صحيح مسلم حدیث نمبر: 7098
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2811
Sahih Muslim 7098
کتاب #50م: قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ " فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: فَقَالَ: " هِيَ النَّخْلَةُ "، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ، قَالَ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ هِيَ النَّخْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا ".
عبداللہ بن دینار نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سا درخت ہے؟“ تو لوگوں نے جنگل کے مختلف درختوں کی طرف دھیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ لیکن میں جھجک گیا پھر وہ (لوگ) کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیے کہ وہ کون سا (درخت) ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے“۔ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میں نے یہ (بات اپنے والد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے کہا: اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو میرے نزدیک یہ (جواب) فلاں فلاں (سرخ اونٹوں) سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7098]