كِتَاب الشِّعْرِ
شعر و شاعری کا بیان
کتاب #43 • کل احادیث: 12
|
1ق: باب فِي إِنْشَادِ الْاشْعَارِ وَبَيَانِ أَشْعَرِ الْكَلِمَةِ وَذَمِّ الشعْرِ
باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هِيهْ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: هِيهْ، ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: هِيهْ، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ ".
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر ، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی ۔ ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ابرا ہیم بن میسرہ سے روایت ہے ، انھوں نے عمرو بن شرید سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا : ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرما یا : " کیا تمھیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟ " میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ آپ نے فرما یا : " تو لا ؤ ( سناؤ ۔ ) میں نے آپ کو ایک شعر سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنا یا ۔ آپ نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنایا ۔ آپ نے فر ما یا : " اورسناؤ ۔ " یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سواشعار سنا ئے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّرِيدِ ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
زہیر بن حرب اور احمد بن عبد ہ دونوں نے ابن عیینہ سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن میسرہ سے انھوں نے عمرو بن شرید یا یعقوب بن عاصم سے ، انھوں نے حضرت شرید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ سوار کیا ، اس کے بعد اسی کے مانند حدیث بیان کی ،
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَزَادَ قَالَ: إِنْ كَادَ لِيُسْلِمُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ: فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ.
معتمر بن سلیمان اور عبد الرحمٰن بن مہدی دونوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن طائفی سے ، انھوں نے عمروبن شریدسے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کے لیے فرما یا ، ابرا ہیم بن میسرہ کی روایت کے مانند اور مزید یوں کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا " قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا ۔ " اور ابن مہدی کی حدیث میں ہے : " وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہو نے کے قریب تھا ۔ " ( اس نے تقریباً وہی باتیں کیں جو ایک مسلمان کہہ سکتا ہے ۔)
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جميعا، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
شریک نے عبد الملک بن عمیر سے انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے : " سن رکھو !اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " ( دوسرا مصرع ہے : وكلُّ نعيمٍ لا مَحالة َ زائِلُ " اور ہر نعمت لا زمی طور پر زائل ہو نے والی ہے)
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ، أَنْ يُسْلِمَ.
سفیان نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجاتا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.
زائد ہ نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی بھی شاعرکا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے ۔ " سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جا تا ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے انھو ں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فرما یا : " شاعروں کے کلا م میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے ۔ " سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ.
اسرائیل نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سےروایت کی ، ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " انھوں ( اسرائیل ) نے اس پر کو ئی اضافہ نہیں کیا ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِلَّا أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ يَرِيهِ.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا ہمیں حفص اور ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( ابو معاویہ اور حفص ) نے اعمش سے روایت کی ، ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی انسا ن کے پیٹ میں پیپ بھر جا نا جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے ، شعر کے ساتھ بھر جا نے کی نسبت بہتر ہے ۔ " ابو بکر نے کہا : مگر حفص نے " يَريهِ " ( جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے ) کے الفا ظ روایت نہیں کیے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جا ئے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جا ئے ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ يُحَنِّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ، إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا الشَّيْطَانَ، أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ " عرج " کے علاقے میں جا رہے تھے کہ ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا سامنے سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " شیطان کو پکڑو ، یا ( فرما یا ) شیطان کوروکو ، انسان کے پیٹ کا پیپ سے بھر جا نا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے ۔
|
|
|
1: باب تَحْرِيمِ اللَّعِبِ بِالنَّرْدَشِيرِ:
باب: چوسر کھیلنا حرام ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ ".
سلیمان کے والد حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس شخص نے چوسر کھیلی تو گویا اس نے اپنے ہاتھ کو خنزیر کے خون اور گو شت سے رنگ لیا ۔
|
|