صحيح مسلم حدیث نمبر: 5763
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2214.01
📖 صحيح مسلم باب:39 حدیث نمبر : 116
Sahih Muslim 5763
کتاب #39: سلامتی اور صحت کا بیان
28: باب التَّدَاوِي بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَهُوَ الْكُسْتُ:
باب: عود ہندی کے ذریعے علاج کرنے کے بیان میں۔
قَالَتْ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ".
انھوں نے ( ام قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : میں اپنے ایک بچے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہو ئی ، میں نے اس کے گلے میں سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے اوپر کی طرف دبایا تھا ( تا کہ سوزش کی وجہ سے لٹکا ہوا حصہ اوپر ہو جا ئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " تم انگلیوں کے دباؤ کے ذریعے سے اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ ( آپ نے بچوں کے لیے اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ناپسند فرما یا ۔ ) تم عودہندی کا استعمال لا زم کر لو ۔ اس میں ساتھ اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا حلق کی سوزش کے لیے اس کو ناک کے راستے استعمال کیا جا تا ہے ۔ اور نمونیے کے لیے اسے منہ میں انڈیلا جا تا ہے ۔