📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 7067

Sahih Muslim Hadith 7067 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #50م 📁 قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال (كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ) ← 🏷️ باب: دھوئیں کے بیان میں۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 7067 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2798.1 Sahih Muslim 7067
کتاب #50م: قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
7: باب الدُّخَانِ:
🏷️ باب: دھوئیں کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10، قَالَ: يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ، فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ، أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا، فَقَالَ: لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، قَالَ: فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، قَالَ: عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ {11} سورة الدخان آية 10-11 يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16، قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ ".
ابومعاویہ، وکیع، اور جریر نے اعمش سے، انہوں نے مسلم بن صحیح سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آ رہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ (قرآن کی) آیت: يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ”جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا“ کی تفسیر کرتا ہے، کہتا ہے: ”قیامت کے دن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت (جس میں سانس لینا مشکل ہو جاتی ہے) درپیش ہوگی، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بات انسان کے فہم (دین) کا حصہ ہے۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اس (دھوئیں) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام (کے زمانے والے) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعا کی۔ انہیں قحط اور تنگ دستی نے آ لیا یہاں تک کہ (ان میں سے) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں سا چھایا ہوا نظر آتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے (بھوک کی شدت سے) ہڈیاں تک کھائیں، چنانچہ (ان میں سے) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ (قبیلہ) مضر کے لیے بخشش طلب فرمائیں۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مُضَرَ؟ إِنَّكَ جَرِيءٌ ”مضر کے لیے؟ تو بہت جرأت والا ہے (کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود درخواست کر رہا ہے کہ میں تمہارے لیے اللہ سے دعا کروں)“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر بھی) ان کے حق میں دعا فرما دی۔ اس پر اللہ عزوجل نے (آیت) نازل فرمائی: إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ ”ہم (تم سے) تھوڑے عرصے کے لیے عذاب ہٹا دیتے ہیں۔ تم (پھر کفر ہی میں) لوٹنے والے ہو۔“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ان پر بارش برسائی گئی۔ انہیں خوشحالی مل گئی، کہا: (تو پھر) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ حصہ) نازل فرمایا: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ”آپ انتظار کیجیے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ دردناک عذاب ہوگا۔“ (پھر یہ آیت نازل فرمائی) يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ”جس دن ہم بڑی گرفت میں لیں گے، ہم انتقام لینے والے ہوں گے۔“ کہا: یعنی جنگ بدر کو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7067]
صحيح مسلم • حدیث #7067
7065 7066 7067 7068 7069

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#7066 أخبرنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَ...
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صحیح) سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ...
#7068 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، ع...
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق...
#7069 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَا...
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7069]
#7070 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُ...
محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے حسن عرفی سے، انہوں نے یحییٰ بن جزار سے، انہوں نے ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ