كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا
کتاب #51: جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
|
1ق: باب صِفَّةِ الْجَنَّةِ
باب: جنت کی صفات کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ "،
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت گراں امور میں گھری ہوئی ہے اور دوزخ خواہشات نفسانی میں گھری ہوئی ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7130]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7131]
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ مِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17 ".
سفیان نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال تک گزرا ہے“۔ کتاب اللہ میں اس کا مصداق (یہ آیت) ہے: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (السجدہ: 17) ”کسی کو معلوم نہیں کہ جو نیک کام کرتے رہے ان کی جزا کے طور پر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کیا جو چھپا کر رکھا گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7132]
|
|
|
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ ".
مالک نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کرکے جمع کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان (کے تصور) کا گزر ہوا۔ (یہ) ان (نعمتوں کے) علاوہ ہے جن کے بارے میں تمھیں اللہ تعالیٰ نے مطلع کر دیا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7133]
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 ".
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کرکے جمع کی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ان کا کسی بشر کے دل میں خیال گزرا، ان نعمتوں کے علاوہ جن پر اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کر دیا ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیت) پڑھی: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ (السجدہ: 17) ”کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7134]
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: " فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ {16} فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ {17} سورة السجدة آية 16-17 ".
ابوحازم نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آپ نے بات ختم کی۔ پھر اپنی بات کے آخر میں فرمایا: ”اس (جنت) میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا“۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (السجدہ: 16-17) ”ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں وہ خوف کے عالم میں اور پوری امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ پس کوئی ذی حیات (انسان) نہیں جانتا کہ جو وہ کرتے ہیں اس کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا (کچھ) چھپا کر رکھا گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7135]
|
|
|
1: باب إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا:
باب: جنت میں اس درخت کا بیان جس کا سایہ سو سال تک چلنے پر بھی ختم نہیں ہوتا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ "،
ابوسعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک اونٹ سوار سو سال تک چلتا رہے گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7136]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ لَا يَقْطَعُهَا.
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کی اور مزید کہا: ”وہ اس (کے سائے) کو طے نہیں کر سکے گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7137]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا "
ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے، ایک سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تو بھی اسے طے نہ کر سکے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7138]
|
|
|
قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ ، فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا ".
ابوحازم نے کہا: میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش زرقی کو سنائی تو انہوں نے کہا: مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے (جس کے سائے میں) ایک تیز رفتار چھریرے کھوڑے پر سوار شخص سو سال چلے تو بھی اسے قطع نہ کر سکے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7139]
|
|
|
2: باب إِحْلاَلِ الرِّضْوَانِ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلاَ يَسْخَطُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا:
باب: اس بات کا بیان کہ جنتیوں پر اللہ تعالیٰ کبھی ناراض نہیں ہو گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟، فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! وہ کہیں گے: لبیک، اے ہمارے رب! زہے نصیب کہ ہم تیرے سامنے حاضر ہیں اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ تو وہ فرمائے گا: کیا تم راضی ہو گئے ہو؟ وہ سب کہیں گے: ہم راضی کیوں نہ ہوں؟ اے ہمارے رب! جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کر دیا ہے جو تو نے اپنی ساری مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ وہ فرمائے گا: کیا میں تمھیں اس سے بھی بہتر عطا نہ کروں؟ تو وہ کہیں گے: اے رب! (جو تو نے عطا کر دیا ہے) اس سے افضل کیا ہے؟ وہ فرمائے گا: میں تم پر اپنی رضا نازل کرتا ہوں، اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7140]
|
|
|
3: باب تَرَائِي أَهْلِ الْجَنَّةِ أَهْلَ الْغُرَفِ كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ فِي السَّمَاءِ:
باب: اس بات کے بیان میں کہ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح کہ تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ "،
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ہمیں ابوحازم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والے جنت کے بالاخانے کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم لوگ آسمان میں ستارے کو دیکھتے ہو“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7141]
|
|
|
قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي الْأُفُقِ الشَّرْقِيِّ أَوِ الْغَرْبِيِّ "،
(ابوحازم نے) کہا: میں نے یہ روایت نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی افق میں چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7142]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.
وہیب نے ابوحازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7143]
|
|
|
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ مِنَ الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ، قَالَ: " بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ ".
عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت فضیلت میں باہمی فرق کی بنا پر اپنے اوپر بالاخانوں میں رہنے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں چمکتے ہوئے تنہا ستارے کو دیکھتے ہو“۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ انبیاء علیہم السلام کے رہنے کی جگہیں ہوں گی جن تک دوسرا کوئی نہیں پہنچ سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ ایسے مرد ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7144]
|
|
|
4: باب فِيمَنْ يَوَدُّ رُؤْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ:
باب: ان لوگوں کے بیان میں کہ جنہیں اپنے گھر اور مال کے بدلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار پیارا ہو گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ (بھی) ہیں جو میرے بعد ہوں گے، ان میں سے (ہر) ایک چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل و عیال اور مال کی قربانی دے کر مجھے دیکھ لے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7145]
|
|
|
5: باب فِي سُوقِ الْجَنَّةِ وَمَا يَنَالُونَ فِيهَا مِنَ النَّعِيمِ وَالْجَمَالِ:
باب: جنت کے بازار اور اس میں موجود نعمتوں اور حسن و جمال کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ، فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ، فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ: وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُونَ: وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک بازار ہے جس میں وہ (اہل جنت) ہر جمعہ کو آیا کریں گے تو (اس روز) شمال کی ایسی ہوا چلے گی جو ان کے چہروں پر اور ان کے کپڑوں پر پھیل جائے گی، وہ حسن و جمال میں اور بڑھ جائیں گے، وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس آئیں گے تو وہ (بھی) حسن و جمال میں اور بڑھ گئے ہوں گے، ان کے گھر والے ان سے کہیں گے: اللہ کی قسم! ہمارے (ہاں سے جانے کے) بعد تمہارا حسن و جمال اور بڑھ گیا ہے۔ وہ کہیں گے: اور تم بھی، اللہ کی قسم! ہمارے پیچھے تم لوگ بھی اور زیادہ خوبصورت و حسین ہو گئے ہو“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7146]
|
|
|
6: باب أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ:
باب: اس بات کا بیان کہ جنتیوں کا پہلے گروہ جو داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے۔
|
|
|
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ؟، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ "،
اسماعیل بن علیہ نے کہا: ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے خبر دی کہ (حصول علم کے لیے جمع ہونے والے مردوں اور عورتوں نے) باہمی اظہار، تفاخر یا علمی مذاکرہ کرتے ہوئے (اس موضوع پر) بات کی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ تھا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سے زیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہو گی۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی (ایسے شفاف اور منور جسم والی کہ) ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (پوری) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہو گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7147]
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ، فَسَأَلُوا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: اخْتَصَمَ الرِّجَالُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
سفیان نے ایوب سے اور انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی، کہا: مردوں اور عورتوں میں بحث ہو گئی کہ ان میں سے جنت میں زیادہ کون ہوگا؟ پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سے زیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہو گی۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی (ایسے شفاف اور منور جسم والی کہ) ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (پوری) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہو گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7148]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ ".
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی“۔ اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی، الفاظ قتیبہ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں جریر نے عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی۔ جو ان کے (فوراً) بعد جائیں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ روشن چمکتے ہوئے ستارے کی شکل میں ہوں گے، انھیں پیشاب کی حاجت ہو گی نہ پاخانے کی، نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، پسینہ کستوری کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں معطر عود (سلگتا) ہو گا، ان کی بیویاں غزال چشم حوریں ہوں گی، ان سب کے اخلاق و عادات ایک ہی آدمی کے خلق کے مطابق ہوں گے۔ اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل پر، (قامت میں) آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ساٹھ ہاتھ کے برابر“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7149]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ لَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا "، قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ، وقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا وہ چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہو گا، جو ان کے بعد ہوں گے وہ آسمان میں انتہائی چمکدار ستارے کی طرح ہوں گے، پھر وہ تدریجاً اپنے اپنے مرتبے کے مطابق ہوں گے، وہ پاخانہ کریں گے نہ پیشاب، ناک سنکیں گے نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی، انگیٹھیاں معطر عود کی اور پسینہ کستوری کا ہو گا۔ ان سب کے اخلاق ایک ہی آدمی کے (خوبصورت) اخلاق پر ہوں گے، اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کی قامت پر ساٹھ ہاتھ (لمبے) ہوں گے“۔ ابن ابی شیبہ نے کہا: ایک ہی آدمی کے اخلاق پر، اور ابوکریب نے کہا: ایک ہی آدمی کی خلقت (شکل و صورت قد و قامت) پر ہوں گے۔ اور ابن ابی شیبہ نے کہا: اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کی شکل پر ہوں گے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7150]
|
|
|
7: باب فِي صِفَاتِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِهَا وَتَسْبِيحِهِمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا:
باب: جنت اور اہل جنت کی صفات اور ان کی صبح و شام کی تسبیحات کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ، وَأَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَجَامِرُهُمْ مِنَ الْأَلُوَّةِ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ، وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا ".
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے بہت سی احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلا گروہ جو جنت کے اندر جائے گا، ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہوں گی۔ وہ اس (جنت) میں نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے، نہ پیشاب پاخانہ کریں گے۔ ان کے برتن اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں میں عود معطر سلگے گا، ان کا پسینہ کستوری کا ہو گا۔ ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی، فرط حسن سے ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت سے پیچھے سے دکھائی دے گا۔ ان کے درمیان نہ کوئی اختلاف ہو گا نہ باہمی بغض ہو گا۔ ان سب کے دل ایک دل (کی طرح) ہوں گے۔ وہ صبح و شام اپنے اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7151]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ "، قَالُوا: فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟، قَالَ: " جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ "،
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اہل جنت وہاں کھائیں گے پئیں گے۔ لیکن نہ اس میں تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے، نہ رفع حاجت کریں گے اور نہ ناک سنکیں گے“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے پوچھا: تو ان کے کھانے کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ڈکار (آئے گی) اور کستوری کے پسینے کی طرح پسینہ آئے گا۔ ان کو تسبیح اور حمد (کے نغمے) اسی طرح (فطرت کے اندر) الہام کر دیے جائیں گے، جس طرح سانس کو الہام (کر کے ان کی فطرت میں شامل) کر دیا جاتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7152]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِبِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ كَرَشْحِ الْمِسْكِ.
ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”کستوری کے پسینے کی طرح“ تک روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7153]
|
|
|
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ ، قَالَ حَسَنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبُولُونَ، وَلَكِنْ طَعَامُهُمْ ذَاكَ جُشَاءٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ "، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ: طَعَامُهُمْ ذَلِكَ،
حسن بن علی حلوانی اور حجاج بن شاعر دونوں نے مجھے ابوعاصم سے روایت کی۔ حسن نے کہا: ہمیں ابوعاصم نے حدیث بیان کی، کہا: ابن جریج سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت اس میں کھائیں اور پئیں گے، (لیکن) وہ اس میں رفع حاجت کریں گے نہ ناک سنکیں گے، نہ پیشاب کریں گے، البتہ ان کا کھانا ڈکار (کی شکل میں تحلیل) ہو جائے گا، جو مشک کی طرح خوشبو دار ہو گی۔ انھیں (خود بخود) اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد کرنا الہام کیا جائے گا جس طرح انھیں (خود بخود) سانس لینا الہام کیا گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7154]
|
|
|
وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّكْبِيرَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ.
یحییٰ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (حدیث) روایت کی، مگر انہوں نے کہا: ”اور انھیں تسبیح و تکبیر اسی طرح الہام کی جائے گی جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7155]
|
|
|
8: باب فِي دَوَامِ نَعِيمِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}.
باب: جنت کی نعمتیں ہمیشہ رہیں گی۔
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ ".
ابورافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ ناز و نعم میں ہو گا کبھی تنگ حال نہ ہو گا۔ اس کا لباس پرانا ہو گا نہ اس کی جوانی ڈھلے گی“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7156]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد واللفظ لإسحاق، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: قَالَ الثَّوْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ الْأَغَرّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُنَادِي مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا، فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ سورة الأعراف آية 43 ".
ثوری نے کہا: مجھے ابواسحٰق نے حدیث بیان کی، (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) اغر (ابن عبداللہ) نے انھیں حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: یقیناً تمھارے لیے یہ (انعام بھی) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ پڑو گے، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہو گے، کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہو گے۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہو گے، کبھی زحمت نہ دیکھو گے“۔ یہی اللہ عزوجل کا فرمان (واضح کرتا) ہے: ﴿وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ (الأعراف: 43) ”اور انھیں ندا دے کر کہا جائے گا کہ یہی تمھاری جنت ہے جس کے تم ان اعمال کی وجہ سے جو تم کرتے رہے وارث بنا دیے گئے ہو“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7157]
|
|
|
9: باب فِي صِفَةِ خِيَامِ الْجَنَّةِ وَمَا لِلْمُؤْمِنِينَ فِيهَا مِنَ الأَهْلِينَ:
باب: جنتیوں کی بیویوں اور ان کے خیموں کی شان کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي قُدَامَةَ وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ، وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا لِلْمُؤْمِنِ فِيهَا أَهْلُونَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُ، فَلَا يَرَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا ".
ابوقدامہ حارث بن عبید نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے، انہوں نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے لیے جنت میں ایک خیمہ ہو گا، جو ایک پولے چمکتے سفید موتی کا بنا ہوا ہو گا۔ اس کی لمبائی ستر میل ہو گی۔ اس (خیمے) میں مومن کے بہت سے گھر والے ہوں گے۔ وہ (باری باری) ان کے ہاں چکر لگائے گا، (لیکن) وہ (اس قدر فاصلے پر ہوں گے کہ) ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے ہوں گے (کسی کا بھی دل پریشانی یا حسد کا شکار نہ ہو گا)“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7158]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةٌ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ، مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُ ".
ابوعبدالصمد نے کہا: ہمیں ابوعمران جونی نے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں تھوتھے چمکدار سفید موتی کا خیمہ ہو گا۔ اس کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی۔ اس کے ہر کونے میں گھر والے ہوں گے، وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے ہوں گے۔ مومن ان کے ہاں چکر لگایا کرے گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7159]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ طُولُهَا فِي السَّمَاءِ سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ لِلْمُؤْمِنِ لَا يَرَاهُمُ الْآخَرُونَ ".
ہمام نے ابوعمران جونی سے خبر دی، انہوں نے ابوبکر بن ابوموسیٰ سے، انہوں نے اپنے والد (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیمہ ایک موتی (کا) ہو گا، اوپر کی طرف اس کی لمبائی (بلندی) ساٹھ میل ہو گی۔ اس کے ہر کونے میں مومن کے گھر والے ہوں گے، وہ دوسروں کو نہیں دیکھیں گے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7160]
|
|
|
10: باب مَا فِي الدُّنْيَا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ:
باب: جنت کی نہروں کا دنیا میں ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیحان، جیحان، فرات اور نیل سب جنت کی (طرف سے آنے والی) نہریں ہیں“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7161]
|
|
|
11: باب يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ:
باب: جنت کے ایک گروہ کا بیان جن کے دل چڑیوں کے سے ہوں گے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جنت میں ایسی قومیں (امتیں جماعتیں) داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7162]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَهُ، قَالَ: اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ، فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ، قَالَ: فَذَهَبَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَ: فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَ: فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهُ حَتَّى الْآنَ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی (پسندیدہ) صورت پر پیدا فرمایا، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا، جب ان کو تخلیق فرما لیا تو فرمایا: جائیں اور اس (سامنے والی) جماعت کو سلام کہیں۔ اور وہ فرشتوں کی جماعت ہے جو بیٹھے ہوئے ہیں اور جس طرح وہ آپ کو سلام کہیں اسے غور سے سنیں، وہی آپ کا اور آپ کی اولاد کا سلام ہو گا۔ فرمایا وہ گئے اور کہا: ﴿السلام عليك﴾، انہوں نے (جواب میں) کہا: ﴿السلام عليك ورحمة الله﴾، فرمایا: انہوں نے ان (آدم علیہ السلام) کے لیے ورحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہو گا آدم علیہ السلام کی (اسی) صورت پر ہو گا اور ان کی قامت (جنت میں) ساٹھ ہاتھ تھی، پھر ان کے بعد آج تک (ان کی اولاد کی) خلقت چھوٹی ہوتی رہی ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7163]
|
|
|
12: باب جَهَنَّمَ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهَا
باب: جہنم کا بیان (اللہ ہم کو اس سے بچائے)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ خَالِدٍ الْكَاهِلِيِّ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا ".
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (قیامت کے) روز جہنم کو لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7164]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَارُكُمْ هَذِهِ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ "، قَالُوا: وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهَا مِثْلُ حَرِّهَا "،
ابوزناد نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری یہ آگ، جس کو ابن آدم روشن کرتا ہے، جہنم کی گرمی کے ستر حصوں میں سے ایک حصے (کی حرارت) کے برابر ہے“۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! یہ لوگ بھی تو کافی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے انہتر حصے زیادہ رکھا گیا ہے، ہر حصہ اس (دنیا کی آگ) کے مانند گرم ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7165]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا.
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوزناد کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر انہوں (معمر) نے کہا: ”وہ سب کے سب اس جیسی حرارت رکھتے ہیں“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7166]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَدْرُونَ مَا هَذَا؟، قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا، فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا "،
خلف بن خلیفہ نے کہا: ہمیں یزید بن کیسان نے ابوحازم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے کسی بہت وزنی چیز کے گرنے کی آواز سنی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیسی آواز تھی؟“ کہا: ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک پتھر تھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا، یہ اب اس میں گرا ہے، یہاں تک کہ اس کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7167]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: هَذَا وَقَعَ فِي أَسْفَلِهَا فَسَمِعْتُمْ وَجْبَتَهَا.
مروان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: ”یہ (اب) اس کے نچلے حصے میں گرا ہے اور تم نے اس کے گرنے کی آواز سنی ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7168]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: قَالَ قَتَادَةُ : سَمِعْتَ أَبَا نَضْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَى عُنُقِهِ ".
شیبان بن عبدالرحمان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: قتادہ نے کہا: میں نے ابونضرہ کو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان (جہنمیوں) میں سے کوئی ایسا ہو گا جس کے ٹخنوں تک آگ لپٹی ہو گی اور کوئی ایسا ہو گا جس کی کمر تک لپٹی ہو گی اور کوئی ایسا ہو گا جس کی گردن تک لپٹی ہو گی“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7169]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَى تَرْقُوَتِهِ "،
عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابونضرہ کو سنا، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی ایسا ہو گا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہو گی، ان میں سے کوئی ایسا ہو گا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہو گی اور کوئی ایسا ہو گا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہو گی اور کوئی ایسا ہو گا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7170]
|
|
|
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَجَعَلَ مَكَانَ حُجْزَتِهِ حِقْوَيْهِ.
روح نے کہا: ہمیں سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے (کمر پر ازار باندھنے کی جگہ کے لیے) ”حجرہ“ کے بجائے ”حقویہ“ کا لفظ استعمال کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7171]
|
|
|
13: باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتْ: هَذِهِ يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ، وَقَالَتْ: هَذِهِ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِهَذِهِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَرُبَّمَا قَالَ: أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَقَالَ لِهَذِهِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا ".
سفیان نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ اور جنت میں مباحثہ ہوا تو اس (دوزخ) نے کہا: میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے۔ اور اس (جنت) نے کہا: میرے اندر (اسباب دنیا کے اعتبار سے) ضعیف اور مسکین لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے اس (دوزخ) سے کہا: تم میرا عذاب ہو، تمھارے ذریعے سے میں جنھیں چاہوں گا عذاب دوں گا، یا شاید فرمایا: جنھیں چاہوں گا مبتلا کروں گا۔ اور اس (جنت) سے کہا: تو میری رحمت ہے اور تمھارے ذریعے سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور تم دونوں کے لیے وہ مقدار ہو گی جو اس کو بھر دے گی“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7172]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَحَاجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَعَجَزُهُمْ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمْ مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ "،
ورقاء نے مجھے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ اور جنت نے باہم (اپنی اپنی برتری کے) دلائل دیے، دوزخ نے کہا: مجھے جبر و تکبر کرنے والوں (کا ٹھکانہ ہونے) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ میرے اندر کمزور، خاک نشین، اور عاجز و لاچار لوگ ہی داخل ہوں گے؟ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں اپنے بندوں میں سے جن پر چاہوں گا تیرے ذریعے سے رحمت کروں گا اور دوزخ سے کہا: تو میرا عذاب ہے، میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا تمھارے ذریعے سے عذاب دوں گا اور تم دونوں کے لیے اتنی (مخلوق) ہے جس سے تم بھر جاؤ۔ رہی دوزخ تو وہ پوری طرح سے نہیں بھرے گی، چنانچہ وہ (اللہ) اس کے اوپر اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس! اس وقت وہ بھر جائے گی اور باہم سمٹ جائے گی“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7173]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ.
ایوب نے ابن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے (اپنی اپنی برتری کے) دلائل دیے“۔ پھر ابوزناد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7174]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ، قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ: إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِجْلَهُ، تَقُولُ: قَطْ قَطْ قَطْ فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا "،
معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے بہت سی احادیث بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے (اپنے اپنے بارے میں) ایک دوسرے کو دلائل دیے۔ دوزخ نے کہا: مجھے تکبر اور جبر کرنے والوں (کا ٹھکانہ ہونے) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے۔ جنت نے کہا: میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر لوگوں میں سے کمزور خاک نشین اور سیدھے سادے لوگ داخل ہوں گے؟ تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا: تو سراسر میری رحمت ہے، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت سے نوازوں گا اور دوزخ سے کہا: تو صرف اور صرف میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا عذاب میں ڈالوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اتنے بندے ہیں جن سے وہ بھر جائے، جہاں تک دوزخ کا تعلق ہے تو وہ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم (اس پر) رکھ دے گا تو وہ کہے گی: بس بس بس، اس وقت وہ بھر جائے گی، اس کے بعض حصے بعض کے ساتھ سمٹ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ (اس کے لیے) ایک مخلوق تیار کر دے گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7175]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى قَوْلِهِ وَلِكِلَيْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنَ الزِّيَادَةِ.
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے ایک دوسرے کے سامنے دلائل دیے“۔ پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: ”تم دونوں کو بھرنا میری ذمہ داری ہے“ تک بیان کیا اور اس کے بعد کے مزید الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7176]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ، تَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدَمَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ "،
شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخ مسلسل یہی کہتی رہے گی: کیا اور زیادہ ہے؟ یہاں تک کہ رب العزت تبارک و تعالیٰ اس میں اپنا قدم ٹکائے گا تو وہ کہے گی بس بس تیری عزت کی قسم! (میرا مطالبہ ختم ہو گیا) اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے سے سمٹ جائے گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7177]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارِ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ.
ابان بن یزید عطار نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شیبان کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7178]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ سورة ق آية 30، فَأَخْبَرَنَا عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَى فِيهَا، وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ، فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَتَقُولُ: قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا، فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ ".
عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں اس (اللہ) عزوجل کے اس فرمان: ﴿يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ﴾ (ق: 30) ”جس دن ہم جہنم سے کہیں کہ کیا تو بھر گئی اور وہ کہے گی: کیا اور زیادہ ہے؟“ کے بارے میں حدیث بیان کی، انہوں نے ہمیں سعید سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں مسلسل (لوگوں کو) ڈالا جاتا رہے گا اور وہ کہتی رہے گی: کیا اور ہے؟ یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پاؤں رکھ دے گا، تو اس کا بعض بعض کی طرف سمٹ جائے گا اور وہ کہے گی: تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم! بس بس اور جنت میں مسلسل گنجائش رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک خلقت پیدا کر دے گا اور انھیں جنت کی بچی ہوئی جگہ میں بسا دے گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7179]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَبْقَى مِنَ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى، ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا خَلْقًا مِمَّا يَشَاءُ ".
ثابت نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سے جس حصے کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ باقی بچ جائے وہ باقی بچ جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے، جہاں سے چاہے گا، مخلوق پیدا کر دے گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7180]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجَاءُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ " زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ " فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ " وَاتَّفَقَا فِي بَاقِي الْحَدِيثِ، فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، وَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، قَالَ: وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟، قَالَ: فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، وَيَقُولُونَ: نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لا يُؤْمِنُونَ سورة مريم آية 39 وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا "،
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن موت کو اس طرح لایا جائے گا جیسے وہ سیاہ و سفید مینڈھا ہو“۔ ابوکریب نے مزید یہ کہا: چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کر دیا جائے گا۔ باقی ماندہ حدیث (کے الفاظ) میں دونوں متفق ہیں۔ تو (اعلان کرنے والا پکار کر) کہے گا: اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟ تو وہ جھانکیں گے، دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ فرمایا: پھر کہا جائے گا: اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟ تو وہ جھانکیں گے، دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے۔ فرمایا: پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ فرمایا: پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! (اب) دوام ہی دوام ہے موت نہیں ہے اور اے جہنم والو! (اب) دوام ہی دوام ہے، موت نہیں ہے“۔ کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیت) پڑھی: ﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾ (مريم: 39) ”ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب معاملہ نپٹا دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے“۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7181]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَيْضًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا.
ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوصالح سے، اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل کر دیے جائیں گے۔ تو کہا جائے گا: اے اہل جنت!“ اس کے بعد ابومعاویہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا، مگر انہوں نے کہا: ”یہی (اسی کے مطابق) ہے اس (اللہ) عزوجل کا فرمان“۔ اور انہوں نے نہیں کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیت) پڑھی اور (اسی طرح) انہوں نے یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7182]
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، قَالَ عَبد بن حميد: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ، فَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ: لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ: لَا مَوْتَ كُلٌّ خَالِدٌ فِيمَا هُوَ فِيهِ ".
نافع نے ہمیں حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا۔ پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہو کر اعلان کرے گا: اے اہل جنت! اب موت نہیں ہے، اور اے اہل دوزخ! اب موت نہیں ہے ہر شخص جہاں ہے وہیں ہمیشہ رہنے والا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7183]
|
|
|
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَصَارَ أَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ، حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ: لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ: لَا مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ ".
ابن وہب نے کہا: مجھے عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے حدیث بیان کی کہ انھیں ان کے والد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ذبح کیا جائے گا اور اس کو جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے جنت والو! (اب) موت نہیں ہے (اور) اے جہنم والو! (اب) موت نہیں ہے۔ اہل جنت کو اپنی خوشی پر مزید خوشی حاصل ہو جائے گی اور جہنم والوں کو اپنے غم پر مزید غم لاحق ہو گا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7184]
|
|
|
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضِرْسُ الْكَافِرِ أَوْ نَابُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی داڑھ یا (فرمایا:) کافر کا کچلی دانت اُحد پہاڑ جتنا ہو جائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی چلنے کی مسافت کے برابر ہو گی“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7185]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ، قَالَ: " مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ فِي النَّارِ، مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ "، وَلَمْ يَذْكُرِ الْوَكِيعِيُّ فِي النَّارِ.
ابوکریب اور احمد بن عمر وکیعی نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے اسے مرفوع بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر فاصلہ ہو گا“۔ وکیعی نے ”جہنم میں“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7186]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ "، ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے معبدبن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاتا ہے، (مگر ایسا کہ) اگر (کسی معاملے میں) اللہ پر قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم پوری کر دے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اجذ، مال اکھٹا کرنے والا اسے خرچ نہ کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7187]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْر أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر اس میں کہا: ”کیا میں تمھاری رہنمائی نہ کروں؟“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7188]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيمٍ مُتَكَبِّرٍ ".
سفیان نے ہمیں معبدبن خالد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ ہر کمزور جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے، (لیکن ایسا کہ) اگر اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو وہ اسے پوری کر دے۔ کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ ہر مال اکھٹا کرنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا، بد اصل، متکبر“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7189]
|
|
|
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بسا اوقات پراگندہ بالوں والا جسے دروازے پر سے لوٹا دیا جاتا ہے، (ایسا ہوتا ہے کہ) اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو وہ (اللہ) اسے پوری کر دیتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7190]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ: " إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: " إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ". فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ: " إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابن نمیر نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، تو (حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے شخص کا ذکر فرمایا، پھر آپ نے پڑھا: ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ (الشمس: 12) ”جب اس (قبیلے) کا بدبخت ترین شخص اٹھا“ (آپ نے فرمایا: قبیلہ ثمود کا) سب سے طاقتور، شر پھیلانے والا، جس کو اپنی قوم کا پورا تحفظ حاصل تھا، جس طرح ابوزمعہ (اسود بن مطلب) ہے، (کونچیں کاٹنے کے لیے) اٹھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں عورتوں کا بھی ذکر کیا، (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو) ان کے بارے میں وعظ و نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو (اس طرح) کوڑے سے مارتا ہے“۔ ابوبکر کی روایت میں ہے: ”جس طرح لونڈی کو مارتا ہے“ اور ابوکریب کی روایت میں ہے: ”جس طرح غلام کو مارتا ہے۔ پھر شاید دن کے آخر میں اسی کے ساتھ ہم بستری کرے گا“۔ پھر ان (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) کو گوز پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی: ”تم میں سے کوئی کب تک اس کام پر ہنستا رہے گا جسے وہ خود کرتا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7191]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي كَعْبٍ هَؤُلَاءِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عروہ بن لحی بن قمعہ بن خندف، ان بنو کعب والوں کے جذع اعلیٰ کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7192]
|
|
|
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبد بن حميد: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ، فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَأَمَّا السَّائِبَةُ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ، فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السُّيُوبَ ".
ابن شہاب نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ کہتے ہیں: بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ جھوٹے خداؤں (بتوں) کے چڑھاوے کے لیے دوہنا بند کر دیا جاتا ہے، اس لیے کوئی شخص ان کو نہیں دوہتا تھا، اور سائبہ وہ جانور ہے جسے جھوٹے خداؤں (کی سواری کے لیے) کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس پر کوئی چیز تک نہیں لادی جاتی۔ اور ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے (بتوں کے نام پر) کھلا چھوڑا جانے والا جانور چھوڑا تھا“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7193]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جن کو (دنیوی زندگی میں) میں نے (خود) نہیں دیکھا۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پاس گایوں کی دموں کی طرح سے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور (دوسرے گروہ میں) وہ عورتیں ہیں جو لباس پہنے ہوئے (بھی) ننگی ہوں گی، دوسروں کو (گناہ پر) مائل کرنے والی، خود مائل ہونے والی ہوں گی، ان کے سر علاوہ بخت کی اونٹنیوں کے ایک طرف جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے۔ یہ عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اس کی خوشبو سونگھیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے (لمبے) فاصلے سے محسوس ہوتی ہو گی“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7194]
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَى قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ ".
زید بن حباب نے کہا: ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ اگر تمھیں لمبی مدت مل گئی تو تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے، جن کے ہاتھ میں گایوں کی دموں جیسے (کوڑے) ہوں گے، وہ اللہ کے غضب میں صبح گزاریں گے اور اللہ کی سخت ناراضگی میں شام بسر کریں گے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7195]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ، وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ ".
ابوعامر عقدی نے کہا: ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تمھیں طویل مدت مل گئی تو قریب ہے کہ تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے، جن کی صبح اللہ کی سخت ناراضی میں اور جن کی شام اللہ کی لعنت کے سائے میں ہو گی۔ ان کے ہاتھوں میں گایوں کی دموں کی مانند (کوڑے) ہوں گے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7196]
|
|
|
14: باب فَنَاءِ الدُّنْيَا وَبَيَانِ الْحَشْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:
باب: دنیا کے فنا اور حشر کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ "، وَأَشَارَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا، غَيْرَ يَحْيَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَخِي بَنِي فِهْرٍ، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، قَالَ وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِالْإِبْهَامِ.
عبداللہ بن ادریس، محمد بن نمیر، محمد بن بشیر، موسیٰ بن اعین اور ابواسامہ اور یحییٰ بن سعید سب نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں قیس نے حدیث سنائی: انہوں نے کہا: میں نے حضرت مستورد بن شداد قرشی فہری رضی اللہ عنہ سے سنا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! آخرت (کے مقابلے) میں دنیا کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی ایک انگلی سمندر میں ڈالے۔ یحییٰ نے اپنی انگشت شہادت کی طرف اشارہ کیا۔ پھر دیکھے وہ (انگلی) اس میں سے کیا (نکال کر) لاتی ہے“۔ یحییٰ (بن سعید قطان کی روایت) کے علاوہ باقی سب کی حدیث میں (صراحت سے) یہ الفاظ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اور حضرت مستورد بن شداد فہری رضی اللہ عنہ سے ابواسامہ کی حدیث میں بھی (یہی الفاظ ہیں) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ (ابواسامہ نے) اور اسماعیل (بن ابی خالد) نے انگوٹھے کے ساتھ اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7197]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ "،
زہیر بن حرب نے روایت کیا کہ یحییٰ بن سعید نے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا ”لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ اٹھائے جائیں گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! عورتیں اور مرد سب ایک ساتھ ہوں گے، ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا کہ کوئی ایک دوسرے کو دیکھے۔“ اور ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابو خالد احمر نے حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی روایت میں غرلا کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7198]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا.
ابو خالد احمر نے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی روایت میں ”بے ختنہ“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7199]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا "، وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ.
ابو بکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے روایت کی، اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی اور باقیوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: إنكم ملاقو الله مشاة حفاة عراة غرلا ”بے شک تم اللہ سے اس حال میں ملو گے کہ تم چل رہے ہو، ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ۔“ زہیر نے اپنی حدیث میں ”خطبہ دیتے“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7200]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بِمَوْعِظَةٍ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104، أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ، إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118، قَالَ: فَيُقَالُ لِي: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ "، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَمُعَاذ، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.
وکیع اور معاذ دونوں نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، نیز محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مغیرہ بن نعمان سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں بے لباس بے ختنہ اکٹھا کیا جائے گا۔ (قرآن مجید میں ہے): ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ (الأنبياء: 104) ’جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ یہ ہم پر (پختہ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں۔‘ یاد رکھو! مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنھیں لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور یاد رکھو! میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انھیں پکڑ کر بائیں (جہنم کی) طرف لے جایا جائے گا۔ میں کہوں گا: میرے رب! میرے ساتھی ہیں۔ تو کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (المائدة: 117-118) ’میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگہبان تھا۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے۔‘“ فرمایا: ”تو مجھ سے کہا جائے گا جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے۔“ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے: ”تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی باتیں نکالی تھیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7201]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ، رَاغِبِينَ رَاهِبِينً وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ، قَالُوا: وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) لوگوں کو تین طریقوں سے (اللہ کے سامنے) اکٹھا کیا جائے گا۔ (کچھ لوگ) خوف و رجا کے عالم میں ہوں گے اور (وہ لوگ جنھیں حاضری کے وقت بھی عزت نصیب ہو گی۔ حسب مراتب) وہ (افراد) ایک اونٹ پر (سوار) ہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر (سوار ہو کر میدان حشر میں آئیں گے) اور باقی سب لوگوں کو آگ (اپنے گھیرے میں) اکٹھا کر کے لائے گی۔ جہاں ان پر رات آئے گی، وہ (آگ) رات کو بھی ان کے ساتھ ہو گی، جہاں انھیں دوپہر ہو گی وہ دوپہر کو بھی ان کے ساتھ رہے گی، وہ جہاں صبح کریں گے وہ صبح کے وقت بھی ان کے ساتھ ہو گی، اور جہاں وہ لوگ شام کریں گے وہ شام کو بھی ان کے ساتھ ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7202]
|
|
|
15: باب فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللَّهُ عَلَى أَهْوَالِهَا:
باب: قیامت کے دن کا بیان اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی سختیوں سے ہماری مدد فرمائے (آمین)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنُونَ ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، قَالَ: " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: يَقُومُ النَّاسُ لَمْ يَذْكُرْ يَوْمَ "،
زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس آیت کی تفسیر) روایت کی: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (المطففين: 6) ”اس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اس طرح کھڑا ہو گا کہ اس کا پسینہ اس کے کانوں کے درمیان تک ہو گا۔“ اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (”ان میں سے کوئی“ کے بجائے) فرمایا: ”لوگ کھڑے ہوں گے۔“ انہوں نے (ابن مثنیٰ) نے (آیت میں) یوم (اس دن) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7203]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ , وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَصَالِحٍ، حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ.
موسیٰ بن عقبہ، ابن عون، امام مالک، ایوب اور صالح سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی، جو عبید اللہ نے نافع سے بیان کی ہے، البتہ موسیٰ بن عقبہ اور صالح کی روایت ہے: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص آدھے کانوں تک اپنے پسینے میں ڈوبا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7204]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا، وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ أَوْ إِلَى آذَانِهِمْ " يَشُكُّ ثَوْرٌ أَيَّهُمَا قَالَ.
عبدالعزیز بن محمد نے ثور سے، انہوں نے ابوالغیث سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً پسینہ، قیامت کے دن زمین میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے ستر گنا فاصلے تک چلا جائے گا اور لوگوں کے منہ یا ان کے کانوں تک پہنچا ہو گا۔“ ثور کو شک ہے کہ انہوں (ابوالغیث) نے دونوں میں سے کون سے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7205]
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ "، قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ أَمْ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ، قَالَ: " فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا "، قَالَ: وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ.
عبدالرحمٰن بن جابر سے روایت ہے، کہا: مجھے نیلم بن عامر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن سورج مخلوقات کے بہت نزدیک آ جائے گا حتی کہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا۔“ نیلم بن عامر نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ میل سے ان (مقداد رضی اللہ عنہ) کی مراد مسافت ہے یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں (ڈوبے) ہوں گے، ان میں سے کوئی اپنے دونوں ٹخنوں تک، کوئی اپنے دونوں گھٹنوں تک، کوئی اپنے دونوں کولہوں تک اور کوئی ایسا ہو گا جسے پسینے نے لگام ڈال رکھی ہو گی۔“ (مقداد رضی اللہ عنہ) کہا: اور (ایسا فرماتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7206]
|
|
|
16: باب الصِّفَاتِ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ:
باب: دنیا میں جنتی اور دوزخی لوگوں کی پہچان۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، وَابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: " أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ، فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ، إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ، قَالَ: وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ: مُقْسِطٌ، مُتَصَدِّقٌ، مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ، قَالَ: وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ، تَبَعًا لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ، وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ "، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو غَسَّانَ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ،
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار بن عثمان نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ ابوغسان اور ابن مثنیٰ کے ہیں، دونوں نے کہا: معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے اور انہوں نے حضرت عیاض بن حماد مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: ”سنو! میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے) ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا (اس کی قسمت میں لکھا) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا انہوں نے اسے ان کے لیے حرام کر دیا اور ان (بندوں) کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کے لیے میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی۔ اور اللہ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے (کچھ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور (مجھ سے) فرمایا: میں نے آپ کو اس لیے مبعوث کیا کہ میں آپ کی اور آپ کے ذریعے سے دوسروں کی آزمائش کروں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی دھو (کر مٹا) نہیں سکتا، آپ سوتے ہوئے بھی اس کی تلاوت کریں گے اور جاگتے ہوئے بھی اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو (ان کے معبودوں اور ان آباء و اجداد کے شرک اور گناہوں پر عار دلاتے ہوئے انھیں) جلاؤں، میں نے کہا: میرے رب وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کر دیں گے۔ تو (اللہ نے) فرمایا: آپ انھیں باہر نکالیں جس طرح انہوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرمان بردار ہیں ان کے ذریعے سے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: اہل جنت تین (طرح کے لوگ) ہیں، ایسا سلطنت والا جو عادل ہے، صدقہ کرنے والا ہے، اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ اور ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور وہ عفت شعار (برائیوں سے بچ کر چلنے والا) جو عیال دار ہے، (پھر بھی) سوال سے بچتا ہے۔“ فرمایا: ”اور اہل جہنم پانچ (طرح کے لوگ) ہیں، وہ کمزور جس کے پاس (برائی سے) روکنے والی (عقل، عفت، حیا، غیرت) کوئی چیز نہیں جو تم میں سے (برے کاموں میں دوسروں کے) پیچھے لگنے والے لوگ ہیں (حتی کہ) گھر والوں اور مال کے پیچھے بھی نہیں جاتے (ان کی بھی پروا نہیں کرتے) اور ایسا خائن جس کا کوئی بھی مفاد چاہے بہت معمولی ہو، (دوسروں کی نظروں سے) اوجھل ہوتا ہے تو وہ اس میں (ضرور) خیانت کرتا ہے۔ اور ایسا شخص جو صبح شام تمھارے اہل و عیال اور مال کے بارے میں تمھیں دھوکا دیتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا۔ ”اور بدطینت بد خلق۔“ اور ابوغسان نے اپنی حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا: ”آپ خرچ کریں تو عنقریب آپ پر خرچ کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7207]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ،
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی حدیث میں یہ بیان نہیں کیا: ”ہر مال جو میں نے بندے کو دیا، حلال ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7208]
|
|
|
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ يَحْيَى: قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ،
ہمیں یحییٰ بن سعید نے دستوائی (کپڑے بیچنے) والے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف سے اور انہوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں کہا: یحییٰ نے کہا: شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے کہا: انہوں (قتادہ) نے کہا: میں نے اس حدیث میں (جو بیان ہوا وہ خود) مطرف سے سنا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7209]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ الْحُسَيْنِ ، عَنْ مَطَرٍ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ وَزَادَ فِيهِ، وَإِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَبْغِ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: وَهُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، فَقُلْتُ: فَيَكُونُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَى عَلَى الْحَيِّ مَا بِهِ إِلَّا وَلِيدَتُهُمْ يَطَؤُهَا.
مطر نے کہا: مجھے قتادہ نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ سے جو قبیلہ مجاشع سے تھے، روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔“ اس کے بعد قتادہ سے ہشام کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی اور اس میں مزید یہ کہا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو، حتی کہ کوئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے۔“ انہوں نے اس حدیث میں کہا: وہ تم میں (برائی کے کاموں میں دوسروں کے) پیچھے لگنے والے ہیں، گھر والوں اور مال کے بھی متلاشی نہیں (کہ کما کر دوسروں سے مستغنی ہو جائیں)۔ تو میں (قتادہ) نے (مطرف سے) کہا: ابوعبداللہ تو (اب) یہی ہوا کرے گا؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ! میں نے جاہلیت کے زمانے میں انھیں دیکھا (ایسا ہوتا تھا) کہ ایک شخص پورے قبیلے کی بکریاں چراتا تھا۔ اسے ان کی ایک کنیز کے سوا کچھ نہیں ملتا تھا جس سے مجامعت کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7210]
|
|
|
17: باب عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ:
باب: مردے کو اس کا ٹھکانہ بتلائے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو ہر صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا اس کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت سے اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں سے (اس کا ٹھکانا اسے دکھایا جاتا ہے اور اس سے) کہا جاتا ہے: تمھارا ٹھکانا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے زندہ کر کے اس (ٹھکانے) تک لے جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7211]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو جنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہو تو دوزخ (اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے)“ کہا: پھر کہا جاتا ہے: یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھا کر لے جایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7212]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ، فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ، قَالَ: كَذَا كَانَ، يَقُولُ: الْجُرَيْرِيُّ، فَقَالَ: " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟، قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ؟، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ".
ابن علیہ نے کہا: ہمیں سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (ابونضرہ نے) کہا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہو کر نہیں سنی، بلکہ مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا (دیکھا تو) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں (ابن علیہ نے) کہا: جریری اسی طرح کہا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں، آپ نے فرمایا: ”یہ لوگ کب مرے تھے؟“ اس نے کہا: شرک (کے عالم) میں مرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (اپنے مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب (کی آوازوں) کو میں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنا دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا: ”آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ سب نے کہا: ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب النار﴾۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب القبر﴾۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تمام) فتنوں سے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو۔“ سب نے کہا: ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من الفتن ما ظهر منها وما بطن﴾۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔“ سب نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من فتنة الدجال﴾۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7213]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو عذاب قبر (کی آوازیں) سنوائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7214]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: " يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا ".
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لے گئے آپ نے ایک آواز سنی تو فرمایا: ”یہود ہیں انھیں قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7215]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، قَالَ: يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، قَالَ: فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا "، قَالَ قَتَادَةُ: وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ.
شیبان بن عبدالرحمٰن نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ (بندہ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تم اس آدمی کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتے تھے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک مومن ہے تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ فرمایا: ”تو اس سے کہا جائے گا: تم دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمھیں جنت میں ایک ٹھکانا دے دیا ہے۔“ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا۔“ قتادہ نے کہا: اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں ستر ہاتھ وسعت کر دی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں تروتازہ نعمتیں بھر دی جاتی ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7216]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا "،
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو لوگوں کے واپس جاتے وقت وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7217]
|
|
|
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ.
عبدالوہاب بن عطاء نے سعید (بن ابی عروبہ) سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی رخ موڑ کر چل پڑتے ہیں۔“ اس کے بعد قتادہ سے شیبان کی بیان کردہ روایت کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7218]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ، فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 ".
سعد بن عبیدہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو پختہ قول (کلمہ طیبہ کی حقیقی شہادت) کے ذریعے سے (حق پر) ثابت قدم رکھتا ہے۔“ فرمایا: ”یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس (مرنے والے) سے کہا جاتا ہے: تمھارا رب کون ہے؟ وہ (مومن) کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہی قول عزوجل ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27) (سے مراد) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7219]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ ".
خیثمہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے (اس آیت کے بارے میں) روایت کی: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27) ”اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں پختہ قول پر ثابت قدم رکھتا ہے۔“ کہا: یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7220]
|
|
|
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا، وَذَكَرَ الْمِسْكَ، قَالَ: وَيَقُولُ: أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ، قَالَ: وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ، قَالَ حَمَّادٌ، وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا، وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، قَالَ: فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى أَنْفِهِ هَكَذَا.
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں بدیل نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ”جب مومن کی روح نکل جاتی ہے تو وہ فرشتے اس (روح) کو لیتے ہیں اور اسے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں۔“ حماد نے کہا: انہوں نے اس کی خوشبو کا ذکر کیا اور کستوری کی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان والے کہتے ہیں: یہ ایک پاکیزہ روح ہے زمین والوں کی طرف سے آئی ہے (اے روح مومن!) تجھ پر اور اس جسم پر جسے تو نے آباد کیے رکھا اللہ کی رحمت ہو۔ چنانچہ اسے اس کے رب عزوجل کے پاس لے جایا جاتا ہے پھر وہ فرماتا ہے: اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے (عالی شان ٹھکانے پر) لے جاؤ۔“ فرمایا: ”اور کافر جب اس کی روح نکلتی ہے۔“ حماد نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بدبو اور (اس پر کی جانے والی) لعنتوں کا ذکر کیا۔ ”اور آسمان والے کہتے ہیں: گندی روح ہے زمین کی طرف سے آئی ہے“ فرمایا: ”تو کہا جاتا ہے اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے (برے ٹھکانے) پر لے جاؤ۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر جو آپ کے جسم مبارک پر تھی اس طرح موڑ کر اپنی ناک پر رکھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7221]
|
|
|
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : كُنْتُ مَعَ عُمَرَ. ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ، فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ أَمَا تَرَاهُ، فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ، قَالَ: يَقُولُ عُمَرُ : سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ، يَقُولُ: هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا؟، قَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا ".
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو ہم نے پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کی، میں تیز نظر انسان تھا، میں نے چاند کو دیکھ لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7222]
|
|
|
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ، فَقَالَ: يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا "، فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّى يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا؟، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا "، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ "،
حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک بدر کے مقتولین کو پڑا رہنے دیا۔ پھر آپ گئے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ان کو پکار کر فرمایا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے وہ وعدہ سچا نہیں پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا!“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا تو عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! یہ لوگ کیسے سنیں گے اور کہاں سے جواب دیں گے جبکہ وہ تو لاشیں بن چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس بات کو جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ان کی نسبت زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔“ پھر آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں گھسیٹا گیا اور بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7223]
|
|
|
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَظَهَرَ عَلَيْهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا، وَفِي حَدِيثِ رَوْحٍ: بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَأُلْقُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ.
عبدالاعلی اور روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے (سن کر) بیان کیا، انہوں نے کہا: جب بدر کا دن تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر فتح حاصل فرمائی تو آپ نے قریش کے بڑے سرداروں میں سے بیس افراد کے بارے میں حکم دیا۔ اور روح (بن عبادہ) کی حدیث میں ہے کہ چوبیس افراد کے بارے میں (حکم دیا) تو انھیں بدر کے پتھروں سے بنے ہوئے کنوؤں میں سے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، پھر انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ثابت کی روایت کردہ حدیث کے مطابق حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7224]
|
|
|
18: باب إِثْبَاتِ الْحِسَابِ:
باب: حساب کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ "، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، فَقَالَ: " لَيْسَ ذَاكِ الْحِسَابُ إِنَّمَا ذَاكِ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ "،
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا ہو گیا۔“ میں نے عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ (الانشقاق: 8) ”عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حساب نہیں وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے، جس سے قیامت کے دن حساب کی پوچھ گچھ ہوئی اسے عذاب (میں ڈال) دیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7225]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حماد بن زید نے کہا: ہمیں ایوب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7226]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ إِلَّا هَلَكَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، قَالَ: ذَاكِ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ "،
ابویونس قشیری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن ابی ملیکہ نے قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا بھی حساب کتاب شروع ہو گیا وہ ہلاک ہو گیا۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ (الانشقاق: 8) ”آسان حساب ہوگا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے لیکن جس سے محاسبے میں پوچھ گچھ شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7227]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ.
عثمان بن اسود نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے حساب میں پوچھ گچھ شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ پھر ابویونس کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7228]
|
|
|
19: باب الأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ تَعَالَى عِنْدَ الْمَوْتِ:
باب: موت کے وقت اللہ جل جلالہ کے ساتھ نیک گمان رکھنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِثَلَاثٍ، يَقُولُ: " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ "،
یحییٰ بن زکریا نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے ہر شخص کو اسی حالت میں موت آئے کہ وہ اللہ کے متعلق حسن ظن رکھتا ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7229]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
جریر، ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7230]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، يَقُولُ: " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کسی پر بھی موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ عزوجل کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7231]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ "،
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر شخص کو (ایمان اور امید کی) اسی کیفیت میں اٹھایا جائے گا جس پر اس کو موت آئی تھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7232]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند روایت کی اور کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے“ اور یہ نہیں کہا: میں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) سنا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7233]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ ".
حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے تو ہر شخص پر جو ان میں تھا، عذاب آتا ہے، اس کے بعد وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7234]
|
|