اللہ کے رسول! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پل صراط پر۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7056]
3: باب نُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ:
باب: اہل جنت کی مہمانی کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَكُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ، كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ "، قَالَ: فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَال: بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ بَلَى، قَالَ: تَكُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: " إِدَامُهُمْ بَالَامُ وَنُونٌ، قَالُوا: وَمَا هَذَا؟، قَالَ: ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا ".
عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن یہ زمین ایک ہی روٹی بن جائے گی۔ جبار (اللہ تعالیٰ) اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کر روٹی کی طرح بنا دے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے۔“ (حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے) کہا: اتنے میں یہودیوں میں سے ایک شخص آ گیا اس نے کہا: ابوالقاسم الرحمن آپ پر برکت نازل فرمائے! کیا میں آپ کو قیامت کے روز اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیوں نہیں! (بتاؤ)“ اس نے کہا: زمین ایک (بڑی سی) روٹی بن جائے گی۔ جس طرح (اس کی آمد سے قبل خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ (ابوسعید رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتیٰ کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ اس نے (پھر) کہا: کیا میں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! (بتاؤ)“ اس نے کہا: ان کا سالن بالام اور نون ہو گا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے پوچھا وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیل اور مچھلی، یہ اس کے جگر کے چھوٹے سے اضافی حصے کو (جو اصل جگر کے ساتھ ایک طرف موجود ہوتا ہے) ستر ہزار لوگ کھائیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7057]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَابَعَنِي عَشَرَةٌ مِنْ الْيَهُودِ لَمْ يَبْقَ عَلَى ظَهْرِهَا يَهُودِيٌّ إِلَّا أَسْلَمَ ".
محمد بن سیرین نے ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دس (بڑے) یہودی (عالم) میری پیروی کر لیتے تو روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا مگر مسلمان ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7058]
4: باب سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} الآيَةَ:
باب: یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو وحی الٰہی کے مطابق جواب۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ، " إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَقَالُوا: مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ لَا يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ، فَقَالُوا: سَلُوهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ، فَسَأَلَهُ عَنِ الرُّوحِ، قَالَ: فَأَسْكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، قَالَ: فَقُمْتُ مَكَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ، قَالَ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 "،
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابراہیم نے علقمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جا رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لے (کر چل) رہے تھے کہ آپ کا یہود کے چند لوگوں کے قریب سے گزر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان سے روح کے بارے میں سوال کرو پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ان کے بارے میں تمہیں شک کس بات کا ہے؟ ایسا نہ ہو کہ وہ آگے سے ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں بری لگے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر آپ کے پاس آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تھوڑی دیر کے لیے) خاموش ہو گئے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ کہا میں بھی اپنی جگہ پر (رک کر) کھڑا ہو گیا۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ پڑھتے ہوئے) فرمایا: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ”یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم (انسانوں) کو بہت کم علم دیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7059]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ، بِنَحْوِ حَدِيثِ حَفْصٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ: وَمَا أُوتُوا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ خَشْرَمٍ،
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابواشج نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور علی بن خشرم نے بھی حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی۔ ان دونوں (وکیع اور عیسیٰ) نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک (اجڑے ہوئے) کھیت میں جا رہا تھا۔ حفص کی حدیث کے مانند مگر وکیع کی حدیث میں ہے: وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ”اور تم لوگوں کو علم کا تھوڑا حصہ ہی دیا گیا ہے۔“ (جس طرح قرآن کی مشہور متواتر قراءت ہے۔ اور عیسیٰ بن یونس کی اس روایت میں جو ان سے (علی بن خشرم) نے بیان کی ہے وَمَا أُوتُوا ”انہیں نہیں دیا گیا“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7060]
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا.
ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے عبداللہ بن ادریس سے سنا وہ کہہ رہے تھے، میں نے اعمش سے سنا وہ اس روایت کو عبداللہ بن مرہ سے اور وہ مسروق سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں میں (کھجور کی) ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے (چلے جا رہے) تھے پھر اعمش سے ان سب کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور انہوں نے اپنی روایت میں مشہور اور متواتر قرآءت کے مطابق وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ”اور تمہیں علم سے بہت کم دیا گیا ہے“ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7061]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " كَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي: لَنْ أَقْضِيَكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي لَنْ أَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى تَمُوتَ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ، فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ، قَالَ وَكِيعٌ: كَذَا، قَالَ الْأَعْمَشُ: قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا إِلَى قَوْلِهِ وَيَأْتِينَا فَرْدًا سورة مريم آية 77 - 80 "،
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوضحیٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت خباب (بن ارت رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا: میں اس وقت تک تمہیں ادائیگی نہیں کروں گا۔ یہاں تک کہ تم نعوذ بالله محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرو۔ کہا: میں نے اس سے کہا: تم مر کر دوبارہ زندہ ہو جاؤ گے۔ پھر بھی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: اور میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟ تو (اس وقت) جب میں دوبارہ مال اور اولاد کے پاس پہنچ جاؤں گا تو تمہیں ادائیگی کر دوں گا۔ وکیع نے کہا: اعمش نے اسی طرح کہا: انہوں نے کہا: اس پر یہ آیت نازل ہوئی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا ”کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہا: مجھے (اپنا) مال اور (اپنی) اولاد لازماً دی جائے گی“ سے لے کر اس (اللہ) کے فرمان وَيَأْتِينَا فَرْدًا ”اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا“ تک۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7062]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ عَمَلًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ.
ابومعاویہ، عبداللہ بن نمیر، جریر اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ وکیع کی حدیث کی طرح بیان کیا اور جریر کی حدیث میں ہے۔ (حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا تو میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا پھر میں اس سے (اجرت کا) تقاضا کرنے کے لیے آیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7063]
5: باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ} الآيَةَ:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ”جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہیں ان کو عذاب نہیں کرون گا“۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: " اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ، فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ، فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ {33} وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الأنفال آية 33-34 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".
شعبہ نے عبدالحمید زیادی سے روایت کی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ ابوجہل نے کہا: ”اے اللہ!“ اگر (یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں) یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔ تو اس پر (آیت) نازل ہوئی: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ”اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر (اس طرح کا) عذاب بھیجنے والا نہ تھا جبکہ آپ بھی ان میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب وہ (علیحدگی میں) استغفار کیے جا رہے تھے۔ اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ (ایمان لانے والوں کو) مسجد حرام سے روکتے ہیں۔“ سے آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7064]
6: باب قَوْلِهِ: {إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى}:
باب: آیت «إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى» کا شانِ نزول۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟، قَالَ: فَقِيلَ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ، أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ، قَالَ: فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ، قَالَ: فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ، وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: مَا لَكَ؟، فَقَالَ: إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٌ بَلَغَهُ كَلَّا إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى {6} أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى {7} إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى {8} أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى {9} عَبْدًا إِذَا صَلَّى {10} أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى {11} أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى {12} أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى {13} سورة العلق آية 6-13 يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى {14} كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ {15} نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ {16} فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ {17} سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ {18} كَلَّا لا تُطِعْهُ سورة العلق آية 14-19 زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ، وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ: يَعْنِي قَوْمَهُ.
عبید اللہ بن معاذ اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے نعیم بن ابی ہند نے ابوحازم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: ابوجہل نے کہا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں؟ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو کہا گیا: ہاں چنانچہ اس نے کہا: لات اور عزیٰ کی قسم! اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو روندوں گا یا ان کے چہرے کو مٹی میں ملاؤں گا (العیاذ باللہ!) ”ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں!“ کہا: پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے وہ آپ کے پاس آیا اور یہ ارادہ کیا کہ آپ کی گردن مبارک کو روندے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو وہ انہیں اچانک ایڑیوں کے بل پلٹتا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھوں (کو آگے کر کے ان) سے اپنا بچاؤ کرتا ہوا نظر آیا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو اس سے کہا کیا: تمہیں کیا ہوا؟ تو اس نے کہا: میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق اور سخت ہول (پیدا کرنے والی مخلوق) اور بہت سے پر تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے۔“ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (ابوحازم نے کہا۔ (ہمیں معلوم نہیں کہ یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی) اپنی حدیث ہے یا انہیں (کسی کی طرف سے) پہنچی ہے۔ (وہ آیات یہ تھیں) كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَىٰ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَىٰ إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الرُّجْعَىٰ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَىٰ أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَىٰ كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ ”اس کے سوا کوئی بات نہیں کہ انسان ہر صورت میں سر کشی کرتا ہے اس لیے کہ وہ خود کو دیکھتا ہے کہ وہ ہر ایک سے مستغنی ہے حقیقت یہ ہے کہ (اسے) آپ کے رب کی طرف واپس جانا ہے۔ آپ نے اسے دیکھا جو روکتا ہے۔ (اللہ کے) بندے کو جب وہ نماز ادا کرتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا کہ اگر وہ (اللہ کا بندہ) ہدایت پر ہو اور تقویٰ کا حکم دیتا ہو (تو روکنے والے کا کیا بنے گا؟) کیا آپ نے دیکھا کہ آکر اس یعنی ابوجہل نے جھٹلایا ہے اور ہدایت سے منہ پھیرا ہے۔ (تو) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھتا ہے۔ ہر گز نہیں! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم (اسے) پیشانی سے پکڑ کر کھینچیں گے۔ (اس کی) جھوٹی گناہ کرنے والی پیشانی سے پھر وہ اپنی مجلس کو (مدد کے لیے) پکارے ہم عذاب دینے والے فرشتوں کو بلائیں گے۔ ہر گز نہیں! آپ اس کی (کوئی بات بھی) نہ مانیں۔“ عبید اللہ بن معاذ نے اپنی حدیث میں مزید کہا۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ کی تفسیر کرتے ہوئے) کہا: اور اس بات کا حکم دیتا ہو جس کا اس (اللہ) نے اسے حکم دیا ہے۔ اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے مزید یہ کہا: ”وہ اپنی مجلس کو پکارے“ یعنی اپنی قوم کو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7065]
7: باب الدُّخَانِ:
باب: دھوئیں کے بیان میں۔
أخبرنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ، فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ: يَا أَيَّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ، أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ "، قَالَ: فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجُوعِ، وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ أَحَدُهُمْ، فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ: إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ {11} سورة الدخان آية 10-11 إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 قَالَ أَفَيُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16 فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ ".
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صحیح) سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان (اپنے بستر یا بچھونے پر) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابوعبدالرحمان! ابواب کندہ (کوفہ کا ایک محلہ) میں ایک قصہ گو (واعظ) آیا ہوا ہے، وہ وعظ کر رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی (اللہ کی) نشانی آئے گی اور (یہ دھواں) کافروں کی روحیں قبض کر لے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے، لوگو! اللہ سے ڈرو، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتا ہو اور جو نہیں جانتا، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ بے شک وہ (اللہ تعالیٰ) تم میں سے اس کو (بھی) زیادہ جاننے والا ہے۔ جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا، یہ کہتا ہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ”کہہ دیجیے: میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اَللَّهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام ”اے اللہ! (ان پر) یوسف علیہ السلام کے سات سالوں جیسے سات سال (بھیج دے۔)“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو انہیں (قحط کے) ایک سال نے آ لیا جس نے ہر چیز کا صاف کرایا، یہاں تک کہ ان (مشرک) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی۔ چنانچہ ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ آئے ہیں، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، آپ کی قوم (قحط اور بھوک سے) ہلاک ہو رہی ہے۔ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سے لے کر إِنَّكُمْ عَائِدُونَ تک ”آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا۔ (اور وہ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہوگا۔“ سے لے کر ”بے شک تم (کفر میں) لوٹ جانے والے ہو۔“ تک۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: کیا آخرت کا عذاب ہٹایا جائے گا؟ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ”جس دن ہم تم پر بڑی گرفت کریں گے (اس دن) ہم انتقام لینے والے ہوں گے۔“ وہ گرفت بدر کے دن تھی۔ اب تک دھوئیں کی نشانی گرفت اور چمٹ جانے والا عذاب (بدر میں شکست فاش اور قتل) اور روم (کی فتح) کی نشانی (سب) آکر گذر چکی ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7066]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10، قَالَ: يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ، فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ، أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا، فَقَالَ: لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، قَالَ: فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، قَالَ: عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ {11} سورة الدخان آية 10-11 يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16، قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ ".
ابومعاویہ، وکیع، اور جریر نے اعمش سے، انہوں نے مسلم بن صحیح سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آ رہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ (قرآن کی) آیت: يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ”جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا“ کی تفسیر کرتا ہے، کہتا ہے: ”قیامت کے دن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت (جس میں سانس لینا مشکل ہو جاتی ہے) درپیش ہوگی، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بات انسان کے فہم (دین) کا حصہ ہے۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اس (دھوئیں) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام (کے زمانے والے) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعا کی۔ انہیں قحط اور تنگ دستی نے آ لیا یہاں تک کہ (ان میں سے) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں سا چھایا ہوا نظر آتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے (بھوک کی شدت سے) ہڈیاں تک کھائیں، چنانچہ (ان میں سے) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ (قبیلہ) مضر کے لیے بخشش طلب فرمائیں۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مُضَرَ؟ إِنَّكَ جَرِيءٌ ”مضر کے لیے؟ تو بہت جرأت والا ہے (کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود درخواست کر رہا ہے کہ میں تمہارے لیے اللہ سے دعا کروں)“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر بھی) ان کے حق میں دعا فرما دی۔ اس پر اللہ عزوجل نے (آیت) نازل فرمائی: إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ ”ہم (تم سے) تھوڑے عرصے کے لیے عذاب ہٹا دیتے ہیں۔ تم (پھر کفر ہی میں) لوٹنے والے ہو۔“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ان پر بارش برسائی گئی۔ انہیں خوشحالی مل گئی، کہا: (تو پھر) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ حصہ) نازل فرمایا: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ”آپ انتظار کیجیے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ دردناک عذاب ہوگا۔“ (پھر یہ آیت نازل فرمائی) يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ”جس دن ہم بڑی گرفت میں لیں گے، ہم انتقام لینے والے ہوں گے۔“ کہا: یعنی جنگ بدر کو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7067]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَاللِّزَامُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالْقَمَرُ "،
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: پانچ (نشانیاں گزر چکی ہیں: دھواں، چمٹ جانے والا عذاب (بدر کے دن شکست اور ہلاکتیں)، روم کی فتح (بدر کے دن ستر مشرکوں کی گرفتاری)، سخت گرفت اور چاند (کا دو ٹکڑے ہونا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7068]
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7069]
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: " وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ سورة السجدة آية 21، قَالَ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوِ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاكُّ، فِي الْبَطْشَةِ أَوِ الدُّخَانِ.
محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے حسن عرفی سے، انہوں نے یحییٰ بن جزار سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے فرمان: وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ ”اور بڑے عذاب سے پہلے ہم انہیں قریب کا (چھوٹا) عذاب چکھائیں گے“ (کی تفسیر) کے بارے میں روایت کی، انہوں نے کہا (اسی) دنیا میں پیش آنے والے مصائب، روم کی فتح، گرفت (جنگ بدر) یا دھواں (مراد) ہیں۔ گرفت اور دھواں کے بارے میں شک کرنے والے شعبہ ہیں۔ (ان سے اوپر کے راویوں نے یقین سے بتایا کہ گرفت اور دھواں مراد ہیں۔ شعبہ کو شک ہوا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7070]
8: باب انْشِقَاقِ الْقَمَرِ:
باب: شق القمر کا بیان۔
مَصَائِبُ الدُّنْيَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِقَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا ".
مجاہد نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہو کر دو ٹکڑے ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(لوگو! اس کو دیکھ لو اور) گواہ بن جاؤ“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7071]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى إِذَا انْفَلَقَ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ، فَكَانَتْ فِلْقَةٌ وَرَاءَ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ دُونَهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا ".
ابومعاویہ، حفص بن غیاث اور علی ابن مسہر نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں موجود تھے کہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے (نظر آتا) تھا اور دوسرا ٹکڑا اس سے آگے (دوسری طرف نظر آتا) تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”(اس کے) گواہ بن جاؤ“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7072]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلْقَتَيْنِ، فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً، وَكَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اشْهَدْ "،
شعبہ نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہو کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانپ لیا (اس پہاڑ کے پیچھے نظر آتا تھا) اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ بن جاؤ“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7073]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ،
معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7074]
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ، عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، فَقَالَ: اشْهَدُوا اشْهَدُوا.
محمد بن جعفر اور ابن عدی دونوں نے شعبہ سے، شعبہ سے ابن معاذ کی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث روایت کی، مگر ابن ابی عدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کے) گواہ بن جاؤ، گواہ بن جاؤ“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7075]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ "،
شیبان نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ انھیں (اپنی نبوت کی سچائی کی) کوئی نشانی دکھائیں تو آپ نے انھیں چاند کے دو ٹکڑے ہونا دکھایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7076]
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ بِمَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ.
معمر نے ہمیں قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے شیبان کی حدیث سے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7077]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
یحییٰ بن سعید، محمد بن جعفر اور ابوداود طیالسی سب نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا۔ اور ابوداود طیالسی کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند پھٹ گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7078]
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7079]
9: باب فَي الْكُفَّارِ
باب: کافروں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابومعاویہ اور ابواسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابوعبدالرحمان سلمی سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکلیف دہ باتیں سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں، اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے پھر بھی وہ انھیں عافیت میں رکھتا ہے اور انھیں رزق عطا کرتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7080]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ.
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے ابوعبدالرحمان سلمی سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے: ”اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے“، انہوں نے اس (قول) کو بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7081]
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ ".
عبیداللہ بن سعید نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابواسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے ابوعبدالرحمان سلمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ (ابوموسیٰ اشعری) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نہیں جو تکلیف دہ باتوں پر جنھیں وہ سنتا ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا ہو، لوگ اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک ٹھہراتے ہیں، اس کی اولاد بناتے ہیں اور وہ اس (سب کچھ) کے باوجود انھیں رزق دیتا ہے، عافیت بخشتا ہے اور عطا کرتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7082]
10: باب طَلَبِ الْكَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَهَبًا:
باب: کافروں سے زمین بھر سونا بطور فدیہ طلب کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ، أَنْ لَا تُشْرِكَ أَحْسِبُهُ، قَالَ: وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ، فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعوان جونی سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص سے، جسے اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ہوگا، فرمائے گا: اگر پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، تمہارے پاس ہو تو (عذاب سے چھوٹ جانے کے لیے) اسے بطور فدیہ دے دو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے، اس کی نسبت بہت کم کا مطالبہ کیا تھا کہ تم شرک نہ کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آگے یہ) فرمایا: اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا، مگر تم نے شرک کے سوا ہر چیز سے انکار کر دیا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7083]
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعمران سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے، اسی کے مانند، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے: ”اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا“، انہوں نے اسے بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7084]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ "،
ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہارے پاس زمین (کی مقدار) بھر سونا موجود ہو تو کیا تم (جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو اس سے کہا جائے گا: تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیا گیا تھا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7085]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ كِلَاهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: كَذَبْتَ قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ.
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے (اس طرح) کہا: ”تو اس سے کہا جائے گا: تم جھوٹ بولتے ہو، تم سے تو اس سے بہت آسان (بات کا) مطالبہ کیا گیا تھا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7086]
11: باب يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ:
باب: کافر کا حشر منہ کے بل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لزهير، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ: " أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ قَتَادَةُ: بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا.
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟“ قتادہ نے (حدیث سنانے کے بعد) کہا: کیوں نہیں، ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ قادر ہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7087]
12: باب صَبْغِ أَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا فِي النَّارِ وَصَبْغِ أَشَدِّهِمْ بُؤْسًا فِي الْجَنَّةِ:
باب: دنیا میں دکھ نہ دیکھنے والے جہنم میں غوطہ اور سکھ نہ دیکھنے والے کو جنت کا غوطہ دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيمٌ قَطُّ؟، فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ، وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ: هَلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟، فَيَقُولُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا مَرَّ بِي بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَيْتُ شِدَّةً قَطُّ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل دوزخ میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ تر اور خوشحال تھا، پس دوزخ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے دنیا میں کبھی آرام دیکھا تھا؟ کیا تجھ پر کبھی چین بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! اے میرے رب! کبھی نہیں۔ اور اہل جنت میں سے ایک ایسا شخص لایا جائے گا جو دنیا میں سب لوگوں سے سخت تر تکلیف میں رہا تھا، جنت میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! تو نے کبھی تکلیف بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر شدت اور رنج بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! مجھ پر تو کبھی تکلیف نہیں گزری اور میں نے تو کبھی شدت اور سختی نہیں دیکھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7088]
13: باب جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا:
باب: مومن کو نیکیوں کا بدلہ دنیا اور آخرت میں ملے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا، وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا ".
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔ رہا کافر، اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں، اسی دنیا میں کھلا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7089]
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ "،
معتمر کے والد سلیمان نے کہا: ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی: ”بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اس کے بدلے اسے دنیا کے کھانوں (نعمتوں) میں سے ایک لقمہ (نعمت کی صورت میں) کھلا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ مومن کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت کے لیے کرتا جاتا ہے۔ اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں (بھی) اسے رزق عطا فرماتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7090]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا.
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمام اور سلیمان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7091]
14: باب مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الأَرْزِ:
باب: مومن اور کافر کی مثال۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ "،
عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے۔ ہوا مسلسل اس کو (ایک یا دوسری طرف) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال ویدار درخت کی طرح ہے (جس کا تنا ہوا میں بھی تن کر کھڑا رہتا ہے)۔ جھکتا نہیں حتیٰ کہ (ایک ہی بار) اسے کاٹ کر گرا دیا جاتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7092]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَكَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ.
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی مگر عبدالرزاق کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”اسے جھکاتی رہتی ہے“ کے بجائے ”اسے موڑتی رہتی ہے“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7093]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى حَتَّى تَهِيجَ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُفِيئُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ".
زکریا بن ابی زائدہ نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کے باریک تیلی جیسے تنے کی ہے۔ ہوا اسے موڑ دیتی ہے، ایک مرتبہ زمین پر لٹا دیتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے سیدھا کریتی ہے، یہاں تک کہ وہ پیلا ہو کر خشک ہو جاتا ہے اور کافر کی مثال ویدار درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر تن کر کھڑا ہوتا ہے، اسے کوئی چیز جھکا نہیں سکتی، یہاں تک کہ اس کا اکھڑ کر گرنا ایک ہی بار ہوتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7094]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً "،
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بشر بن سری اور عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عینیہ نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمان بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کے تیلی نما نرم تنے کی سی ہے جس کو ہوا موڑتی رہتی ہے، کبھی اس کو لٹا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کر دیتی ہے، حتیٰ کہ اس (کے پک کر کٹنے) کا وقت آ جاتا ہے، اور منافق کی مثال ویدار کے مضبوط جڑوں والے درخت کی طرح ہے، کوئی چیز اسے جھکاتی نہیں، حتیٰ کہ ایک ہی دفعہ وہ جڑوں سے اکھڑ (کر گر) جاتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7095]
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّ مَحْمُودًا، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ بِشْرٍ: وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ، وَأَمَّا ابْنُ حَاتِمٍ، فَقَالَ: مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَا قَالَ زُهَيْرٌ،
محمد بن حاتم اور محمود بن غیلان نے مجھے یہی حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں بشر بن سری نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، مگر محمود نے بشر سے اپنی روایت میں کہا: ”کافر کی مثال ویدار کے درخت کی طرح ہے“۔ اور ابن حاتم نے ”منافق کی مثال“ کہا، جس طرح زہیر نے کہا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7096]
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ ابْنُ هَاشِمٍ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَقَالَا جَمِيعًا فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ يَحْيَى: وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ.
محمد بن بشار اور عبداللہ بن ہاشم نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی۔ ابن ہاشم نے کہا: عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی اور ابن بشار نے کہا: عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے والد سے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، جیسے ان سب کی حدیث ہے۔ اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں کہا: یحییٰ سے روایت ہے: ”اور کافر کی مثال ویدار کے درخت جیسی ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7097]
15: باب مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ:
باب: مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ " فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: فَقَالَ: " هِيَ النَّخْلَةُ "، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ، قَالَ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ هِيَ النَّخْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا ".
عبداللہ بن دینار نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے؟“ تو لوگوں نے جنگل کے مختلف درختوں کی طرف دھیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ لیکن میں جھجک گیا پھر وہ (لوگ) کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیے کہ وہ کون سا (درخت) ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے“۔ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میں نے یہ (بات اپنے والد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے کہا: اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو میرے نزدیک یہ (جواب) فلاں فلاں (سرخ اونٹوں) سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7098]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ: " أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ؟ "، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا، فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ، فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَلَمَّا سَكَتُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ النَّخْلَةُ "،
ابوخلیل ضبعی نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہے“۔ تو لوگ جنگلوں کے درختوں میں سے کوئی (نہ کوئی) درخت بتانے لگے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میرے دل میں یا میرے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے میں ارادہ کرنے لگا کہ بتاؤں، لیکن (وہاں) قوم کے معمر لوگ موجود تھے تو میں ان کی ہیبت سے متاثر ہو کر بولنے سے رک گیا۔ جب وہ سب خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7099]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا،
ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی، کہا: میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، میں نے انھیں ایک حدیث کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ کے پاس کھجور کے تنے کا نرم گودا لایا گیا۔ پھر ابوخلیل ضبعی اور عبداللہ بن دینار کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7100]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
سیف نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے مجاہد کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کے تنے کا نرم گودا لایا گیا، پھر ان کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7101]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا؟ "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَعَلَّ مُسْلِمًا، قَالَ: وَتُؤْتِي أُكُلَهَا وَكَذَا، وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا وَلَا تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا، فَقَالَ عُمَرُ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ نے فرمایا: ”مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو ایک مسلمان آدمی سے مشابہ یا (فرمایا:) کی طرح ہے، اس کے پتے نہیں جھڑتے“۔ (امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد) ابراہیم بن سفیان نے کہا: غالباً (ہمارے شیخ) امام مسلم نے ”اور وہ (درخت) اپنا پھل دیتا ہے“ کہا ہوگا (لیکن میرے پاس ”نہیں دیتا“ لکھا ہے) اور میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہاں بھی (ان کے نسخوں میں) یہی پایا ہے: اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ مگر میں نے حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نہیں بول رہے تھے تو میں نے یہ ناپسندیدگی کہ میں بولوں اور کچھ کہوں، چنانچہ (میں نے یہ بات کہی تو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم یہ بات کہہ دیتے تو مجھے یہ فلاں فلاں (سرخ اونٹوں) سے زیادہ پسند ہوتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7102]
16: باب تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا:
باب: شیطان کا فساد مسلمانوں میں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ "،
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان اس بات سے ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرہ عرب میں نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں گے لیکن وہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کرانے سے مایوس نہیں ہوا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7103]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
وکیع اور ابومعاویہ دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7104]
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ابلیس کا تخت سمندر پر ہے۔ وہ اپنے لشکر روانہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ فتنے برپا کریں۔ اس کے نزدیک (شیطنت کے) درجے میں سب سے بڑا وہ ہے جو زیادہ بڑا فتنہ برپا کرے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7105]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا، قَالَ: ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ، وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ "، قَالَ الْأَعْمَشُ: أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ.
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر وہ اپنے لشکر روانہ کرتا ہے۔ اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالتا ہے۔ ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے: میں نے فلاں فلاں کام کیا ہے، وہ کہتا ہے: تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے: میں نے اس شخص کو (جس کے ساتھ میں تھا) اس وقت تک نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرا دی۔ وہ کہتا ہے: تو وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: تم سب سے بہتر ہو“۔ اعمش نے کہا: میرا خیال ہے اس (ابوسفیان طلحہ بن نافع) نے کہا: ”پھر وہ اسے اپنے ساتھ لگا لیتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7106]
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ، فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے اور وہ لوگوں کو فتنوں میں ڈالتے ہیں۔ اس کے نزدیک ان میں سے بڑے مرتبے والا وہ ہوتا ہے جو زیادہ بڑا فتنہ ڈالتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7107]
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ "، قَالُوا: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ، فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ "،
عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص بھی نہیں مگر اللہ نے اس کے ساتھ جنوں میں سے اس کا ایک ساتھی مقرر کر دیا ہے (جو اسے برائی کی طرف مائل رہتا ہے)“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میرے ساتھ بھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہو گیا، اس لیے (اب) وہ مجھے خیر کے سوا کوئی بات نہیں کہتا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7108]
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ.
سفیان اور عمار بن رزیق دونوں نے منصور سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر سفیان کی حدیث میں ہے: ”ہر شخص کے لیے ایک ساتھی جنوں میں سے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر کر دیا ہے (جن اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے اور فرشتہ نیکی کی طرف۔ فیصلہ خود اسی کو کرنا ہوتا ہے))“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7109]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا، قَالَتْ: فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ، فَرَأَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ؟ "، فَقُلْتُ: وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ؟ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ ".
عروہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل گئے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: مجھے آپ کے معاملے میں شدید غیرت محسوس ہوئی، پھر آپ واپس آئے اور دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں (شدید غصے کے عالم میں ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تمھیں کیا ہوا ہے، کیا تم غیرت میں مبتلا ہو گئی ہو؟“ میں نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو (جو ایک عظیم خاتون ہو) آپ جیسے مرد پر (جو ایک سے بڑھ کر محبوب ہو) غیرت نہ آئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آیا تھا (اور اس نے تمھیں شک میں مبتلا کیا)؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ شیطان بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ میں نے کہا: ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں لیکن میرے رب نے اس پر (قابوپانے میں) میری مدد فرمائی اور وہ اسلام لے آیا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7110]
17: باب لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى:
باب: کوئی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہ جائے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ "، قَالَ رَجُلٌ: وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا "،
لیث نے بکیر سے، انہوں نے بسربن سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کو محض اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا“۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مجھے اپنی رحمت سے چھپا لے، لیکن تم سیدھے راستے پر چلو“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7111]
وحَدَّثَنِيهِ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَكِنْ سَدِّدُوا.
عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی مگر (اس میں) کہا: ”اپنی رحمت اور فضل سے“ اور انہوں نے: ”اور لیکن تم سیدھے راستے پر چلو“ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7112]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ "، فَقِيلَ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ ".
ایوب نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا“۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت میں چھپا لے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7113]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ "، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ "، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ بِيَدِهِ هَكَذَا: وَأَشَارَ عَلَى رَأْسِهِ، وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ.
ابن عون نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا“۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور مغفرت میں چھپا لے“۔ اور ابن عون نے اس طرح اپنے ہاتھ سے بتایا اور اپنے سر کی طرف (رحمت سے ڈھانپ لینے کا) اشارہ کیا (فرمایا) ”اور مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے (اس طرح) اپنی رحمت اور مغفرت سے ڈھانپ لے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7114]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ أَحَدٌ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ "، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَدَارَكَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ ".
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں لے لے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7115]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبَّادٍ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ "، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ ".
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوعبید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7116]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَاعْلَمُوا، أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا أَنْتَ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ "،
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابوصالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عمل کے اعلیٰ ترین معیار کے) قریب تر رہنے کی کوشش کرو۔ صحیح راستہ اختیار کرو اور یقین رکھو کہ تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7117]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،
ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7118]
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا كَرِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ،
جریر نے اعمش سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ ابن نمیر کی روایت کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7119]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَأَبْشِرُوا.
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور اس میں مزید کہا: ”اور خوش خبری لو (کہ اس کی رحمت بہت وسیع ہے، اچھے عمل قبول ہو جائیں گے)“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7120]
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ، وَلَا يُجِيرُهُ مِنَ النَّارِ، وَلَا أَنَا إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نہ جنت میں لے جائے گا اور نہ دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور نہ مجھے سوائے اللہ کی طرف سے رحمت کے (جو نجات کا سبب بنے گی)“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7121]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ "، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ "،
عبدالعزیز بن محمد اور وہیب نے کہا: ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحیح عمل کرو، (اعلیٰ ترین معیار کے) قریب تر رہو اور (اللہ کی رحمت کی) خوش خبری (کی امید) رکھو۔ حقیقت یہی ہے کہ کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا“۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”مجھے بھی نہیں الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے چاہے کم ہو“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7122]
وحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَأَبْشِرُوا.
عبدالعزیز بن مطلب نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ”خوش خبری (کی امید) رکھو“ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7123]
18: باب إِكْثَارِ الأَعْمَالِ وَالاِجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ:
باب: عمل بہت کرنا اور عبادت میں کوشش کرنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: " أَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ابوعوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی (اتنی لمبی) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت فرما دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7124]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَتَّى وَرِمَتْ قَدَمَاهُ، قَالُوا: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
سفیان نے ہمیں زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا (اتنا لمبا) قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں (پھر اس قدر مشقت کیوں؟) تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7125]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو (بہت لمبا) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسا کرتے ہیں، حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی (یقین دہانی کرائی) جا چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا میں (اللہ تعالیٰ کا) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7126]
19: باب الاِقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ:
باب: وعظ میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ، فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، فَقُلْنَا: أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ: إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ، فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا "،
ابومعاویہ نے اعمش سے اور انہوں نے شقیق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے انتظار میں ان کے گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: ان (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دیں۔ وہ ان کے پاس گئے تو تھوڑی ہی دیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ گئے اور فرمایا: ”مجھے تمھارے آنے کی اطلاع کر دی گئی تھی اور مجھے تمھارے پاس آنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع تھی کہ میں تمھاری اکتاہٹ کا سبب نہ بن جاؤں۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے اکتا جانے کے ڈر سے صرف بعض دنوں میں ہی وعظ و نصیحت سے نوازا کرتے تھے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7127]
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ مِنْجَابٌ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ.
ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن ادریس نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں منجانب بن حارث تمیمی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن مسہر نے خبر دی، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، نیز ہمیں ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی، ان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی۔ اور منجانب نے اپنی روایت میں مزید یہ کہا: ابن مسہر سے روایت ہے اعمش نے کہا: اور مجھے عمرو بن مرہ نے شقیق سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7128]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمِ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ : إِنَّا نُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ وَلَوَدِدْنَا أَنَّكَ حَدَّثْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا ".
منصور نے شقیق ابووائل سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں ہر جمعرات کے دن وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے تو ایک شخص نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہمیں آپ کی باتیں (بہت) پسند ہیں اور ہم ان کی طرف شدید رغبت رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر روز ہمیں احادیث بیان فرمایا کریں۔ انہوں نے کہا: مجھے اس کے علاوہ تمھیں احادیث بیان کرنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع ہے کہ میں تمھیں اکتاہٹ کا شکار نہ کر دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ہم پر اکتاہٹ طاری ہو جائے کچھ (خاص) دنوں میں ہی ہمیں وعظ و نصیحت سے نوازا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7129]
← پچھلی کتاب #53 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #55 →