📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم

Sahih Muslim (صحيح مسلم)
📁 قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال (كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ) 🏷️ باب: باب: دھوئیں کے بیان میں۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 7067 🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2798.02 📖 صحيح مسلم باب:52 حدیث نمبر : 23 Sahih Muslim 7067
کتاب #50م: قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
7: باب الدُّخَانِ:
باب: دھوئیں کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10، قَالَ: يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ، فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ، أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا، فَقَالَ: لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، قَالَ: فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، قَالَ: عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ {11} سورة الدخان آية 10-11 يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16، قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ ".
ابو معاویہ ، وکیع ، اور جریر نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم بن صحیح سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ ( قرآن کی ) آیت : " جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا " کی تفسیر کرتا ہے ، کہتا ہے : " قیامت کےدن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا ، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت ( جس میں سانس لینی مشکل ہوجاتی ہے ) درپیش ہوگی ، توحضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ یہ بات انسان کے فہم ( دین ) کاحصہ ہے ۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے : اللہ زیادہ جاننے والاہے ۔ اس ( دھوئیں ) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام ( کے زمانےوالے ) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعاکی ۔ انھیں قحط اور تنگ دستی نے آلیا یہاں تک کہ ( ان میں سے ) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں ساچھایا ہوا نظرآتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے ( بھوک کی شدت سے ) ہڈیاں تک کھائیں ، چنانچہ ( ان میں سے ) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ( قبیلہ ) مضر کے لئے بخشش طلب فرمائیں ۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں ، تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مضر کے لئے؟تو بہت جراءت والا ہے ( کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود د رخواست کررہا ہے کہ میں تمہارے لئے اللہ سے دعا کروں ) " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر بھی ) ان کے حق میں دعا فرمادی ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( آیت ) نازل فرمائی : " ہم ( تم سے ) تھوڑے عرصے کے لئے عذاب ہٹادیتے ہیں ۔ تم ( پھر کفر ہی میں ) لوٹنے والا ہو ۔ " ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان پر بارش برسائی گئی ۔ انھیں خوشحالی مل گئی ، کہا : ( تو پھر ) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ حصہ ) نازل فرمایا : " آپ انتظار کیجئے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا ۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا ، یہ دردناک عذاب ہوگا ۔ ( پھر یہ آیت نازل فرمائی ) جس دن ہم بڑ ی گرفت میں لیں گے ، ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ " کہا : یعنی جنگ بدر کو ۔
صحيح مسلم • حدیث #7067
7065 7066 7067 7068 7069

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#7066 أخبرنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَ...
منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صحیح ) سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعو...
#7068 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، ع...
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو...
#7069 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَا...
وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔...
#7070 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُ...
محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے عزرۃ سے انھوں نے حسن عرفی سے ، انھوں نے یحییٰ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ