صحيح مسلم حدیث نمبر: 7066
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2798
Sahih Muslim 7066
کتاب #50م: قیامت اور جنت اور جہنم کے احوال
أخبرنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ، فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ: يَا أَيَّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ، أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ "، قَالَ: فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجُوعِ، وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ أَحَدُهُمْ، فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ: إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ {11} سورة الدخان آية 10-11 إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 قَالَ أَفَيُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16 فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ ".
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صحیح) سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان (اپنے بستر یا بچھونے پر) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابوعبدالرحمان! ابواب کندہ (کوفہ کا ایک محلہ) میں ایک قصہ گو (واعظ) آیا ہوا ہے، وہ وعظ کر رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی (اللہ کی) نشانی آئے گی اور (یہ دھواں) کافروں کی روحیں قبض کر لے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے، لوگو! اللہ سے ڈرو، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتا ہو اور جو نہیں جانتا، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ بے شک وہ (اللہ تعالیٰ) تم میں سے اس کو (بھی) زیادہ جاننے والا ہے۔ جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا، یہ کہتا ہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ”کہہ دیجیے: میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: اَللَّهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام ”اے اللہ! (ان پر) یوسف علیہ السلام کے سات سالوں جیسے سات سال (بھیج دے۔)“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو انہیں (قحط کے) ایک سال نے آ لیا جس نے ہر چیز کا صاف کرایا، یہاں تک کہ ان (مشرک) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی۔ چنانچہ ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ آئے ہیں، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، آپ کی قوم (قحط اور بھوک سے) ہلاک ہو رہی ہے۔ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سے لے کر إِنَّكُمْ عَائِدُونَ تک ”آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا۔ (اور وہ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہوگا۔“ سے لے کر ”بے شک تم (کفر میں) لوٹ جانے والے ہو۔“ تک۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: کیا آخرت کا عذاب ہٹایا جائے گا؟ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ”جس دن ہم تم پر بڑی گرفت کریں گے (اس دن) ہم انتقام لینے والے ہوں گے۔“ وہ گرفت بدر کے دن تھی۔ اب تک دھوئیں کی نشانی گرفت اور چمٹ جانے والا عذاب (بدر میں شکست فاش اور قتل) اور روم (کی فتح) کی نشانی (سب) آکر گذر چکی ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 7066]