📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام 54 کتب ↗

كِتَاب السَّلَامِ

کتاب #39: سلامتی اور صحت کا بیان

کتاب کے ابواب • حدیث: 5646 تا 5861 • کل احادیث: 216
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ:
باب: سوار پیدل کو سلام کرے اور تھوڑے آدمی بہت آدمیوں کو سلام کریں۔
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ".
عبدالرحمن بن زید کے آزاد کردہ غلام ثابت نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیادہ کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5646]
2: باب مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلاَمِ:
باب: راہ میں بیٹھنے کا حق یہ ہے کہ سلام کا جواب دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ؟ " فَقُلْنَا: إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ، قَالَ: " إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم مکانوں کے سامنے کی کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا راستوں کی خالی جگہوں پر مجلسوں سے کیا سروکار؟ راستوں کی مجالس سے اجتناب کرو۔“ ہم نے کہا: ہم ایسی باتوں کے لیے بیٹھے ہیں جن میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں، ہم ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت کے لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اگر نہیں (رہ سکتے) تو ان (جگہوں) کے حق ادا کرو (جو یہ ہیں): آنکھ نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا اور اچھی گفتگو کرنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5647]
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ "، قَالُوا: وَمَا حَقُّهُ؟، قَالَ: " غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ".
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے (راستے کی) مجلسوں کے بغیر جن میں (بیٹھ کر) ہم باتیں کرتے ہیں، کوئی چارہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجالس کے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا حق ادا کرو۔“ لوگوں نے کہا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیزوں کو (راستے سے) ہٹانا، سلام کا جواب دینا، اچھائی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5648]
عبدالعزیز بن محمد مدنی اور ہشام بن سعد دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5649]
3: باب مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ رَدُّ السَّلاَمِ:
باب: مسلمان کا حق یہ بھی ہے سلام کا جواب دینا۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ ". ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ "، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔“ نیز عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے (ابن شہاب) زہری سے خبر دی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے لیے اس کے بھائی پر پانچ چیزیں واجب ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا۔“ عبدالرزاق نے کہا: معمر اس حدیث (کی سند) میں ارسال کرتے تھے (تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے) اور کبھی اسے (سعید) بن مسیب اور آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے (متصل مرفوع) روایت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5650]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ ".
اسماعیل بن جعفر نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5651]
4: باب النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلاَمِ وَكَيْفَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ:
باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ ".
عبیداللہ بن ابی بکر نے اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تم کو سلام کریں تو تم ان کے جواب میں وعليكم اور تم پر، کہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5652]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟، قَالَ: قُولُوا: وَعَلَيْكُمْ ".
شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ وعليكم اور تم پر، کہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5653]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي بْنِ يَحْيَي، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَر ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ ".
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص اَلسَامُ عَلَيكُم تم پر موت نازل ہو، کہتا ہے۔“ (اس پر) تم عَلَيكُم تجھ پر ہو کہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5654]
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقُولُوا وَعَلَيْكَ.
سفیان نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے: ”تو تم کہو: وعليكم تم پر ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5655]
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ "، قَالَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟، قَالَ: " قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے اجازت طلب کی اور انہوں نے کہا اَلسَامُ عَلَيكُم آپ پر موت ہو! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ تم پر موت ہو اور لعنت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے وَعَلَيكُم اور تم پر ہو، کہہ دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5656]
وحدثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ.
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، دونوں کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے عليكم کہہ دیا تھا۔“ اور انہوں نے اس کے ساتھ واؤ (اور) نہیں لگایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5657]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ: " لَا تَكُونِي فَاحِشَةً "، فَقَالَتْ: مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم سے انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لوگ آئے، انہوں نے آ کر کہا: اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم ابوالقاسم! آپ پر موت ہو، آپ نے فرمایا: ”وَعَلَیکُم (تم لوگوں پر ہو!)“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! زبان بری نہ کرو۔“ انہوں نے (عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: آپ نے نہیں سنا، انہوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا، میں نے کہا: تم پر ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5658]
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ، فَسَبَّتْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ "، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی (انہوں نے سلام کے بجائے سام کا لفظ بولا تھا) اور انہیں برا بھلا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! بس کرو، اللہ تعالیٰ برائی اور اسے اپنانے کو پسند نہیں فرماتا۔“ اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ نازل فرمائی: ”اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔“ آیت کے آخر تک (اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے دوزخ کافی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکانا ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5659]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا ".
ابوزبیر نے کہا: انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہا اَلسَامُ عَلَيكَ يا أَبَا الْقَاسِم ابوالقاسم! آپ پر موت ہو! اس پر آپ نے فرمایا: ”تم پر ہو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آگئی تھیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا، جو انہوں نے کہا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں! میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہے اور ان کے خلاف ہماری دعا قبول ہوتی ہے اور ہمارے خلاف ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5660]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ ".
عبدالعزیز دراوردی نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کہنے میں ابتدا نہ کرو اور جب تم ان میں سے کسی کو راستے میں ملو (تو بجائے اس کے وہ یہ کام کرے) تم اسے راستے کے تنگ حصے کی طرف جانے پر مجبور کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5661]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، إِذَا لَقِيتُمْ الْيَهُودَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال: فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ.
محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی۔ ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی، زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی، ان سب (شعبہ، سفیان اور جریر) نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ وکیع کی حدیث میں ہے، ”جب تم یہود سے ملو۔“ شعبہ سے ابن جعفر کی روایت کردہ حدیث میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا۔ اور جریر کی روایت میں ہے: ”جب تم ان لوگوں سے ملو،“ اور مشرکوں میں سے کسی ایک (گروہ) کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5662]
5: باب اسْتِحْبَابِ السَّلاَمِ عَلَى الصِّبْيَانِ:
باب: بچوں پر سلام کرنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں ہشیم نے سیار سے خبر دی، انہوں نے ثابت بنانی سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (انصار) کے لڑکوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5663]
وحدثينيه إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
اسماعیل بن سالم نے کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی کہا: ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ خبر دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5664]
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، قال: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَدَّثَ ثَابِتٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ".
شعبہ نے سیار سے روایت کی، کہا: میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا وہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، پھر ثابت نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کو سلام کیا۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5665]
6: باب جَوَازِ جَعْلِ الإِذْنِ رَفْعَ حِجَابٍ أَوْ نَحْوَهُ مِنَ الْعَلاَمَاتِ:
باب: یہ بھی اجازت مانگنے کی ایک شکل ہے کہ پردہ اٹھائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يقول: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ ".
عبدالواحد بن زیاد نے کہا: ہمیں حسن بن عبیداللہ نے حدیث بیان کی۔ کہا: ہمیں ابراہیم بن سوید نے حدیث سنائی کہا: میں نے عبدالرحمن بن یزید سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارے لیے میرے پاس آنے کی یہی اجازت ہے کہ حجاب اٹھا دیا جائے اور تم میری راز کی بات سن لو، (یہ اجازت اس وقت تک ہے) حتی کہ میں تمہیں روک دوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5666]
عبداللہ بن ادریس نے حسن بن عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5667]
7: باب إِبَاحَةُ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الإِنْسَانِ:
باب: عورتوں کو ضروری حاجت کے لیے باہر نکلنا درست ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ يَا سَوْدَةُ: وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ؟ قَالَتْ: فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم في بيتي، وإنه ليتعشى وفي يده عرق فدخلت، فقالت: يا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَر ُ كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ: فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ، وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي الْبَرَازَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: پردہ ہم پر لاگو ہو جانے کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جسامت میں بڑی تھیں، جسمانی طور پر عورتوں سے اونچی (نظر آتی) تھیں۔ جو شخص انہیں جانتا ہو (پردے کے باوجود) اس کے لیے مخفی نہیں رہتی تھی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر کہا: سودہ! اللہ کی قسم! آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لیے دیکھ لیجیے آپ کیسے باہر نکلا کریں گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا (یہ سنتے ہی) الٹے پاؤں لوٹ آئیں اور (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ آپ کے دست مبارک میں گوشت والی ایک ہڈی تھی وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں باہر نکلی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس طرح کہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی، پھر آپ سے وحی کی کیفیت زائل ہو گئی، ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی، آپ نے اسے رکھا نہیں تھا، آپ نے فرمایا: ”تم سب (امہات المومنین) کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم ضرورت کے لیے باہر جا سکتی ہو۔“ ابوبکر (ابن ابی شیبہ) کی روایت میں ہے: ”ان کا جسم عورتوں سے اونچا تھا۔“ ابوبکر نے اپنی حدیث (کی سند) میں یہ اضافہ کیا: تو ہشام نے کہا: آپ کا مقصود قضائے حاجت کے لیے جانے سے تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5668]
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: وَكَانَتِ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا، قَالَ: وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى.
ابن نمیر نے کہا: ہشام نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: وہ ایسی خاتون تھیں کہ ان کا جسم لوگوں سے اونچا (نظر آتا) تھا۔ (یہ بھی) کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5669]
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
علی بن مسہر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5670]
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَح، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْجُبْ نِسَاءَكَ، فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً، فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ ".
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج جب رات کو قضائے حاجت کے لیے باہر نکلتیں تو ”المناصع“ کی طرف جاتی تھیں، وہ دور ایک کھلی، بڑی جگہ ہے۔ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کرتے رہتے تھے کہ آپ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی حکمت کی بنا پر) ایسا نہیں کرتے تھے، پھر ایک رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عشاء کے وقت (قضائے حاجت کے لیے) باہر نکلیں، وہ دراز قد خاتون تھیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس حرص میں کہ حجاب نازل ہو جائے، پکار کر ان سے کہا: سودہ! ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے حجاب نازل فرما دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5671]
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أبى عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5672]
8: باب تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا:
باب: اجنبی عورت سے تنہائی کرنا اور اس کے پاس جانا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ حُجْرٍ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! کوئی شخص کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات کو نہ رہے، الا یہ کہ اس کا خاوند ہو یا محرم (غیر شادی شدہ عورت کے پاس رہنا اور زیادہ سختی سے ممنوع ہے۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5673]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ، قَالَ: " الْحَمْوُ الْمَوْتُ ".
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (اجنبی) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو۔“ انصار میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیور/جیٹھ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیور/جیٹھ تو موت ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5674]
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيح ، وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انہیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5675]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال: وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يقول: " الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ ".
ابن وہب نے کہا: میں نے لیث بن سعد سے سنا، کہہ رہے تھے: حمو (دیور/جیٹھ) خاوند کا بھائی ہے یا خاوند کے رشتہ داروں میں اس جیسا رشتہ رکھنے والا، مثلاً: اس کا چچا زاد وغیرہ۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5676]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ، فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ ".
عبدالرحمن بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہیں ناگوار گزرا۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، ساتھ ہی کہا: میں نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے (بھی) انہیں (حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو) اس سے بری قرار دیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5677]
9: باب بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَةً أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلاَنَةُ. لِيَدْفَعَ ظَنَّ السَّوْءِ بِهِ:
باب: جو شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہو اور دوسرے شخص کو دیکھے تو اس سے کہہ دے کہ میری بی بی یا محرم ہے تاکہ اس کو بدگمانی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ، فَجَاءَ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلَانَةُ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ".
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے باہر) اپنی ایک اہلیہ کے ساتھ تھے، آپ کے پاس سے ایک شخص گزرا تو آپ نے اسے بلایا، جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! یہ میری فلاں بیوی ہے۔“ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کسی کے بارے میں گمان کرتا بھی تو آپ کے بارے میں تو نہیں کر سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5678]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وتقاربا في اللفظ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ، فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ "، فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا أَوَ قَالَ شَيْئًا ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) سے روایت کی، کہا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں، پھر میں لوٹ جانے کو کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے پہنچا دینے کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور میرا گھر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے مکان میں تھا۔ راہ میں انصار کے دو آدمی ملے جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ جلدی جلدی چلنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہے۔“ وہ دونوں بولے: سبحان اللہ یا رسول اللہ! (یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی بدگمانی کر سکتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے (اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5679]
وحدثينيه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ " وَلَمْ يَقُلْ يَجْرِي.
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے علی بن حسین نے بتایا کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے دوران مسجد میں آپ سے ملنے آئیں، انہوں نے گھڑی بھر آپ سے بات کی، پھر واپسی کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو واپس چھوڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد (شعیب نے) معمر کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کے اندر وہاں پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتا ہے۔“ انہوں نے ”دوڑتا ہوا“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5680]
10: باب مَنْ أَتَى مَجْلِسًا فَوَجَدَ فُرْجَةً فَجَلَسَ فِيهَا وَإِلاَّ وَرَاءَهُمْ:
باب: جو کوئی مجلس میں آئے اور صف میں جگہ پائے تو بیٹھ جائے، نہیں تو پیچھے بیٹھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ، قَالَ: فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ، أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ".
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابومرہ نے انہیں حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اتنے میں تین آدمی آئے، دو تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا۔ وہ دو جو آئے ان میں سے ایک نے مجلس میں جگہ خالی پائی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھا اور تیسرا تو پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا میں تم سے تین آدمیوں کا حال نہ کہوں؟ ایک نے تو اللہ کے پاس ٹھکانا لیا تو اللہ نے اس کو جگہ دی اور دوسرے نے (لوگوں میں گھسنے کی) شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5681]
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى.
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انہیں اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5682]
11: باب تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ:
باب: کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ".
لیث نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں (خود) بیٹھ جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5683]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا ".
عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر وہاں بیٹھ جائے،“ بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5684]
وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي الْحَدِيثِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قُلْتُ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا.
ابوربیع اور الکامل نے کہا: ہمیں حماد نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں ایوب نے حدیث سنائی۔ یحییٰ بن حبیب نے کہا: ہمیں روح نے حدیث سنائی، محمد رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، ان دونوں (روح اور عبدالرزاق) نے ابن جریج سے روایت کی، محمد بن رافع نے کہا: ہمیں ابن ابی فدیک نے حدیث بیان کی، کہا: ضحاک بن عثمان نے خبر دی، ان سب (ایوب، ابن جریج اور ضحاک بن عثمان) نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی، انہوں نے اس حدیث میں: ”بلکہ کھلے ہو کر بیٹھو اور وسعت پیدا کرو“ کے الفاظ بیان نہیں کیے اور (ابن رافع نے) ابن جریج کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: میں نے ان (ابن جریج) سے پوچھا: جمعہ کے دن؟ انہوں نے کہا: جمعہ میں اس اور اس کے علاوہ بھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5685]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ "، وَكَانَ ابْنُ عُمَر َ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ.
عبدالاعلیٰ نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس جگہ سے نہ اٹھائے کہ پھر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے۔“ (سالم نے کہا) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ طریق تھا کہ کوئی شخص ان کے لیے (خود بھی) اپنی جگہ سے اٹھتا تو وہ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5686]
وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالرزاق نے کہا: معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5687]
وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن النبي، قَالَ: " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ لَيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ، وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے بھائی کو کھڑا نہ کرے کہ پھر دوسری طرف سے آ کر اس کی جگہ پر خود بیٹھ جائے، بلکہ (جو آئے وہ) کہے ’جگہ کشادہ کر دو۔‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 5688]
12: باب إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ عَادَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ:
باب: جب کوئی اپنی جگہ سے کھڑا ہو پھر لوٹ کر آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ: " مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ".
ابوعوانہ اور عبدالعزیز بن محمد دونوں نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو۔“ اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہو۔ پھر اس جگہ لوٹ آئے تو وہی اس (جگہ) کا زیادہ حق دار ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5689]
13: باب مَنْعِ الْمُخَنَّثِ مِنَ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ الأَجَانِبِ:
باب: زنانہ مخنث، اجنبی عورتوں کے پاس نہ جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ أَيْضًا، وَاللَّفْظُ هَذَا، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّة إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، قَالَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ ".
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک مخنث ان کے ہاں موجود تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر پر تھے وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سے کہنے لگا: عبداللہ بن ابی امیہ! اگر کل (کلاء کو) اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو طائف پر فتح عطا فرمائے تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی (بادیہ بنت غیلان) کا پتہ بتاؤں گا وہ چار سلوٹوں کے ساتھ سامنے آتی ہے (سامنے سے جسم پر چار سلوٹیں پڑتی ہیں) اور آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیر کر جاتی ہے۔ (انتہائی فربہ جسم کی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی تو آپ نے فرمایا: ”یہ (مخنث) تمہارے ہاں داخل نہ ہوا کریں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5690]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ، فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، قَالَ: فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً قَالَ: إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ "، قَالَتْ: فَحَجَبُوهُ.
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسے جنسی معاملات سے بے بہرہ سمجھا کرتی تھیں۔ فرمایا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور وہ آپ کی ایک اہلیہ کے ہاں بیٹھا ہوا ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا وہ کہنے لگا: جب وہ آتی ہے تو چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹوں کے ساتھ پیٹھ پھیرتی ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ جو کچھ یہاں ہے اسے سب پتہ ہے، یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔“ تو انہوں نے (امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن) نے اس سے پردہ کر لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5691]
14: باب جَوَازِ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ الأَجْنَبِيَّةِ إِذَا أَعْيَتْ فِي الطَّرِيقِ:
باب: اگر اجنبی عورت راہ میں تھک گئی ہو تو اس کو اپنے ساتھ سوار کر لینا درست ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ، وَأَعْلِفُهُ وَأَسْتَقِي الْمَاءَ وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ، وَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، قَالَتْ: وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ، قَالَتْ: فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ: فَاسْتَحْيَيْتُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ "، قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ، فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي.
ہشام کے والد (عروہ) نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) کہا: حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوا نہ کچھ مال تھا، نہ غلام تھا، نہ کوئی اور چیز تھی۔ ان کے گھوڑے کو میں ہی چارا ڈالتی تھی ان کی طرف سے اس کی ساری ذمہ داری میں سنبھالتی۔ اس کی نگہداشت کرتی ان کے پانی لانے والے اونٹ کے لیے کھجور کی گٹھلیاں توڑتی اور اسے کھلاتی میں ہی (اس پر) پانی لاتی میں ہی ان کا پانی کا ڈول سیتی آٹا گوندھتی، میں اچھی طرح روٹی نہیں بنا سکتی تھی تو انصار کی خواتین میں سے میری ہمسائیں میرے لیے روٹی بنا دیتیں، وہ سچی (دوستی والی) عورتیں تھیں، انہوں نے (اسماء رضی اللہ عنہا) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو زمین کا جو ٹکڑا عطا فرمایا تھا وہاں سے اپنے سر پر گٹھلیاں رکھ کر لاتی یہ (زمین) تقریباً دو تہائی فرسخ (تقریباً 3.35 کلومیٹر) کی مسافت پر تھی۔ کہا: ایک دن میں آ رہی تھی گٹھلیاں میرے سر پر تھیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، پھر آواز سے اونٹ کو بٹھانے لگے تا کہ (گٹھلیوں کا بوجھ درمیان میں رکھتے ہوئے) مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں۔ انہوں نے (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے) کہا: مجھے شرم آئی مجھے تمہاری غیرت بھی معلوم تھی تو انہوں نے (زبیر رضی اللہ عنہ) کہا: اللہ جانتا ہے کہ تمہارا اپنے سر پر گٹھلیوں کا بوجھ اٹھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے۔ کہا: (یہی کیفیت رہی) یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ایک کنیز بھجوادی اور اس نے مجھ سے گھوڑے کی ذمہ داری لے لی۔ (مجھے ایسے لگا) جیسے انہوں نے مجھے (غلامی سے) آزاد کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5692]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ، فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا، قَالَتْ: كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ، قَالَتْ: إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ، أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ، فَجَاءَ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ، قَالَتْ: مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ، فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ، فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي، فَقَالَ: هَبِيهَا لِي، قَالَتْ: إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا ".
ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں گھر کی خدمات سر انجام دے کر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت کرتی تھی، ان کا ایک گھوڑا تھا، میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی، میرے لیے گھر کی خدمات میں سے گھوڑے کی نگہداشت سے بڑھ کر کوئی اور خدمت زیادہ سخت نہ تھی۔ میں اس کے لیے چارا لاتی، اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی اور اس کی نگہداشت کرتی، کہا: پھر انہیں ایک خادمہ مل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ نے ان کے لیے ایک خادمہ عطا کر دی۔ کہا: اس نے مجھ سے گھوڑے کی نگہداشت (کی ذمہ داری) سنبھال لی اور مجھ سے بہت بڑا بوجھ ہٹا لیا۔ میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں: میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں (بیٹھ کر سودا) بیچ لیا کروں۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے تمہیں اجازت دے دی تو زبیر رضی اللہ عنہ انکار کر دیں گے۔ جب زبیر رضی اللہ عنہ موجود ہوں تو (اس وقت) آ کر مجھ سے اجازت مانگنا، پھر وہ شخص (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں) آیا اور کہا: ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں اور چاہتا ہوں کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں (بیٹھ کر کچھ) بیچ لیا کروں، انہوں نے (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) جواب دیا: مدینہ میں تمہارے لیے میرے گھر کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے؟ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے، ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے روک رہی ہو؟ وہ بیچنے لگا، یہاں تک کہ اس نے کافی کمائی کر لی، میں نے وہ خادمہ اسے بیچ دی۔ زبیر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو اس خادمہ کی قیمت میری گود میں پڑی تھی، انہوں نے کہا: یہ مجھے ہبہ کر دو۔ تو انہوں نے کہا: میں اس کو صدقہ کر چکی ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5693]
15: باب تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الاِثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاهُ:
باب: تین آدمی ہوں تو ان میں دو چپکے چپکے سرگوشی نہ کریں بغیر تیسرے کی رضا کے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قرأت على مالك ، عن نافع ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ ".
مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین شخص (موجود) ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5694]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.
عبیداللہ، لیث بن اسعد، ایوب (سختیانی) اور ایوب بن موسیٰ ان سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5695]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم، واللفظ لزهير، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ ".
منصور نے ابووائل (شقیق) سے، انہوں نے عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین لوگ (ایک ساتھ) ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں، یہاں تک کہ تم بہت سے لوگوں میں مل جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ (دو کی سرگوشی) اسے غم زدہ کر دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5696]
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْر ٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین لوگ ہو تو اپنے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ چیز اس کو غم زدہ کر دے گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5697]
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عیسیٰ بن یونس اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ (حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5698]
16: باب الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى:
باب: علاج، بیماری اور منتر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَاهُ جِبْرِيلُ، قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ ".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ کو دم کرتے، وہ کہتے: ”اللہ کے نام سے، وہ آپ کو بچائے اور ہر بیماری سے شفا دے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اور نظر لگانے والی ہر آنکھ کے شر سے (آپ کو محفوظ رکھے۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5699]
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ: " اشْتَكَيْتَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ".
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا محمد! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات کہے: ”میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں، ہر چیز سے (حفاظت کے لیے) جو آپ کو تکلیف دے، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے، اللہ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5700]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر حق (ثابت شدہ بات) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5701]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ، وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”نظر حق (ثابت شدہ بات) ہے، اگر کوئی ایسی چیز ہوتی جو تقدیر پر سبقت لے جاسکتی تو نظر سبقت لے جاتی۔ اور جب (نظر بد کے علاج کے لیے) تم سے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5702]
17: باب السِّحْرِ:
باب: جادو کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَتْ: حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ: " أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ؟ "، جَاءَنِي رَجُلَانِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ: الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي مَا وَجَعُ الرَّجُلِ، قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّهُ؟، قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ؟، قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ، قَالَ: وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ، قَالَ: فَأَيْنَ هُوَ؟، قَالَ: فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ، قَالَتْ: فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ: " وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ؟، قَالَ: " لَا، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا، فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ "
ابن نمیر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بنی زریق کے ایک یہودی لبید بن اعصم نے جادو کیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں حالانکہ وہ کام کرتے نہ تھے۔ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، پھر دعا کی، پھر فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے معلوم ہوا کہ اللہ جل جلالہ نے مجھے وہ بتلا دیا جو میں نے اس سے پوچھا؟“ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا پاؤں کے پاس (وہ دونوں فرشتے تھے) جو سر کے پاس بیٹھا تھا، اس نے دوسرے سے کہا جو پاؤں کے پاس بیٹھا تھا اس نے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ وہ بولا کہ اس پر جادو ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ لبید بن اعصم نے۔ پھر اس نے کہا کہ کس میں جادو کیا ہے؟ وہ بولا کہ کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی سے جھڑے اور نر کھجور کے گابھے کے ریشے میں۔ اس نے کہا کہ یہ کہاں رکھا ہے؟ وہ بولا کہ ذی اروان کے کنوئیں میں۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ کی قسم اس کنوئیں کا پانی ایسا تھا جیسے مہندی کا زلال اور وہاں کے کھجور کے درخت ایسے تھے جیسے شیطانوں کے سر۔“ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جلا کیوں نہیں دیا؟ (یعنی وہ جو بال وغیرہ نکلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو اللہ نے ٹھیک کر دیا، اب مجھے لوگوں میں فساد بھڑکانا برا معلوم ہوا، پس میں نے حکم دیا اور وہ دفن کر دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5703]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَقَالَ: فِيهِ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، وَقَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْرِجْهُ وَلَمْ يَقُلْ أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ.
ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی، کہا، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔ اس کے بعد ابوکریب نے واقعے کی تفصیلات سمیت ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں کی طرف تشریف لے گئے، اسے دیکھا، اس کنوئیں پر کھجور کے درخت تھے (جنہیں کسی زمانے میں کنوئیں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہوگا) انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اسے نکالیں (اور جلا دیں) ابوکریب نے: ”آپ نے اسے جلا کیوں نہ دیا؟“ کے الفاظ نہیں کہے اور یہ الفاظ (بھی) بیان نہیں کیے: ”میں نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کو پاٹ دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5704]
18: باب السَّمِّ:
باب: زہر کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ، قَالَ: " مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَاكِ "، قَالَ أَوَ قَالَ عَلَيَّ: قَالَ: قَالُوا: أَلَا نَقْتُلُهَا، قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود (پکی ہوئی) بکری لے کر آئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ (گوشت کھایا) (آپ کو اس کے زہر آلود ہونے کا پتہ چل گیا) تو اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے اس عورت سے اس (زہر) کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: (نعوذ باللہ!) میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ تمہیں اس بات پر تسلط (اختیار) دے دے۔“ انہوں نے (انس رضی اللہ عنہ) کہا: یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تمہیں) مجھ پر (تسلط دے دے۔)“ انہوں نے (انس رضی اللہ عنہ) کہا: صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے (انس رضی اللہ عنہ) کہا: تو میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک کے اندرونی حصے میں اس کے اثرات کو پہچانتا ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5705]
وحدثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سَمًّا فِي لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ خَالِدٍ.
روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ہشام بن زید سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک یہودی عورت نے گوشت میں زہر ملا دیا اور پھر اس (گوشت) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئی، جس طرح خالد (بن حارث) کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5706]
19: باب اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ:
باب: بیمار پر منتر پڑھنا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ زُهَيْرٌ: وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا "، فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى "، قَالَتْ: فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى.
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (کے متاثرہ حصے) پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے، پھر فرماتے: ”تکلیف کو دور کر دے، اے تمام انسانوں کے پالنے والے! شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری کو (ذرہ برابر باقی) نہیں چھوڑتی۔“ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کے لیے اعضاء کو حرکت دینا مشکل ہو گیا تو میں نے آپ کا دست مبارک تھاما تاکہ جس طرح خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، میں بھی اسی طرح کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا، پھر فرمایا: ”اے میرے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ کی معیت عطا کر دے۔“ انہوں نے کہا: پھر میں دیکھنے لگی تو آپ رحلت فرما چکے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5707]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَشُعْبَةَ مَسَحَهُ بِيَدِهِ، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ، وقَالَ: فِي عَقِبِ حَدِيثِ يَحْيَي، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قال: فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا فَحَدَّثَنِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی، ابوبکر بن خلاد اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، بشر بن خالد نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی۔ ابن بشار نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث بیان کی، ان دونوں (محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی) نے شعبہ سے روایت کی۔ (اسی طرح) ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوبکر بن خلاد نے بھی ہمیں یہ حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے حدیث بیان کی، ان سب نے جریر کی سند کے ساتھ اعمش سے روایت کی۔ ہشیم اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس (متاثرہ حصے) پر پھیرتے اور (سفیان) ثوری کی حدیث میں ہے: آپ اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے۔ اور اعمش سے سفیان اور ان سے یحییٰ کی روایت کردہ حدیث کے آخر میں ہے، کہا: میں نے منصور کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسی کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق اور ان سے ابراہیم کی روایت کردہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5708]
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا، يَقُولُ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ".
ابوعوانہ نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرتے تھے تو فرماتے: ”تکلیف دور کر دے، اے سب لوگوں کے پالنے والے! اس کو شفا عطا کر، تو شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا (دے) جو (ذرہ برابر) بیماری کو نہ چھوڑے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5709]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قالا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ، قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، فَدَعَا لَهُ، وَقَالَ: وَأَنْتَ الشَّافِي.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لاتے تو اس کے لیے دعا فرماتے ہوئے کہتے: ”تکلیف دور کر دے، اے سب انسانوں کے پالنے والے! اور شفا عطا کر تو ہی شفا دینے والا ہے، شفا عطا کر، تیری شفا کے سوا (کہیں) کوئی شفا نہیں، ایسی شفا سے جو بیماری کو (باقی) نہ چھوڑے۔“ ابوبکر (ابن ابی شیبہ) کی روایت میں ہے: آپ اس کے لیے دعا فرماتے اور کہتے: ”اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5710]
وحدثني الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَجَرِيرٍ.
اسرائیل نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم اور مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جب کسی مریض کی عیادت کرتے) تھے (آگے) جس طرح ابوعوانہ اور جریر کی حدیث میں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5711]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي بِهَذِهِ الرُّقْيَةِ " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ ".
ابن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے: ”تکلیف دور فرما دے، اے سب انسانوں کے پالنے والے! شفا تیرے ہی ہاتھ میں ہے، تیرے سوا اس تکلیف کو دور کرنے والا اور کوئی نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5712]
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابواسامہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5713]
20: باب رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْثِ:
باب: مریض کو معوذات کے ساتھ دم کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قالا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، " فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي " وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَي بْنِ أَيُّوبَ بِمُعَوِّذَاتٍ.
سریج بن یونس اور یحییٰ بن ایوب نے کہا: ہمیں عباد بن عباد نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ پناہ دلوانے والے کلمات اس پر پھونکتے۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی رحلت ہوئی تو میں نے آپ پر پھونکنا اور آپ کا اپنا ہاتھ آپ کے جسم اطہر پر پھیرنا شروع کر دیا کیونکہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ بابرکت تھا۔ یحییٰ بن ایوب کی روایت میں (بِالْمَعَوِّذَاتِ، کے بجائے) ”بِمَعَوِّذَاتٍ“ (پناہ دلوانے والے کچھ کلمات) ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5714]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا ".
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو آپ خود پر معوذات (معوذتین اور دیگر پناہ دلوانے والی دعائیں اور آیات) پڑھتے اور پھونک مارتے۔ جب آپ کی تکلیف شدید ہو گئی تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ کی طرف سے میں آپ کا اپنا ہاتھ اس کی برکت کی امید کے ساتھ (آپ کے جسم اطہر پر) پھیرتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5715]
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحدثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍكِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا إِلَّا فِي حَدِيثِ مَالِكٍ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَزِيَادٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ.
یونس، معمر اور زیاد سب نے ابن شہاب سے، امام مالک کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مالک کے علاوہ اور کسی کی سند میں ”آپ کے ہاتھ کی برکت کی امید سے“ کے الفاظ نہیں۔ اور یونس اور زیاد کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو آپ خود اپنے آپ پر کلمات (پڑھ کر) پھونکتے اور اپنے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5716]
21: باب اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ:
باب: نظر لگنے، پھوڑے پھنسی، زہریلے ڈنگ وغیرہ کی تکلیف میں دم کرانے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرُّقْيَةِ، فَقَالَتْ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ ".
عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دم کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھر کے لوگوں کو ہر زہریلے جانور کے ڈنک سے (شفا کے لیے) دم کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5717]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ ".
ابراہیم نے سود سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھر کے لوگوں کو ہر زہریلے ڈنک کے علاج کے لیے دم کرنے کی اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5718]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى الْإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ أَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ أَوْ جُرْح، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا وَوَضَعَ سُفْيَانُ سَبَّابَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَهَا " بِاسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا "، قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ: يُشْفَى، وقَالَ زُهَيْرٌ: لِيُشْفَى سَقِيمُنَا.
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے۔ الفاظ ابن ابی عمر کے ہیں۔ کہا: ہمیں سفیان نے عبدربہ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب کسی انسان کو اپنے جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہوتی یا اسے کوئی پھوڑا نکلتا یا زخم لگتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشت مبارک سے اس طرح (کرتے) فرماتے: (یہ بیان کرتے ہوئے) سفیان نے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر لگائی، پھر اسے اٹھایا: ”اللہ کے نام کے ساتھ ہماری زمین کی مٹی سے ہم میں سے ایک کے لعاب دہن کے ساتھ ہمارے رب کے اذن سے ہمارا بیمار شفایاب ہو۔“ ابن ابی شیبہ نے ”ہمارا بیمار شفایاب ہو“ کے الفاظ اور زہیر نے ”تاکہ ہمارا بیمار شفایاب ہو“ کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5719]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْمُرُهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ ".
محمد بن بشر نے مسعر سے روایت کی، کہا: ہمیں معبدبن خالد نے ابن شداد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے تھے کہ وہ نظر بد سے (شفا کے لیے) دم کرا لیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5720]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبیداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں مسعر نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5721]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ ".
سفیان نے معبدبن خالد سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تھے کہ وہ نظر بد سے دم کرا لوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5722]
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فِي الرُّقَى، قَالَ: " رُخِّصَ فِي الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَالْعَيْنِ ".
ابوخیثمہ نے عاصم احول سے، انہوں نے یوسف بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دم جھاڑ کے بارے میں روایت بیان کی، کہا: زہریلے ڈنک، جلد نکلنے والے دانوں اور نظر بد (کے عوارض) میں دم کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5723]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ "، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ.
سفیان اور حسن بن صالح دونوں نے عاصم سے، انہوں نے یوسف بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد، زہریلے ڈنک، جلد نکلنے والے دانوں میں دم کرنے کی اجازت دی۔ اور سفیان کی روایت میں (یوسف بن عبداللہ کے بجائے) یوسف بن عبداللہ بن حارث (سے مروی) ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5724]
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بِوَجْهِهَا سَفْعَةً، فَقَالَ: " بِهَا نَظْرَةٌ فَاسْتَرْقُوا لَهَا "، يَعْنِي بِوَجْهِهَا صُفْرَةً.
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک لڑکی کے بارے میں جس کے چہرے (کے ایک حصے) کا رنگ بدلا ہوا دیکھا فرمایا: ”اس کو نظر لگ گئی ہے اس کو دم کراؤ۔“ آپ کی مراد اس کے چہرے کی پیلاہٹ سے تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5725]
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ، وَقَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ: " مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمُ الْحَاجَةُ؟، قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ، قَالَ: " ارْقِيهِمْ "، قَالَتْ: فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " ارْقِيهِمْ ".
ابوعاصم نے ابن جریج سے روایت کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آل (بنو عمرو بن) حزم کو سانپ (کے کاٹے) کا دم کرنے کی اجازت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا ہوا ہے میں اپنے بھائی (حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کے بچوں کے جسم لاغر دیکھ رہا ہوں، کیا انہیں بھوکا رہنا پڑتا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں لیکن انہیں نظر بد جلدی لگ جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں دم کرو۔“ انہوں نے (اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا) کہا: تو میں نے (دم کے الفاظ کو) آپ کے سامنے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ان الفاظ سے) ان کو دم کر دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5726]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو، قَالَ أَبُو الزُّبَيْر: وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْقِي، قَالَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ ".
روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو (بن حزم) کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں دم کرنے کی اجازت دی۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے (یہ بھی) سنا، وہ کہتے تھے: ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دم کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو اسے ایسا کرنا چاہیے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5727]
وحدثني سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَرْقِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَمْ يَقُلْ أَرْقِي.
سعید بن یحییٰ اموی کے والد نے کہا: ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کی مثل روایت بیان کی مگر انہوں نے کہا: لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو دم کر دوں؟ اور (صرف): ”دم کر دوں“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5728]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، قَالَ: فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى، وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَقَالَ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ ".
وکیع نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میرے ایک ماموں تھے وہ بچھو کے کاٹے پر دم کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عمومی طور پر ہر طرح کے) دم کرنے سے منع فرمایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ میں بچھو کے کاٹے سے دم کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5729]
وحدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5730]
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ، وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى، قَالَ: فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا أَرَى بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع فرما دیا تو عمرو بن حزم کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس دم (کرنے کا ایک کلمہ) تھا۔ ہم اس سے بچھو کے ڈسے ہوئے کو دم کرتے تھے اور آپ نے دم کرنے سے منع فرما دیا۔ انہوں نے (جابر رضی اللہ عنہما) کہا: تو انہوں نے وہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں (اس میں کوئی) حرج نہیں سمجھتا۔ تم میں سے جو کوئی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ضرور اسے فائدہ پہنچائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5731]
22: باب لاَ بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ:
باب: جس دم کے کلمات میں شرک نہ ہو اس کے ساتھ دم کرنے میں کوئی حرج نہ ہونے کا بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قال: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟، فَقَالَ: " اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ ".
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5732]
23: باب جَوَازِ أَخْذِ الأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالأَذْكَارِ:
باب: قرآن یا دعا سے منتر کر کے اس پر اجرت لینا درست ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ، فَقَالُوا لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ لَدِيغٌ أَوْ مُصَابٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: نَعَمْ، فَأَتَاهُ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَقَالَ: حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَتَبَسَّمَ، وَقَالَ: " وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ "، ثُمَّ قَالَ: " خُذُوا مِنْهُمْ وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ ".
ہشیم نے ابوبشر سے، انہوں نے ابومتوکل سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر میں تھے عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے سامنے سے ان کا گزر ہوا انہوں نے ان (قبیلے والے) لوگوں سے چاہا کہ وہ انہیں اپنا مہمان بنائیں۔ انہوں نے مہمان بنانے سے انکار کر دیا، پھر انہوں نے کہا: کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قوم کے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا ہے یا اسے کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔ ان (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) میں سے ایک آدمی نے کہا: ہاں پھر وہ اس کے قریب آئے اور اسے فاتحہ الکتاب سے دم کر دیا۔ وہ آدمی ٹھیک ہو گیا تو اس (دم کرنے والے) کو بکریوں کا ایک ریوڑ (تیس بکریاں) پیش کی گئیں۔ اس نے انہیں (فوری طور پر) قبول کرنے (کے معاملے میں لانے) سے انکار کر دیا اور کہا: یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماجرا سنا دوں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا آپ کو سنایا اور کہا اے اللہ کے رسول! میں نے فاتحہ الکتاب کے علاوہ اور کوئی دم نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ دم (بھی) ہے؟“ پھر انہیں لے لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5733]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ كِلَاهُمَا، عَنْ غُنْدَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ.
شعبہ نے ابوبشر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور حدیث میں یہ کہا: اس نے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) پڑھنی شروع کی اور اپنا تھوک جمع کرتا اور اس پر پھینکتا جاتا تو وہ آدمی تندرست ہو گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5734]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال: نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ لُدِغَ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟، فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا وَسَقَوْنَا لَبَنًا، فَقُلْنَا: أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً؟، فَقَالَ: مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، تُحَرِّكُوهَا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ ".
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے خبر دی، انہوں نے اپنے بھائی معبدبن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، روایت کی، کہا: ہم نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا، ایک عورت ہمارے پاس آئی اور کہا: قبیلے کے سردار کو ڈنک لگا ہے، (اسے بچھو نے ڈنک مارا ہے) کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ (جانے کے لیے) کھڑا ہو گیا، اس کے بارے میں ہمارا خیال نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح دم کر سکتا ہے۔ اس نے اس (ڈسے ہوئے) کو فاتحہ سے دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا، تو انہوں نے اسے بکریوں کا ایک ریوڑ دیا اور ہم سب کو دودھ پلایا۔ ہم نے (اس سے) پوچھا: کیا تم اچھی طرح دم کرنا جانتے تھے؟ اس نے کہا: میں نے اسے صرف فاتحۃ الکتاب سے دم کیا ہے۔ کہا: میں نے (ساتھیوں سے) کہا: ان بکریوں کو کچھ نہ کہو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کس ذریعے سے پتہ چلا کہ یہ (فاتحہ) دم (کا کلمہ بھی) ہے؟ ان (بکریوں) کو بانٹ لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5735]
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا مَا كُنَّا نَأْبِنُهُ بِرُقْيَةٍ.
ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ، اسی طرح حدیث بیان کی، مگر اس نے کہا: ہم میں سے ایک آدمی اس کے ساتھ (جانے کے لیے کھڑا ہو گیا) ہم نے کبھی گمان نہیں کیا تھا کہ وہ دم کر سکتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5736]
24: باب اسْتِحْبَابِ وَضْعِ يَدِهِ عَلَى مَوْضِعِ الأَلَمِ مَعَ الدُّعَاءِ:
باب: دعا کے وقت اپنا ہاتھ درد کے مقام پر رکھنا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ، وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ، وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ".
سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ایک درد کی شکایت کی، جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار (بسم اللہ) کہو، اس کے بعد سات بار یہ کہو کہ أَعُوذُ بِاللَّہِ وَقُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ’میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں‘۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5737]
25: باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں شیطان کے وسوسہ سے پناہ مانگنے کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَقِرَاءَتِي يَلْبِسُهَا عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خَنْزَبٌ، فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ، وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثَلَاثًا "، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي.
عبدالاعلیٰ نے سعید جریری سے، انہوں نے ابوعلاء سے روایت کی کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! شیطان میری نماز میں حائل ہو جاتا ہے اور مجھے قرآن بھلا دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شیطان کا نام خنزب ہے، جب تجھے اس شیطان کا اثر معلوم ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ اور (نماز کے اندر ہی) بائیں طرف تین بار تھوک لے۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو مجھ سے دور کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5738]
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ نُوحٍ ثَلَاثًا.
سالم بن نوح اور ابواسامہ، دونوں نے جریری سے، انہوں نے ابوعلاء سے، انہوں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، پھر اس طرح بیان کیا اور سالم بن نوح کی حدیث میں ”تین بار“ کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5739]
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
سفیان نے سعید جریری سے روایت کی، کہا: ہمیں یزید بن عبداللہ بن شخیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر ان کی حدیث کی مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5740]
26: باب لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابُ التَّدَاوِي:
باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَال: " لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بیماری کی دوا ہے، جب کوئی دوا بیماری پر ٹھیک بٹھا دی جاتی ہے تو مریض اللہ تعالیٰ کے حکم سے تندرست ہو جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5741]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَادَ الْمُقَنَّعَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ فِيهِ شِفَاءً ".
بکیر نے کہا کہ عاصم بن عمر بن قتادہ نے انہیں حدیث سنائی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مقنع (بن سنان تابعی) کی عیادت کی، پھر فرمایا: میں (اس وقت تک) یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم پچھنا نہ لگوا لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے ہیں: ”یقیناً اس میں شفا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5742]
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قال: جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا، فَقَالَ: مَا تَشْتَكِي؟ قَالَ: خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ، فَقَالَ لَهُ: مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا، قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ، فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ "، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " قَالَ: فَجَاءَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ.
عبدالرحمن بن سلیمان نے حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کی، کہا: کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہمارے گھر میں آئے اور ایک شخص کو زخم کی تکلیف تھی (یعنی قرحہ پڑ گیا تھا)۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تجھے کیا تکلیف ہے؟ وہ بولا کہ ایک قرحہ ہو گیا ہے جو کہ مجھ پر نہایت سخت ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اے غلام! ایک پچھنے لگانے والے کو لے کر آ۔ وہ بولا کہ پچھنے لگانے والے کا کیا کام ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں، وہ بولا کہ اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی اور کپڑا لگے گا تو مجھے تکلیف ہو گی اور مجھ پر بہت سخت (وقت) گزرے گا۔ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ اس کو پچھنے لگانے سے رنج ہوتا ہے تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر تمہاری دواؤں میں بہتر کوئی دوا ہے تو تین ہی دوائیں ہیں، ایک تو پچھنا، دوسرے شہد کا ایک گھونٹ اور تیسرے انگارے سے جلانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں داغ لینا بہتر نہیں جانتا۔ راوی نے کہا کہ پھر پچھنے لگانے والا آیا اور اس نے اس کو پچھنے لگائے اور اس کی بیماری جاتی رہی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5743]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ: " حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کے متعلق اجازت طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ انہیں پچھنے لگائیں۔ انہوں نے (جابر رضی اللہ عنہما) کہا: حضرت ابوطیبہ رضی اللہ عنہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے۔ (اور انہوں نے ہاتھ یا پاؤں ایسی جگہ پچھنے لگائے جنہیں دیکھنا محرم یا بچے کے لیے جائز ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5744]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَي : وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ.
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جب) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (کو جنگ خندق کے موقع پر ہاتھ کی بڑی رگ پر زخم لگا تو ان) کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کی (زخمی) رگ (کی خراب ہو جانے والی جگہ) کاٹی، پھر اس پر داغ لگایا (تاکہ خون رک جائے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5745]
وحدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا.
جریر اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ بیان کیا اور ”تو ان کی رگ کاٹی“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5746]
وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " رُمِيَ أُبَيٌّ يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سلیمان نے کہا: میں نے ابوسفیان کو سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا: غزوہ احزاب میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا۔ کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5747]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ، قَالَ: " فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا، کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھل کے ساتھ اس (جگہ) کو داغ لگایا، ان کا ہاتھ دوبارہ سوج گیا تو آپ نے دوبارہ اس پر داغ لگایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5748]
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَاسْتَعَطَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوانے اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور آپ نے ناک کے ذریعے دوائی لی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5749]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يقول: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ ".
عمر بن عامر انصاری نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے بھی لگوائے، آپ کسی کی اجرت کے معاملے میں کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتے تھے (بلکہ زیادہ عطا فرماتے تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5750]
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".
یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے روایت کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5751]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".
عبداللہ بن نمیر اور محمد بن بشر نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کی شدت جہنم کی لپٹوں سے ہے، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5752]
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ ".
امام مالک اور ضحاک بن عثمان، دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی لپٹوں میں سے ہے، اس کو پانی سے بجھاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5753]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ ".
محمد بن زید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے، اس کو پانی سے بجھاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5754]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".
ابن نمیر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5755]
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
خالد بن حارث اور عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5756]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ : أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ، فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا وَتَقُولُ، إِنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ "، وَقَالَ: " إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ".
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے، انہوں نے فاطمہ سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بخار میں مبتلا عورت کو ان کے پاس لایا جاتا تو وہ پانی منگواتیں اور اسے عورت کے گریبان میں انڈیلتیں اور کہتیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (بخار) کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ اور کہا (وہ کہتیں): ”یہ جہنم کی لپٹوں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5757]
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ صَبَّتِ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابن نمیر اور ابواسامہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے: وہ اس کے اور اس کی قمیص کے گریبان کے درمیان پانی ڈالتیں۔ ابواسامہ کی حدیث میں انہوں نے ”یہ جہنم کی لپٹوں میں سے ہے“ کا ذکر نہیں کیا۔ ابواحمد نے کہا: ابراہیم نے کہا: ہمیں حسن بن شر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابواسامہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5758]
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْحُمَّى فَوْرٌ مِنْ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".
سعید بن مسروق نے عبایہ بن رفاعہ سے، انہوں نے اپنے دادا سے، انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”بخار جہنم کے جوش سے ہے، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5759]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ عَنْكُمْ وَقَالَ: قَالَ أَخْبَرَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنیٰ، محمد بن حاتم اور ابوبکر بن نافع نے کہا: ہمیں عبدالرحمن بن مہدی نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ سے روایت کی، کہا: مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”بخار جہنم کے جوش سے ہے، اسے خود سے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔“ (ابوبکر) کی روایت میں ”خود سے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ نیز ابوبکر نے کہا کہ عبایہ بن رفاعہ نے (حدثنی کے بجائے) اخبرنی رافع بن خدیج کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5760]
27: باب كَرَاهَةِ التَّدَاوِي بِاللَّدُودِ:
باب: منہ میں دوا ڈالنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: " لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں ہم نے آپ کی مرضی کے بغیر منہ کے کونے سے آپ کے دہن مبارک میں دوائی ڈالی، آپ نے اشارے سے روکا بھی کہ مجھے زبردستی دوائی نہ پلاؤ، ہم نے (آپس میں) کہا: یہ مریض کی طبعی طور پر دوائی کی ناپسندیدگی (کی وجہ سے) ہے۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی نہ بچے، سب کو زبردستی (ہی) دوائی پلائی جائے، سوائے عباس رضی اللہ عنہما کے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ موجود نہیں تھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5761]
28: باب التَّدَاوِي بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَهُوَ الْكُسْتُ:
باب: عود ہندی کے ذریعے علاج کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَر ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہا: میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جس نے (ابھی تک) کھانا شروع نہیں کیا تھا، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5762]
قَالَتْ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ".
انہوں نے (ام قیس رضی اللہ عنہا) کہا: میں اپنے ایک بچے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے اس کے گلے میں سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے اوپر کی طرف دبایا تھا (تاکہ سوزش کی وجہ سے لٹکا ہوا حصہ اوپر ہو جائے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انگلیوں کے دباؤ کے ذریعے سے اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ (آپ نے بچوں کے لیے اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ناپسند فرمایا۔) تم عود ہندی کا استعمال لازم کر لو۔ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا حلق کی سوزش کے لیے اس کو ناک کے راستے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور نمونیے کے لیے اسے منہ میں انڈیلا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5763]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدِ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، قَالَ يُونُسُ: أَعْلَقَتْ غَمَزَتْ فَهِيَ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ عُذْرَةٌ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ "،
یونس بن یزید نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا۔ پہلے پہل ہجرت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی تھی۔ یہ بنو اسد بن خزیمہ کے فرد حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ کہا: انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، انہوں نے گلے کی سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے دبایا تھا۔ یونس نے کہا حلق دبایا تھا۔ یعنی انگلی چبھوئی تھی (تاکہ فاسد خون نکل جائے) انہیں یہ خوف تھا کہ اس گلے کے اندر سوزش ہے۔ انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس انگلی چبھونے والے طریقے سے تم اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ اس عود ہندی یعنی کست کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5764]
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا.
عبیداللہ نے کہا: انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے اسی بچے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا تھا اور اس کو زیادہ رگڑ کر نہیں دھویا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5765]
29: باب التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ:
باب: سیاہ دانے (کلونجی) سے علاج کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أن أبا هريرة أخبرهما، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ ".
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”شونیز سام (موت) کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے۔“ ”سام: موت ہے اور حبہ سوداء (سے مراد) شونیز (زیر سیاہ) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5766]
وحدثينيه أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَيُونُسَ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَلَمْ يَقُلِ الشُّونِيزُ.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، سفیان بن عیینہ، معمر اور شعیب سب نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیل کی حدیث کے مانند روایت کی۔ سفیان اور یونس کی حدیث میں ”الحبۃ السوداء“ کے الفاظ ہیں انہوں نے (آگے) شونیز نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5767]
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ إِلَّا السَّامَ ".
اعلاء (بن عبدالرحمن) کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت کے سوا کوئی بیماری نہیں جس کی شونیز کے ذریعے سے شفا نہ ہوتی ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5768]
30: باب التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ:
باب: تلبینہ کا بیان جو مریض کے دل کو خوش کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ، فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ، قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ ".
عروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب ان کے خاندان میں سے کسی فرد کا انتقال ہوتا تو عورتیں (اس کی تعزیت کے لیے) جمع ہو جاتیں، پھر ان کے گھر والے اور خواص رہ جاتے اور باقی لوگ چلے جاتے، اس وقت وہ تلبینہ کی ایک ہانڈی (دیگچی) پکانے کو کہتیں تلبینہ پکایا جاتا، پھر ثرید بنایا جاتا اور اس پر تلبینہ ڈالا جاتا، پھر وہ کہتیں: یہ کھاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”تلبینہ بیمار کے دل کو راحت بخشتا ہے اور غم کو ہلکا کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5769]
31: باب التَّدَاوِي بِسَقْيِ الْعَسَلِ:
باب: شہد کو بطور دوا استعمال کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَة ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِهِ عَسَلًا "، فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَقَيْتُهُ عَسَلًا فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: " اسْقِهِ عَسَلًا "، فَقَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ "، فَسَقَاهُ فَبَرَأَ.
شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابومتوکل سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی: میرے بھائی کا پیٹ چل پڑا ہے (دست لگ گئے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو شہد پلاؤ۔“ اس نے اسے شہد پلایا، وہ پھر آیا اور کہا: میں نے اسے شہد پلایا ہے، اس سے (دستوں کی تیزی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اس سے وہی فرمایا (شہد پلاؤ) جب وہ چوتھی بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ۔“ اس نے کہا: میں نے اسے شہد پلایا ہے اس سے دستوں میں اضافے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا ہے (کہ شہد میں شفا ہے) اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹ بول رہا ہے۔“ اس نے اسے (اور) شہد پلایا وہ تندرست ہو گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5770]
وحدثينيه عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَخِي عَرِبَ بَطْنُهُ، فَقَالَ لَهُ: " اسْقِهِ عَسَلًا " بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ.
سعید نے قتادہ سے انہوں نے ابومتوکل ناجی سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے بھائی کا پیٹ خراب ہو گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اس کو شہد پلاؤ۔“ (آگے) شعبہ کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5771]
32: باب الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا:
باب: طاعون، بدفالی اور کہانت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وأبي النضر مولى عمر بن عبيد الله، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْد مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ "، وقَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ.
امام مالک نے محمد بن منکدر اور عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابونضر سے، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے سنا کہ وہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھ رہے تھے۔ آپ نے طاعون کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا؟ اسامہ رضی اللہ عنہما نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون (اللہ کی بھیجی ہوئی) آفت یا عذاب ہے جو بنی اسرائیل پر بھیجا گیا یا (فرمایا) تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا جب تم سنو کہ وہ کسی سرزمین میں ہے تو اس سرزمین پر نہ جاؤ اور اگر وہ ایسی سرزمین میں واقع ہو جائے جس میں تم لوگ (موجود) ہو تو تم اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو۔“ ابونضر نے (یہ جملہ) کہا: ”تمہیں اس (طاعون) سے فرار کے علاوہ کوئی اور بات (اس سرزمین سے) نہ نکال رہی ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5772]
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا: أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ ، وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ فَقَالَ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ ابْتَلَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ ". هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ وَقُتَيْبَةَ نَحْوُهُ.
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی نے ابونضر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون عذاب کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں کچھ لوگوں کو طاعون میں مبتلا کیا، جب تم طاعون کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب اس سرزمین میں طاعون واقع ہو جائے جہاں تم ہو تو وہاں سے مت بھاگو۔“ یہ قعنبی کی حدیث ہے، قتیبہ نے بھی اس طرح بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5773]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَوْ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا ".
سفیان نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اسامہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا، یا (فرمایا:) بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا، اگر یہ کسی علاقے میں ہو تو تم اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلنا اور اگر کسی (دوسری) سرزمین میں (طاعون) موجود ہو تو تم اس میں داخل نہ ہونا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5774]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطَّاعُونِ، فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ نَاسٍ كَانُوا قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْكُمْ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ عامر بن سعد نے انہیں خبر دی کہ کسی شخص نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے طاعون کے بارے میں سوال کیا تو (وہاں موجود) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک عذاب یا سزا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا، یا (فرمایا:) ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے، لہٰذا تم جب کسی سرزمین میں اس کے (پھیلنے کے) متعلق سنو تو اس میں اس کے ہوتے ہوئے داخل نہ ہونا اور جب یہ تم پر وارد ہو جائے تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5775]
حماد بن زید اور سفیان بن عیینہ دونوں نے عمرو بن دینار سے ابن جریج کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5776]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عامر بن سعد سے خبر دی، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بیماری (طاعون ایک) عذاب ہے جو تم سے پہلے ایک امت کو ہوا تھا۔ پھر وہ زمین میں رہ گیا۔ کبھی چلا جاتا ہے، کبھی پھر آتا ہے۔ لہٰذا جو کوئی کسی ملک میں سنے کہ وہاں طاعون ہے، تو وہ وہاں نہ جائے اور جب اس کے ملک میں طاعون نمودار ہو تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5777]
وحدثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
معمر نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اسی (یونس) کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5778]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قال: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ: إن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا، فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا، وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلْهَا "، قَالَ: قُلْتُ عَمَّنْ قَالُوا: عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالُوا: غَائِبٌ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا بَلَغَكُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا "، قَالَ حَبِيبٌ: فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لَا يُنْكِرُ، قَالَ: نَعَمْ.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے انہوں نے حبیب (بن ابی ثابت اسدی) سے روایت کی، کہا: ہم مدینہ میں تھے تو مجھے خبر پہنچی کہ کوفہ میں طاعون پھیل گیا ہے تو عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب تم کسی سرزمین میں ہو اور وہاں طاعون پھیل جائے تو تم اس سرزمین سے مت نکلو اور جب تم کو یہ خبر پہنچے کہ وہ کسی سرزمین میں پھیل گیا ہے تو تم اس میں مت جاؤ۔“ کہا: میں نے پوچھا: (حدیث) کس سے روایت کی گئی؟ ان سب نے کہا: عامر بن سعد سے وہی یہ حدیث بیان کرتے تھے۔ کہا: تو میں ان کے ہاں پہنچا، ان کے (گھر کے) لوگوں نے کہا: وہ موجود نہیں، تو میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد سے ملا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں اسامہ رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب وہ (میرے والد) حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”یہ بیماری سزا اور عذاب ہے یا عذاب کا بقیہ حصہ ہے جس میں تم سے پہلے کے لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا۔ تو جب یہ کسی سرزمین میں پھیل جائے اور تم وہیں ہو تو وہاں سے باہر مت نکلو اور جب تمہیں خبر پہنچے کہ یہ کسی سرزمین میں ہے تو اس میں مت جاؤ۔“ حبیب نے کہا: میں نے ابراہیم (بن سعد) سے کہا: کیا آپ نے (خود) اسامہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو یہ حدیث سنا رہے تھے اور وہ اس کا انکار نہیں کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5779]
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ،
عبیداللہ بن معاذ کے والد نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث سنائی مگر انہوں نے حدیث کے آغاز میں عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5780]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ،
سفیان نے حبیب سے، انہوں نے ابراہیم بن سعد سے، انہوں نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہما، حضرت حزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے شعبہ کی حدیث کے ہم معنی ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5781]
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعْدٌ جَالِسَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ، فَقَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ،
اعمش نے حبیب سے، انہوں نے ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی، کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے احادیث بیان کر رہے تھے۔ تو ان دونوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (جس طرح ان سب کی حدیث ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5782]
وحَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
شیبانی نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابراہیم بن سعد بن مالک سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی بیان کردہ حدیث کے مطابق روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5783]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَالَ عُمَر ُ: ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، فَدَعَوْتُهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، فَاخْتَلَفُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ، وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ، فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي، ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارِ، فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ، فَاسْتَشَارَهُمْ، فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ، فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْح فَدَعَوْتُهُمْ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ، فَقَالُوا: نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ: أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلَافَهُ، نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَى جَدْبَةٌ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَال َ: إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ "، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ثُمَّ انْصَرَفَ.
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب سے، انہوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما شام کی طرف نکلے۔ جب (تبوک کے مقام) سرغ پر پہنچے تو لشکر گاہوں کے امراء میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے آپ سے ملاقات کی۔ اور یہ بتایا کہ شام میں وبا پھیل گئی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میرے سامنے مہاجرین اولین کو بلاؤ۔ (مہاجرین اولین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہو) میں نے ان کو بلایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے مشورہ لیا اور ان سے بیان کیا کہ شام کے ملک میں وبا پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے اختلاف کیا۔ بعض نے کہا کہ آپ ایک اہم کام کے لیے نکلے ہوئے ہیں اس لیے ہم آپ کا لوٹنا مناسب نہیں سمجھتے۔ بعض نے کہا کہ تمہارے ساتھ وہ لوگ ہیں جو اگلوں میں باقی رہ گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور ہم ان کو وبائی ملک میں لے جانا مناسب نہیں سمجھتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اب تم لوگ جاؤ۔ پھر کہا کہ انصار کے لوگوں کو بلاؤ۔ میں نے ان کو بلایا تو انہوں نے ان سے مشورہ لیا۔ انصار بھی مہاجرین کی چال چلے اور انہی کی طرح اختلاف کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تم لوگ جاؤ۔ پھر کہا کہ اب قریش کے بوڑھوں کو بلاؤ جو فتح مکہ سے پہلے یا (فتح کے ساتھ ہی) مسلمان ہوئے ہیں۔ میں نے ان کو بلایا اور ان میں سے دو نے بھی اختلاف نہیں کیا، سب نے یہی کہا کہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کو لے کر لوٹ جائیں اور ان کو وبا کے سامنے نہ کیجیے۔ آخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں میں منادی کرا دی کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہوں گا (اور مدینہ لوٹوں گا) تم بھی سوار ہو جاؤ۔ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تقدیر سے بھاگتے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ کاش یہ بات کوئی اور کہتا (یا اگر اور کوئی کہتا تو میں اس کو سزا دیتا) {اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما برا جانتے تھے ان کا خلاف کرنے کو} ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔ کیا اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سرسبز اور شاداب ہو اور دوسرا خشک اور خراب ہو اور تم اپنے اونٹوں کو سرسبز اور شاداب کنارے میں چراؤ تو اللہ کی تقدیر سے چرایا اور جو خشک اور خراب میں چراؤ تب بھی اللہ کی تقدیر سے چرایا (سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس چرواہے پر کوئی الزام نہیں ہے بلکہ اس کا فعل قابل تعریف ہے کہ جانوروں کو آرام دیا ایسا ہی میں بھی اپنی رعیت کا چرانے والا ہوں تو جو ملک اچھا معلوم ہوتا ہے ادھر لے جاتا ہوں اور یہ کام تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ عین تقدیر الٰہی ہے)؟ اتنے میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور وہ کسی کام کو گئے ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو اس مسئلہ کی دلیل موجود ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ”جب تم سنو کہ کسی ملک میں وبا پھیلی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر تمہارے ملک میں وبا پھیلے تو بھاگو بھی نہیں۔“ کہا: اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر (اگلے دن) روانہ ہو گئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5784]
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، قال: وَقَالَ لَهُ أَيْضًا: أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَسِرْ إِذًا قَالَ، فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: هَذَا الْمَحِلُّ، أَوَ قَالَ: هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ،
معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور معمر کی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے، کہا: اور انہوں (حضرت عمر رضی اللہ عنہما) نے ان (ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ) سے یہ بھی کہا: آپ کا کیا حال ہے کہ اگر وہ (اونٹ) بنجر کنارے پر چرے اور سرسبز کنارے کو چھوڑ دے تو کیا آپ اسے اس کے عجز اور غلطی پر محمول کریں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو پھر چلیں۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: وہ چل کر مدینہ آئے اور کہا: ان شاء اللہ! یہی (کجاوے) کھولنے کی، یا کہا: یہی اترنے کی جگہ ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5785]
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِث حَدَّثَهُ، وَلَمْ يَقُلْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.
یونس نے اسی سند کے ساتھ ابن شہاب سے خبر دی، مگر انہوں نے کہا: بلاشبہ عبداللہ بن حارث نے انہیں حدیث سنائی اور ”عبداللہ بن عبداللہ“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5786]
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عُمَر َ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ "، فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ، وَعَنْ ابْنِ شِهَاب ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ .
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے، روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہما شام کی طرف روانہ ہوئے، جب سرغ پہنچے تو ان کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں وبا نمودار ہو گئی ہے۔ تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جب تم کسی علاقے میں اس (وبا) کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں وبا نمودار ہو جائے تو اس وبا سے بھاگنے کے لیے وہاں سے نہ نکلو۔“ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سرغ سے لوٹ آئے۔ اور ابن شہاب سے روایت ہے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہما حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو لے کر لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5787]
33: باب لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ غُولَ وَلاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ:
باب: بیماری لگ جانا اور بدشگونی، ہامہ، صفر، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ "، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا، قَال: " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ ".
یونس نے کہا: ابن شہاب نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرض کا کسی دوسرے کو چمٹنا، ماہ صفر کی نحوست اور مقتول کی کھوپڑی سے الوکا نکلنا سب بے اصل ہیں“ تو ایک اعرابی (بدو) نے کہا: تو پھر اونٹوں کا یہ حال کیوں ہوتا ہے کہ وہ صحرا میں ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے ہرن (صحت مند چاق چوبند)، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے، ان میں شامل ہوتا ہے، اور ان سب کو خارش لگا دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگائی تھی؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 5788]
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ، أن أبا هريرة ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ "، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن وغیرہ نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا، نہ بد فالی کی کوئی حقیقت ہے نہ صفر کی نحوست کی اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنے کی۔“ تو ایک اعرابی کہنے لگا: یا رسول اللہ! (آگے) یونس کی حدیث کی مانند (ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5789]
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى "، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَصَالِح، وَعَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ ".
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض کسی دوسرے کو خود بخود نہیں چمٹتا۔“ تو ایک اعرابی کھڑا ہو گیا، پھر یونس اور صالح کی حدیث کی مانند بیان کیا اور شعیب سے روایت ہے، انہوں نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سائب بن یزید بن اخت نمر نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی سے خود بخود مرض چمٹتا ہے نہ صفر کی نحوست کوئی چیز ہے اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5790]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " لَا عَدْوَى "، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا كِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ: لَا عَدْوَى، وَأَقَامَ عَلَى أَنْ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصح، قَالَ: فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ، كُنْتَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى "، فَأَبَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ، وَقَالَ: " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ "، فَمَا رَآهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِكَ حَتَّى غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، فَقَالَ لِلْحَارِثِ: أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ؟، قَالَ: لَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ أَبَيْتُ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى "، فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَة أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الْآخَرَ
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا“ اور وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے (چرواہے) کے پاس اونٹ نہ لے جائے۔“ ابوسلمہ نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے، پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ”لاعدوی“ والی حدیث بیان کرنے سے رک گئے اور ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس (اونٹ) نہ لائے۔“ والی حدیث پر قائم رہے۔ تو حارث بن ابی ذباب نے۔ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچا کے بیٹے تھے۔ کہا: ابوہریرہ! میں تم سے سنا کرتا تھا، تم اس کے ساتھ ایک اور حدیث بیان کرتے تھے جسے بیان کرنے سے اب تم خاموش ہو گئے ہو۔ تم کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے مرض خود بخود نہیں چمٹتا“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو پہنانے سے انکار کر دیا اور یہ حدیث بیان کی۔ ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس (اونٹ) نہ لائے۔“ اس پر حارث نے اس معاملے میں ان کے ساتھ تکرار کی حتی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں ان کو نہ سمجھ میں آنے والی کوئی بات کہی، پھر حارث سے کہا: تمہیں پتہ چلا ہے کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: میں (اس سے) انکار کرتا ہوں۔ ابوسلمہ نے کہا: مجھے اپنی زندگی کی قسم! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ حدیث سنایا کرتے تھے۔ ”لاعدوی (کسی سے خود بخود کوئی بیماری نہیں لگتی)“ مجھے معلوم نہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھول گئے ہیں یا ایک بات نے دوسری کو منسوخ کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5791]
. حدثني مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى " وَيُحَدِّثُ مَعَ ذَلِكَ " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ " بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا: انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض خود بخود دوسرے کو نہیں لگ جاتا۔“ اور اس کے ساتھ یہ بیان کرتے ”بیمار اونٹوں والا (اپنے اونٹ) صحت مند اونٹوں والے کے پاس نہ لائے۔“ یونس کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5792]
حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5793]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ بْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ ".
علاء کے والد (عبدالرحمن) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا، کھوپڑی سے الو کا نکلنا، ستارے کے غائب ہونے اور طلوع ہونے سے بارش برسنا اور صفر (کی نحوست) کی کوئی حقیقت نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5794]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غُولَ ".
ابوخیثمہ (زہیر) نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض لازمی طور پر نہیں چمٹ جاتا۔ نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، نہ چھلاوے (غول بیابانی) کی کوئی حقیقت ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5795]
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا غُولَ وَلَا صَفَرَ ".
یزید تستری نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا، نہ چھلاوا کوئی چیز ہے، نہ صفر کی (نحوست) کوئی حقیقت ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5796]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ "، وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْر ِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ " وَلَا صَفَرَ "، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: الصَّفَرُ الْبَطْنُ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: كَيْفَ؟، قَالَ: كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ، قَالَ: وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ.
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگ جاتا، نہ صفر (کی نحوست) اور چھلاوا کوئی چیز ہے۔“ (ابن جریج نے کہا:) میں نے ابوزبیر کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”(وَلَا صَفَر)“ کی وضاحت کی، ابوزبیر نے کہا: صفر پیٹ (کی بیماری) ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: کیسے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ اس سے پیٹ کے اندر بننے والے جانور مراد ہیں۔ کہا: انہوں نے غول کی تشریح نہیں کی، البتہ ابوزبیر نے کہا: یہ غول (وہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے) جو رنگ بدلتا ہے (اور مسافروں کو راستے سے بھٹکا کر مار ڈالتا ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5797]
34: باب الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ الشُّؤْمُ:
باب: بدفال اور نیک فال کا بیان اور کن چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ "، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفَأْلُ، قَالَ: " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں اور شگون میں سے اچھی نیک فال ہے۔“ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! فال کیا ہے؟ (وہ شگون سے کس طرح مختلف ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(فال) نیک کلمہ ہے تو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5798]
وحدثني عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ عُقَيْل ٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَالَ مَعْمَرٌ.
عقیل بن خالد اور شعیب دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ عقیل کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، انہوں نے ”میں نے سنا“ کے الفاظ نہیں کہے اور شعیب کی حدیث میں ہے۔ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔“ جس طرح معمر نے کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5799]
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ".
ہمام بن یحییٰ نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگتا، برے شگون کی کوئی حقیقت نہیں اور (اس کے بالمقابل) نیک فال یعنی حوصلہ افزائی کا اچھا کلمہ پاکیزہ بات مجھے اچھی لگتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5800]
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ "، قَالَ، قِيلَ: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ".
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگتا، برا شگون کی کوئی چیز نہیں اور مجھے نیک فال اچھی لگتی ہے۔”کہا آپ سے عرض کی گئی: نیک فال کیا ہے؟ فرمایا:”پاکیزہ کلمہ (دعا یا حوصلہ افزائی یا دانائی پر مبنی کوئی جملہ)۔” [صحيح مسلم/حدیث: 5801]
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ عَتِيقٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ ".
یحییٰ بن عتیق نے کہا: ہمیں محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی پر لازمی طور پر بیماری لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں، بد شگونی کوئی شے نہیں اور میں اچھی فال کو پسند کرتا ہوں۔” [صحيح مسلم/حدیث: 5802]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ ".
ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”لازمی طور پر خود بخود کسی سے بیماری لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں، کھوپڑی سے الو نکلنا کوئی چیز نہیں، بد شگونی کچھ نہیں اور میں نیک فال کو پسند کرتا ہوں۔” [صحيح مسلم/حدیث: 5803]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”عدم موافقت (ناسازگاری) گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔” [صحيح مسلم/حدیث: 5804]
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا اور بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔ ناموافقت تین چیزوں میں ہوتی ہے: عورت، گھوڑے اور گھر میں۔” [صحيح مسلم/حدیث: 5805]
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابني عبد الله، عَنْ أَبِيهِمَا ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِى ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ . وحَدَّثَنِي ح عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّؤْمِ بمثل حديث مَالِكٍ لَا يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَى وَالطِّيَرَةَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
سفیان، صالح، عقیل، بن خالد، عبدالرحمن بن اسحاق اور شعیب، ان سب نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے ناموافقت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا، یونس بن یزید کے علاوہ ان میں سے کسی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ”کسی بیماری کے خود بخود کسی دوسرے کو لگ جانے اور بد شگونی“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5806]
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہونا برحق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہے۔” [صحيح مسلم/حدیث: 5807]
وحدثني هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ حَقٌّ.
روح بن عبادہ نے کہا: شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی لیکن انہوں نے ”برحق“ نہیں کہا: (امکان یہی ہے کہ وہ حدیث روایت بالمعنی ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5808]
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ وَالْمَرْأَةِ ".
حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کسی چیز میں عدم موافقت ہو تو گھوڑے، مکان اور عورت میں ہوگی۔” [صحيح مسلم/حدیث: 5809]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ، فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ " يَعْنِي الشُّؤْمَ.
امام مالک نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر یہ بات ہو تو عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوگی۔”آپ کی مراد عدم موافقت سے تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5810]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہشام بن سعد نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5811]
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُخْبِرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ، فَفِي الرَّبْعِ وَالْخَادِمِ وَالْفَرَسِ.
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کسی چیز میں یہ بات ہوگی تو گھر، خادم اور گھوڑے میں ہوگی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5812]
35: باب تَحْرِيمِ الْكِهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ:
باب: کہانت کی حرمت اور کاہنوں کے پاس جانے کا حرمت۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قال: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ: " فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ "، قَال، قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ، قَالَ: " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے، انہوں نے حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کچھ کام ایسے تھے جو ہم زمانۂ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم کاہنوں کے پاس نہ جائیں۔“میں نے عرض کی: ہم بد شگونی لیتے تھے، آپ نے فرمایا:”یہ (بد شگونی) محض ایک خیال ہے جو کوئی انسان اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، یہ تمہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5813]
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا فِي حَدِيثِهِ ذَكَرَ الطِّيَرَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْكُهَّانِ.
عقیل، معمر، ابن ابی ذئب اور مالک، ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کے ہم معنی روایت کی، مگر مالک نے اپنی حدیث میں بد شگونی کا نام لیا ہے، اس میں کاہنوں کا ذکر نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5814]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِير ٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَة، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ.
حجاج صواف اور اوزاعی، دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زہری کی ابوسلمہ سے اور ان کی معاویہ سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی، اور یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے، کہا: میں نے عرض کی: ہم میں ایسے لوگ ہیں جو (مستقبل کا حال بتانے کے لیے) لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچتے تھے، جو ان کی لکیروں سے موافقت کر گیا تو وہ ٹھیک ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5815]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْكُهَّانَ كَانُوا يُحَدِّثُونَنَا بِالشَّيْءِ، فَنَجِدُهُ حَقًّا، قَالَ: " تِلْكَ الْكَلِمَةُ الْحَقُّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ، وَيَزِيدُ فِيهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کاہن کسی چیز کے بارے میں جو ہمیں بتایا کرتے تھے (ان میں سے کچھ) ہم درست پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ سچی بات ہوتی ہے جسے کوئی جن اچک لیتا ہے اور وہ اس کو اپنے دوست (کاہن) کے کان میں پھونک دیتا ہے اور اس ایک سچ میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5816]
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَي بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسُوا بِشَيْءٍ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّيْءَ يَكُونُ حَقًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ".
معقل بن عبید اللہ نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے یحییٰ بن عروہ نے بتایا کہ انہوں نے عروہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ کچھ نہیں ہیں۔“صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! وہ لوگ بعض اوقات ایسی چیز بتاتے ہیں جو سچ نکلتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ جنوں کی بات ہوتی ہے، ایک جن اسے (آسمان کے نیچے سے) اچک لیتا تھا پھر وہ اسے اپنے دوست (کاہن) کے کان میں مرغی کی کٹ کٹ کی طرح کٹکٹاتا رہتا ہے۔ اور وہ اس (ایک) بات میں سو زیادہ جھوٹ ملا دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5817]
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْقِلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ابن جریج نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ معقل کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5818]
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، قَالَ حَسَنٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَقَالَ عَبد: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أبى عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ "، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ، إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ، قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ، وَيَزِيدُونَ ".
صالح نے ابن شہاب سے، روایت کی: کہا مجھے علی بن حسین نے حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک انصاری نے مجھے بتایا کہ ایک بار وہ لوگ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ ایک ستارے سے کسی چیز کو نشانہ بنایا گیا اور وہ روشن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:”جب جاہلیت میں اس طرح ستارے سے نشانہ لگایا جاتا تھا تو تم لوگ کیا کہا کرتے تھے؟“لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں ہم یہی کہا کرتے تھے کہ آج رات کسی عظیم انسان کی ولادت ہوئی ہے اور کوئی عظیم انسان فوت ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اسے کسی کی زندگی یا موت کی بنا پر نشانے کی طرف نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ ہمارا رب، اس کا نام برکت والا اور اونچا ہے، جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش (زور سے) تسبیح کرتے ہیں، پھر ان سے نیچے والے آسمان کے فرشتے تسبیح کا ورد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ تسبیح کا ورد (دنیا کے) اس آسمان تک پہنچ جاتا ہے، پھر حاملین عرش کے قریب کے فرشتے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے کیا فرمایا پھر (مختلف) آسمانوں والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ خبر دنیا کے اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے تو جن بھی جلدی سے اس کی کچھ سماعت اچکتے ہیں اور اپنے دوستوں (کاہنوں) تک چھینکتے ہیں (اس خبر کو پہنچا دیتے ہیں) اور وہ صحیح طور پر لاتے ہیں وہ سچ تو ہوتی ہے لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے اور اضافہ کردیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5819]
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ، قال: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّهُ: حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، قَالُوا: الْحَقَّ، وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
اوزاعی، یونس اور معقل بن عبید اللہ سب نے زہری سے، اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر یونس نے کہا: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: مجھے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خبر دی اور اوزاعی کی حدیث میں ہے:”لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور بڑھاتے ہیں۔“اور یونس کی حدیث میں ہے:”لیکن وہ اونچا لے جاتے ہیں (مبالغہ کرتے ہیں) اور بڑھاتے ہیں۔“یونس کی حدیث میں مزید یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے ہیبت اور ڈر کو ہٹا لیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں حق کہا۔ اور معقل کی حدیث میں اسی کی طرح ہے جس طرح اوزاعی نے کہا:”لیکن وہ اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور اضافہ کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5820]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ".
(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اہلیہ) صفیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”جو شخص کسی غیب کی خبریں سنانے والے کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو چالیس راتوں تک اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5821]
36: باب اجْتِنَابِ الْمَجْذُومِ وَنَحْوِهِ:
باب: جذامی سے پرہیز کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال: " كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ فَارْجِعْ ".
عمرو بن شرید نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ثقیف کے وفد میں کوڑھ کا مریض بھی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا:”ہم نے (بالواسطہ) تمہاری بیعت لے لی ہے، اس لیے تم (اپنے گھر) لوٹ جاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5822]
37: باب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا:
باب: سانپوں وغیرہ کو مارنے کا بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ، فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ، وَيُصِيبُ الْحَبَلَ ".
عبدہ بن سلیمان اور ابن نمیر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ پر دو سفید لکیروں والے سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا، کیونکہ وہ بصارت چھین لیتا ہے اور حمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5823]
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ الْأَبْتَرُ، وَذُو الطُّفْيَتَيْنِ.
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اس سند کے ساتھ حدیث سنائی اور کہا: بے دم کا سانپ اور پشت پر دو سفید لکیروں والا سانپ (مار دیا جائے۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5824]
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ، وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ "، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا، فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی:”سانپوں کو قتل کردو اور (خصوصاً) دو سفید لکیروں والے اور دم بریدہ کو، کیونکہ یہ حمل گرادیتے ہیں اور بصارت زائل کردیتے ہیں۔“(سالم نے) کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انہوں نے کہا: لمبی مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو (فوری طور پر) مار دینے سے منع کیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5825]
وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، يَقُولُ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلَابَ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَنُرَى ذَلِكَ مِنْ سُمَّيْهِمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَلَبِثْتُ لَا أَتْرُكُ حَيَّةً أَرَاهَا إِلَّا قَتَلْتُهَا، فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً يَوْمًا مِنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ، مَرَّ بِي زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ أَبُو لُبَابَةَ وَأَنَا أُطَارِدُهَا، فَقَالَ: مَهْلًا يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
زبیدی نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ (آوارہ کتوں کو مار دینے کا حکم دیتے تھے، آپ نے فرمایا:”سانپوں اور کتوں کو مار دو اور سفید دھاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو (ضرور) مارو، وہ دونوں بصارت زائل کردیتے ہیں اور حاملہ عورتوں کا اسقاط کرادیتے ہیں۔“زہری نے کہا: ہمارا خیال ہے یہ ان دونوں کے زہر کی بنا پر ہوتا ہے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے اور ان سے تابعین اور محدثین نے یہی مفہوم اخذ کیا۔ یہی حقیقت ہے) واللہ اعلم۔ سالم نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ایک عرصہ تک کسی بھی سانپ کو دیکھتا تو نہ چھوڑتا، اسے مار دیتا۔ ایک روز میں مدت سے گھر میں رہنے والے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا کہ زید بن خطاب یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو کہنے لگے: عبداللہ! رک جاؤ۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار دینے کا حکم دیا ہے، انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں (کے قتل) سے روکا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5826]
وحدثينيه حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حدثنا أبى ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ صَالِحًا، قال: حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَا: إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ "، وَلَمْ يَقُلْ: " ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ ".
یونس، معمر اور صالح سب نے ہمیں زہری سے، اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی، البتہ صالح نے کہا: یہاں تک کہ ابولبابہ بن عبدالمنذر اور زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے (سانپ کا پیچھا کرتے ہوئے) دیکھا تو دونوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں سے روکا ہے۔ اور یونس کی حدیث میں ہے:”سانپوں کو قتل کرو“انہوں نے ”دو سفید دھاریوں والے اور دم کٹے“ کے الفاظ نہیں کہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5827]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ كَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : لَا تَقْتُلُوهُ فَإِنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ ".
لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی کہ وہ ان کے لیے اپنے گھر (کے احاطے) میں ایک دروازہ کھول دیں جس سے وہ مسجد کے قریب آجائیں تو لڑکوں کو سانپ کی ایک کینچلی ملی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کو قتل مت کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چھپے ہوئے سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا ہے جو گھروں کے اندر ہوتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5828]
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قال: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ، حَتَّى حَدَّثَنَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْبَدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ فَأَمْسَكَ ".
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں نافع نے حدیث سنائی کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو مار ڈالتے تھے، حتیٰ کہ حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر بدری رضی اللہ عنہ نے ہم لوگوں کو یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدت سے) گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رک گئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5829]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ ".
عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھریلو) سانپوں کے مارنے سے منع فرمایا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5830]
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ ".
نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا جو گھروں میں رہتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5831]
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ سَعِيدٍ ، يقول: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ مَسْكَنُهُ بِقُبَاءٍ فَانْتَقَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسًا مَعَهُ يَفْتَحُ خَوْخَةً لَهُ، إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ مِنْ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ، فَأَرَادُوا قَتْلَهَا، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : " إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْهُنَّ يُرِيدُ عَوَامِرَ الْبُيُوتِ، وَأُمِرَ بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ، وَقِيلَ هُمَا اللَّذَانِ يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ، وَيَطْرَحَانِ أَوْلَادَ النِّسَاءِ ".
یحییٰ بن سعید کہہ رہے تھے: مجھے نافع نے خبر دی کہ حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر انصاری رضی اللہ عنہ، اور ان کا گھر قباء میں تھا وہ مدینہ منورہ منتقل ہو گئے۔ ایک دن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے (ان کی خاطر) اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انہوں نے ایک سانپ دیکھا جو گھر آباد کرنے والے (مدت سے گھروں میں رہنے والے) سانپوں میں سے تھا۔ گھروالوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو، ان کی مراد گھروں میں رہنے والے سانپوں سے تھی، مارنے سے منع کیا گیا تھا۔ اور دم کٹے اور دو سفید دھاریوں والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ کہا گیا: یہی دو سانپ ہیں جو نظر چھین لیتے ہیں اور عورتوں کے (پیٹ کے) بچوں کو گرادیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5832]
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمًا عِنْدَ هَدْمٍ لَهُ، فَرَأَى وَبِيصَ جَانٍّ، فَقَالَ: اتَّبِعُوا هَذَا الْجَانَّ فَاقْتُلُوهُ، قَالَ أَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ : إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ، إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا اللَّذَانِ يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ، وَيَتَتَبَّعَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ ".
عمر بن نافع نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک دن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے گرے ہوئے حصے کے قریب موجود تھے کہ انہوں نے اچانک سانپ کی ایک کینچلی دیکھی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس سانپ کو تلاش کر کے قتل کردو۔ حضرت ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے ان سانپوں کو، جو گھروں میں رہتے ہیں قتل کرنے سے منع فرمایا، سوائے دم کٹے اور دو سفید دھاریوں والے سانپوں کے کیونکہ یہی دو سانپ ہیں جو نظر کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے حمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5833]
وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ نَافِعًاحَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ مَرَّ بِابْنِ عُمَرَ وَهُوَ عِنْدَ الْأُطُمِ الَّذِي عِنْدَ دَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَرْصُدُ حَيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.
اسامہ کو نافع نے حدیث سنائی کہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، وہ اس قلعے نما حصے کے پاس تھا جو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رہائش گاہ کے قریب تھا، وہ اس میں ایک سانپ کی تاک میں تھے، جس طرح لیث بن سعد کی (حدیث: 5828) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5834]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي، قَالَ يَحْيَي وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1، فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً، إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ: " اقْتُلُوهَا "، فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر (سورۃ) وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا نازل ہوئی، ہم اس سورت کو تازہ بہ تازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے حاصل کر (سیکھ رہے تھے) کہ اچانک ایک سانپ نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس کو مار دو۔“ہم اس کو مارنے کے لیے جھپٹے تو وہ ہم سے آگے بھاگ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے (ہاتھوں) نقصان پہنچنے سے بچا لیا جس طرح تمہیں اس کے نقصان سے بچا لیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5835]
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
جریر اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5836]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى ".
ابوکریب نے کہا: ہمیں حفص نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں احرام والے ایک شخص کو سانپ مارنے کا حکم دیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5837]
وحدثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ.
عمر بن حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابراہیم نے اسود سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غار میں تھے جس طرح جریر اور ابومعاویہ کی حدیث ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5838]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَى ابْنِ أَفْلَح ، أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ؟، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ، فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ "، فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ، فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً، فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ، وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمْ الْفَتَى، قَالَ: فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، وَقُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا، فَقَالَ: " اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا، فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ".
امام مالک بن انس نے، ابن افلح کے آزاد کردہ غلام صیفی سے روایت کی، کہا: مجھے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابوسائب نے بتایا کہ وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گئے۔ ابوسائب نے کہا کہ میں نے ان کو نماز میں پایا تو بیٹھ گیا۔ میں نماز پڑھ چکنے کا منتظر تھا کہ اتنے میں ان لکڑیوں میں کچھ حرکت کی آواز آئی جو گھر کے کونے میں رکھی تھیں۔ میں نے ادھر دیکھا تو ایک سانپ تھا۔ میں اس کے مارنے کو دوڑا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جا۔ میں بیٹھ گیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے ایک کوٹھری دکھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ کوٹھری دیکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں، انہوں نے کہا کہ اس میں ہم لوگوں میں سے ایک جوان رہتا تھا، جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف نکلے۔ وہ جوان دوپہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر گھر آیا کرتا تھا۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریظہ کا ڈر ہے (جنہوں نے دغابازی کی تھی اور موقع دیکھ کر مشرکوں کی طرف ہو گئے تھے)۔“اس شخص نے اپنے ہتھیار لے لیے۔ جب اپنے گھر پر پہنچا تو اس نے اپنی بیوی کو دیکھا کہ دروازے کے دونوں پٹوں کے درمیان کھڑی ہے۔ اس نے غیرت سے اپنا نیزہ اسے مارنے کو اٹھایا تو عورت نے کہا کہ اپنا نیزہ سنبھال اور اندر جا کر دیکھ تو معلوم ہوگا کہ میں کیوں نکلی ہوں۔ وہ جوان اندر گیا تو دیکھا کہ ایک بڑا سانپ کنڈلی مارے ہوئے بچھونے پر بیٹھا ہے۔ جوان نے اس پر نیزہ اٹھایا اور اسے نیزہ میں پرو لیا، پھر نکلا اور نیزہ گھر میں گاڑ دیا۔ وہ سانپ اس پر لوٹا اس کے بعد ہم نہیں جانتے کہ سانپ پہلے مرا یا جوان پہلے شہید ہوا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا قصہ بیان کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اس جوان کو پھر جلا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اپنے ساتھی کے لیے بخشش کی دعا کرو۔“پھر فرمایا:”مدینہ میں جن رہتے ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں، پھر اگر تم سانپوں کو دیکھو تو تین دن تک ان کو خبردار کرو، اگر تین دن کے بعد بھی نہ نکلیں تو ان کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہیں (یعنی کافر جن ہیں یا شریر سانپ ہیں)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5839]
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حدثنا أبى ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ ، قال: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً، فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ، حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا، فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا فَإِنْ ذَهَبَ، وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ "، وَقَالَ لَهُمْ: " اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ ".
جریر بن حازم نے کہا: میں نے اسماء بن عبید کو ایک آدمی سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جسے سائب کہا جاتا تھا۔ وہ ہمارے نزدیک ابوسائب ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، ہم بیٹھے ہوئے تھے جب ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے (کسی چیز کی) حرکت کی آواز سنی۔ ہم نے دیکھا تو وہ ایک سانپ تھا، پھر انہوں نے پورے واقعے سمیت صیفی سے امام مالک کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان گھروں میں کچھ مخلوق آباد ہے۔ جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی کرو (تاکہ وہ خود وہاں سے کہیں اور چلے جائیں) اگر وہ پہلے جائیں (تو ٹھیک) ورنہ ان کو مار دو کیونکہ پھر وہ (نہ جانے والا) کافر ہے۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:”جاؤ اور اپنے ساتھی کو دفن کردو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5840]
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال: سَمِعْتُهُ قَالَ: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْعَوَامِرِ، فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا، فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ، فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ".
ابن عجلان نے کہا: مجھے صیفی نے ابوسائب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے ان (حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) کو یہ کہتے ہوئے سنا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مدینہ میں جنوں کی کچھ نفری رہتی ہے جو مسلمان ہو گئے ہیں جو شخص ان (پرانے) رہائشیوں میں سے کسی کو دیکھے تو تین دن تک اسے (جانے کو) کہتا رہے۔ اس کے بعد اگر وہ اس کے سامنے نمودار ہو تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان (ایمان نہ لانے والا جن) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5841]
38: باب اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ:
باب: گرگٹ مارنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر بن ناقد، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، اسحاق نے کہا: ہمیں خبر دی جبکہ دیگر نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی، سفیان بن عیینہ نے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھپکلیوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ”(ان کا حکم دیا)“ کے بجائے صرف ”حکم دیا“ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5842]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْوِزْغَانِ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا "، وَأُمُّ شَرِيكٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ قَرِيبٌ مِنْهُ.
ابوطاہر نے کہا: ہمیں ابن وہب نے بتایا کہا، مجھے ابن جریج نے خبر دی۔ اور محمد بن احمد بن ابی خلف نے کہا: ہمیں روح نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی۔ اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں محمد بن بکر نے بتایا، کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے عبدالحمید بن جبیر نے ام شریک رضی اللہ عنہا سے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپکلی کو مارنے کے متعلق آپ کا حکم پوچھا تو آپ نے اسے مار دینے کا حکم دیا۔ ام شریک رضی اللہ عنہا بنو عامر بن لؤی کی ایک خاتون تھیں (محمد بن احمد بن ابی خلف اور عبدبن حمید کی حدیث کے الفاظ ایک ہیں اور ابن وہب کی حدیث اس سے قریب ہے)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5843]
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا ".
عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام چھوٹی فاسق رکھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5844]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ " زَادَ حَرْمَلَةُ، قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ.
ابوطاہر اور حرملہ نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے یونس نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو فویسق (چھوٹی فاسق) کہا۔ حرملہ نے (اپنی) روایت میں یہ اضافہ کیا: (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو قتل کرنے کا حکم نہیں سنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5845]
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً لِدُونِ الثَّانِيَةِ ".
خالد بن عبداللہ نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپکلی کو قتل کر دیا اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں مارا اس کے لیے اتنی اتنی پہلی سے کم نیکیاں ہیں اور اگر تیسری ضرب سے مارا تو اتنی اتنی نیکیاں ہیں دوسری سے کم (بتائیں)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5846]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاءَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّهُمْ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ خَالِدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ إِلَّا جَرِيرًا وَحْدَهُ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ " مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِكَ ".
ابوعوانہ، جریر، اسماعیل بن زکریا اور سفیان سب نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، جس طرح سہیل سے خالد کی روایت ہے سوائے اکیلے جریر کے انہوں نے اپنی روایت کردہ حدیث میں کہا:”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار دیا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی گئیں۔ دوسری ضرب میں اس سے کم اور تیسری ضرب میں اس سے کم۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5847]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاح ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاء ، عَنْ سُهَيْلٍ ، حَدَّثَتْنِي أُخْتِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً ".
محمد بن صباح نے کہا: ہمیں اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے میری بہن (سودہ بنت ابوصالح رضی اللہ عنہا) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پہلی ضرب میں ستر نیکیاں ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5848]
39: باب النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النَّمْلِ:
باب: چیونٹی کے مارنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة بن عبد الرحمن عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ، فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ ".
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”(پہلے) انبیاء میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کے بارے میں حکم دیا تو وہ جلا دی گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے آپ نے امتوں میں سے ایک ایسی امت (بڑی آبادی) کو ہلاک کر دیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 5849]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”(پہلے) انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے (آرام کرنے کے لیے سواری سے) اترے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا۔ انہوں نے اس کے پورے بل کے بارے میں حکم دیا، اسے نیچے سے نکل دیا گیا پھر حکم دیا ان کو جلا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں (سزا) نہ (دی؟)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5850]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ، قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”(پہلے) انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے فروکش ہوئے انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ان کی پوری آبادی کے بارے میں حکم دیا، اسے نیچے سے (کھود کر) نکال لیا گیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا تو اس (پوری آبادی) کو آگ سے جلا دیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: (اس ایک ہی کو کیوں (سزا) نہ (دی؟)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5851]
40: باب تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ:
باب: بلی کے مارنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ، سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ".
جویریہ بن اسماء نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک عورت کو بلی کے سبب سے عذاب دیا گیا، اس نے بلی کو قید کر کے رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ وہ عورت اس کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی، اس عورت نے جب بلی کو قید کیا تو نہ اس کو کھلایا نہ پلایا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے اندر اور اوپر رہنے والے چھوٹے چھوٹے جانور کھا لیتی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5852]
وحدثني نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
عبید اللہ بن عمر نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، اسی طرح (عبید اللہ بن عمر نے) نے سعید مقبری سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5853]
وحدثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5854]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ، لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ".
عبدہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک عورت کو بلی کے معاملے میں عذاب دیا گیا۔ اس عورت نے نہ اسے کھلایا نہ پلایا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے چھوٹے جانور کھا لیتی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5855]
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا رَبَطَتْهَا، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ،
ابومعاویہ اور خالد بن حارث نے ہمیں حدیث سنائی کہا: ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان دونوں کی حدیث میں ہے:”اس عورت نے اسے باندھ دیا۔“اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے:”حشرات الارض (زمین کے کیڑے مکوڑے) (کھا لیتی)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5856]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قال: قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،
حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہشام کی اس حدیث کے ہم معنی روایت کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5857]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، ان کی حدیث کی طرح روایت کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5858]
41: باب فَضْلِ سَاقِي الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا:
باب: جانوروں کو پلانے اور کھلانے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا، فَقَالَ: " فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ ".
ابو صالح سمان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار ایک شخص راستے میں چلا جا رہا تھا، اس کو شدید پیاس لگی، اسے ایک کنواں ملا، وہ اس کنویں میں اترا اور پانی پیا، پھر وہ کنویں سے نکلا، تو اس کے سامنے ایک کتا زور زور سے ہانپ رہا تھا، پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا تھا، اس شخص نے (دل میں) کہا: یہ کتا بھی پیاس سے اسی حالت کو پہنچا ہے جو میری ہوئی تھی۔ وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے کو پانی سے بھرا، پھر اس کو منہ سے پکڑا، یہاں تک کہ اوپر چڑھ آیا، پھر اس نے کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس نیکی کا بدلہ دیا، اس کو بخش دیا۔“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ان جانوروں میں اجر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نمی رکھنے والے ہر جگر میں (کسی بھی جاندار کا ہو) اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5859]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا ".
ہشام نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتا دیکھا جو ایک کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ پیاس کی وجہ سے اس نے زبان باہر نکالی ہوئی تھی اس عورت نے اس کی خاطر اپنا موزہ اتارا (اور اس کے ذریعے پانی نکال کر اس کتے کو پلایا) تو اس کو بخش دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5860]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ، فَغُفِرَ لَهَا بِهِ ".
ایوب سختیانی نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک کتا ایک (گہرے، کچے) کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور پیاس کی شدت سے مرنے کے قریب تھا کہ بنی اسرائیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک فاحشہ نے اس کو دیکھا تو اس نے اپنا موٹا موزہ اتارا اور اس کے ذریعے سے اس (کتے) کے لیے پانی نکالا اور وہ پانی اسے پلایا تو اس بنا پر اس کو بخش دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5861]
← پچھلی کتاب #40 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #42 →