صحيح مسلم حدیث نمبر: 7191
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2855
📖 صحيح مسلم باب:53 حدیث نمبر : 60
Sahih Muslim 7191
کتاب #51: جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
13: باب النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا، فَقَالَ: " إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ "، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: " إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ ". فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ: " إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ ".
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن نمیر کےنے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو ( حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے شخص کا ذکر فرمایا ، پھر آپ نے پڑھا : " جب اس ( قبیلے ) کابدبخت ترین شخص اٹھا " ( آپ نے فرمایا : قبیلہ ثمود کا ) سب سے طاقتور ، شر پھیلانے والا ، جس کو ا پنی قوم کا پورا تحفظ حاصل تھا ، جس طرح ابوزمعہ ( اسود بن مطلب ) ہے ، ( کونچیں کاٹنے کے لئے ) اٹھا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں عورتوں کا بھی ذکر کیا ، ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ) ان کے بارے میں وعظ ونصیحت فرمائی ، پھر فرمایا؛ " کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو ( اس طرح ) کوڑے سے مارتا ہے " ابو بکر کی روایت میں ہے : " جس طرح لونڈی کو مارتا ہے " اور ابو کریب کی روایت میں ہے؛ " جس طرح غلام کو مارتا ہے ۔ پھر شاید دن کے آخر میں اسی کےساتھ ہم بستری کرے گا ۔ " پھران ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو گوز پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی : " تم میں سے کوئی کب تک اس کام پر ہنستا رہے گا جسے وہ خود کرتا ہے ۔