صحيح مسلم حدیث نمبر: 7149
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2834.2
Sahih Muslim 7149
کتاب #51: جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ ".
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی“۔ اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی، الفاظ قتیبہ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں جریر نے عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی۔ جو ان کے (فوراً) بعد جائیں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ روشن چمکتے ہوئے ستارے کی شکل میں ہوں گے، انھیں پیشاب کی حاجت ہو گی نہ پاخانے کی، نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، پسینہ کستوری کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں معطر عود (سلگتا) ہو گا، ان کی بیویاں غزال چشم حوریں ہوں گی، ان سب کے اخلاق و عادات ایک ہی آدمی کے خلق کے مطابق ہوں گے۔ اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل پر، (قامت میں) آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ساٹھ ہاتھ کے برابر“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7149]