صحيح مسلم حدیث نمبر: 7110
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2815
Sahih Muslim 7110
کتاب #50م: قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا، قَالَتْ: فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ، فَرَأَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ؟ "، فَقُلْتُ: وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ؟ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ ".
عروہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر باہر نکل گئے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: مجھے آپ کے معاملے میں شدید غیرت محسوس ہوئی، پھر آپ واپس آئے اور دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں (شدید غصے کے عالم میں ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تمھیں کیا ہوا ہے، کیا تم غیرت میں مبتلا ہو گئی ہو؟“ میں نے کہا: مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ جیسی عورت کو (جو ایک عظیم خاتون ہو) آپ جیسے مرد پر (جو ایک سے بڑھ کر محبوب ہو) غیرت نہ آئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمھارے پاس تمھارا شیطان آیا تھا (اور اس نے تمھیں شک میں مبتلا کیا)؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ شیطان بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ میں نے کہا: ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں لیکن میرے رب نے اس پر (قابوپانے میں) میری مدد فرمائی اور وہ اسلام لے آیا ہے“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7110]