صحيح مسلم حدیث نمبر: 7221
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2872
📖 صحيح مسلم باب:53 حدیث نمبر : 90
Sahih Muslim 7221
کتاب #51: جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
17: باب عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ:
باب: مردے کو اس کا ٹھکانہ بتلائے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا، وَذَكَرَ الْمِسْكَ، قَالَ: وَيَقُولُ: أَهْلُ السَّمَاءِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تَعْمُرِينَهُ، فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ، قَالَ: وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ، قَالَ حَمَّادٌ، وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا، وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، قَالَ: فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى أَنْفِهِ هَكَذَا.
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں بدیل نے عبد اللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : "" جب مومن کی روح نکل جاتی ہے تو وہ فرشتے اس ( روح ) کو لیتے ہیں اور اسے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں ۔ "" حماد نے کہا : انھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر کیا اور کستوری کی بات کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آسمان والے کہتے ہیں ۔ یہ ایک پاکیزہ روح ہے زمین والوں کی طرف سے آئی ہے ( اے روح مومن! ) تجھ پر اور اس جسم پر جسے تونے آباد کیے رکھا اللہ کی رحمت ہو ۔ چنانچہ اسے اس کے رب عزوجل کے پاس لے جایا جاتا ہے پھر وہ فرماتا ہے ۔ اسے مقررشدہ آخری مدت تک کے لیے ( عالی شان ٹھکانے پر ) لے جاؤ ۔ "" فرمایا : "" اور کافرجب اس کی روح نکلتی ہے ۔ حماد نے کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بدبو اور ( اس پر کی جانے والی ) لعنتوں کا ذکر کیا ۔ اور آسمان والے کہتے ہیں ۔ گندی روح ہے زمین کی طرف سے آئی ہے فرمایا : تو کہاجاتا ہے اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے ( برےٹھکانے ) پر لے جاؤ ۔ "" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر جو آپ کے جسم مبارک پر تھی اس طرح موڑ کر اپنی ناک پر رکھی ۔