صحيح مسلم حدیث نمبر: 7059
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2794
Sahih Muslim 7059
کتاب #50م: قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ، " إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَقَالُوا: مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ لَا يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ، فَقَالُوا: سَلُوهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ، فَسَأَلَهُ عَنِ الرُّوحِ، قَالَ: فَأَسْكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، قَالَ: فَقُمْتُ مَكَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ، قَالَ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 "،
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابراہیم نے علقمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جا رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لے (کر چل) رہے تھے کہ آپ کا یہود کے چند لوگوں کے قریب سے گزر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان سے روح کے بارے میں سوال کرو پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ان کے بارے میں تمہیں شک کس بات کا ہے؟ ایسا نہ ہو کہ وہ آگے سے ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں بری لگے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر آپ کے پاس آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تھوڑی دیر کے لیے) خاموش ہو گئے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ کہا میں بھی اپنی جگہ پر (رک کر) کھڑا ہو گیا۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ پڑھتے ہوئے) فرمایا: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ”یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم (انسانوں) کو بہت کم علم دیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 7059]