صحيح مسلم حدیث نمبر: 7062
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2795.01
📖 صحيح مسلم باب:52 حدیث نمبر : 18
Sahih Muslim 7062
کتاب #50م: قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
4: باب سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} الآيَةَ:
باب: یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو وحی الٰہی کے مطابق جواب۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " كَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي: لَنْ أَقْضِيَكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي لَنْ أَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى تَمُوتَ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ، فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ، قَالَ وَكِيعٌ: كَذَا، قَالَ الْأَعْمَشُ: قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا إِلَى قَوْلِهِ وَيَأْتِينَا فَرْدًا سورة مريم آية 77 - 80 "،
وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو ضحیٰ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت خباب ( بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا ۔ میں اس سے قرض کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا : میں اس وقت تک تمھیں ادائیگی نہیں کروں گا ۔ یہاں تک کہ تم نعوذ باللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کفر کرو ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : تم مر کردوبارہ زندہ ہو جاؤ گے ۔ پھر بھی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہیں کروں گا ۔ اس نے کہا : اور میں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟تو ( اس وقت ) جب میں دوبارہ مال اور اولاد کے پاس پہنچ جاؤں گاتو تمھیں ادائیگی کردوں گا ۔ وکیع نے کہا : اعمش نے اسی طرح کہا : انھوں نے کہا : اس پریہ آیت نازل ہوئی : "" کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات سے کفر کیا اور کہا : مجھے ( اپنا ) مال اور ( اپنی ) اولاد ضروری دی جائے گی "" سے لے کر اس ( اللہ ) کے فرمان "" اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا "" تک ۔