صحيح مسلم حدیث نمبر: 5788
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2220
Sahih Muslim 5788
کتاب #39: سلامتی اور صحت کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ "، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا، قَال: " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ ".
یونس نے کہا: ابن شہاب نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرض کا کسی دوسرے کو چمٹنا، ماہ صفر کی نحوست اور مقتول کی کھوپڑی سے الوکا نکلنا سب بے اصل ہیں“ تو ایک اعرابی (بدو) نے کہا: تو پھر اونٹوں کا یہ حال کیوں ہوتا ہے کہ وہ صحرا میں ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے ہرن (صحت مند چاق چوبند)، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے، ان میں شامل ہوتا ہے، اور ان سب کو خارش لگا دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگائی تھی؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 5788]