📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام 54 کتب ↗

كِتَاب الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا

کتاب #40: ادب اور دوسری باتوں (عقیدے اور انسانی رویوں) سے متعلق الفاظ

کتاب کے ابواب • حدیث: 5862 تا 5884 • کل احادیث: 23
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ:
باب: زمانے کو برا کہنے کی ممانعت۔
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا:”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم ہر (وقت، زمانے) کو برا کہتا ہے جبکہ (رب) دہر میں ہی ہوں۔ رات اور دن (جنہیں انسان وقت کہتا ہے) میرے ہاتھ میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5862]
وحَدَّثَنَاه وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ".
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے (ناراض کرتا ہے) وہ زمانے کو برا کہتا ہے جبکہ میں ہی (رب) دہر ہوں، رات اور دن کو پلٹتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5863]
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَقُولُ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا ".
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ کہتا ہے: ہائے زمانے (وقت) کی نامرادی! تم میں سے کوئی ہائے زمانے کی نامرادی! (جیسا جملہ) نہ کہے، کیونکہ دہر (کا مالک) میں ہوں۔ رات اور دن کو پلٹتا ہوں اور میں جب چاہوں گا ان کی بساط لپیٹ دوں گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5864]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ ہائے زمانے کی نامرادی! کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانے (کا مالک) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5865]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ ".
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”زمانے کو برا مت کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ (کا مالک) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5866]
2: باب كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًا:
باب: انگور کو کرم کہنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَسُبُّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ: الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ".
ایوب نے ابن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا نہ کہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانے (کا مالک) ہے اور تم میں سے کوئی شخص عنب (انگور اور اس کی بیل) کو کرم نہ کہے، کیونکہ کرم (اصل میں) مسلمان آدمی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5867]
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُولُوا: كَرْمٌ، فَإِنَّ الْكَرْمَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ".
سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”(انگور اور اس کی بیل کو) کرم نہ کہو، کیونکہ (حقیقت میں) کرم مومن کا دل ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5868]
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ: الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ".
ہشام نے ابن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا:”(انگور اور اس کی بیل) کو کرم نہ کہو، کیونکہ کرم (اصل میں) مسلمان آدمی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5869]
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: الْكَرْمُ، فَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (انگور اور اس کی بیل کو) کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مومن کا دل ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5870]
وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ: الْكَرْمَ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں۔ انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ان میں یہ بھی تھی: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص انگور اور اس کی بیل کو کرم نہ کہے، کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5871]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: الْحَبْلَةُ يَعْنِي الْعِنَبَ.
عیسیٰ بن یونس نے شعبہ سے، انہوں نے سماک بن حرب سے، انہوں نے علقمہ بن وائل سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”(انگور اور اس کی بیل کو) کرم نہ کہا کرو۔ لیکن حبلہ کہہ لو۔“آپ کی مراد انگور سے تھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5872]
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: الْعِنَبُ وَالْحَبْلَةُ ".
عثمان بن عمر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے علقمہ بن وائل سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”کرم نہ کہو عنب اور حبلہ (انگور کی بیل) کہہ لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5873]
3: باب حُكْمِ إِطْلاَقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ وَالْمَوْلَى وَالسَّيِّدِ:
باب: عبد یا امة یا مولیٰ یا سید، ان لفظوں کے بولنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، وَأَمَتِي، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي، وَجَارِيَتِي، وَفَتَايَ، وَفَتَاتِي ".
لاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔ البتہ یوں کہہ سکتا ہے: میرا لڑکا، میری لڑکی، میرا جوان، خادم، میری خادمہ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5874]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ، وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي ".
جریر اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی غلام کو) میرا بندہ نہ کہے، پس تم سب اللہ کے بندے ہو، البتہ یہ کہہ سکتا ہے: میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے: میرا رب (پالنے والا) البتہ میرا سید (آقا) کہہ سکتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5875]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ: مَوْلَايَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ: فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے:”غلام اپنے آقا کو میرا مولا نہ کہے۔“ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفاظ ہیں:”کیونکہ تمہارا مولا اللہ عزوجل ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5876]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اسْقِ رَبَّكَ، أَطْعِمْ رَبَّكَ، وَضِّئْ رَبَّكَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: رَبِّي، وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي مَوْلَايَ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي، وَلْيَقُلْ: فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں (ایک یہ) ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (اپنے غلام یا کنیز سے) یہ نہ کہے: اپنے رب (پالنہار) کو پلاؤ، اپنے رب کو کھلاؤ، اپنے رب کو وضو کراؤ۔“اور فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولا کہے۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، البتہ یوں کہے: میرا خادم، جوان، میری خادمہ، میرا لڑکا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5877]
4: باب كَرَاهَةِ قَوْلِ الإِنْسَانِ خَبُثَتْ نَفْسِي:
باب: یہ کہنا کہ میرا نفس پلیدہ ہو گیا، مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي "، هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَكِنْ،
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی۔ ابوکریب محمد بن علاء نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی۔ ان دونوں (سفیان اور ابواسامہ) نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: میرا جی (نفس، اپنا آپ) گندا ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہے: میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے۔“یہ ابوکریب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور ”لیکن“ کا لفظ نہیں کہا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5878]
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5879]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلْيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي ".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: میرا جی گندا ہو گیا ہے، بلکہ یہ کہے: میرا جی بوجھل ہو گیا ہے (یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5880]
5: باب اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ:
باب: بہتر خوشبو مشک کا بیان اور خوشبو کو پھیر دینے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ، ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا، وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ، فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ، فَلَمْ يَعْرِفُوهَا، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا "، وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ.
ابواسامہ نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے خلید بن جعفر نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”بنی اسرائیل میں ایک پستہ قد عورت دو لمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں (ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا) بنوائیں اور سونے کی ایک بند، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سے اچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں (لمبی عورتوں) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔“اور شعبہ نے (شاگردوں کو دکھانے کے لیے) اپنا ہاتھ جھٹکا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5881]
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَالْمُسْتَمِرِّ ، قَالَا: سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا، وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ.
یزید بن ہارون نے شعبہ سے، انہوں نے خلید بن جعفر اور مستمر سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: ہم نے ابونضرہ کو سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا ذکر کیا، اس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھر لی تھی اور کستوری سب سے اچھی خوشبو ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5882]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْمُقْرِئِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ ".
عبدالرحمٰن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص کو ریحان (خوشبو دار پھول یا ٹہنی) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھانے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5883]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَبُو طَاهِرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: " كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ، اسْتَجْمَرَ بِالْأَلُوَّةِ غَيْرَ مُطَرَّاةٍ، وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
نافع نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب خوشبو کا دھواں لیتے تو عود کا دھواں لیتے، اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہوتی اور کافور کا دھواں لیتے۔ اس میں کچھ عود ملا لیتے، پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خوشبو کا دھواں لیتے (اور کپڑوں میں بساتے) تھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5884]
← پچھلی کتاب #41 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #43 →