كِتَاب الشِّعْرِ
کتاب #41: شعر و شاعری کا بیان
|
1ق: باب فِي إِنْشَادِ الْاشْعَارِ وَبَيَانِ أَشْعَرِ الْكَلِمَةِ وَذَمِّ الشعْرِ
باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هِيهْ، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: هِيهْ، ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ: هِيهْ، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ ".
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی۔ ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے، انہوں نے عمرو بن شرید سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرمایا:”کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟“میں نے عرض کی، جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:”تو لاؤ (سناؤ)۔“میں نے آپ کو ایک شعر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اور سناؤ۔“میں نے ایک اور شعر سنایا۔ آپ نے فرمایا:”اور سناؤ۔“میں نے ایک اور شعر سنایا۔ آپ نے فرمایا:”اور سناؤ۔“یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سو اشعار سنائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5885]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّرِيدِ ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
زہیر بن حرب اور احمد بن عبدہ دونوں نے ابن عیینہ سے، انہوں نے ابراہیم بن میسرہ سے، انہوں نے عمرو بن شرید یا یعقوب بن عاصم سے، انہوں نے حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ سوار کیا، اس کے بعد اسی کے مانند حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5886]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَزَادَ قَالَ: إِنْ كَادَ لِيُسْلِمُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ: فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ.
معتمر بن سلیمان اور عبدالرحمن بن مہدی دونوں نے عبداللہ بن عبدالرحمن طائفی سے، انہوں نے عمرو بن شرید سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کے لیے فرمایا، ابراہیم بن میسرہ کی روایت کے مانند اور مزید یوں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔“اور ابن مہدی کی حدیث میں ہے:”وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہونے کے قریب تھا۔“(اس نے تقریباً وہی باتیں کیں جو ایک مسلمان کہہ سکتا ہے)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5887]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جميعا، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
شریک نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“(دوسرا مصرع ہے: وكلُّ نعيمٍ لا محالَةَ زائلُ اور ہر نعمت لازمی طور پر زائل ہونے والی ہے)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5888]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ، أَنْ يُسْلِمَ.
سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5889]
|
|
|
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.
زائدہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی بھی شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے: سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5890]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ ".
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”شاعروں کے کلام میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5891]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ "، مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ.
اسرائیل نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرمارہے تھے:”سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“انہوں (اسرائیل) نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5892]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِلَّا أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ يَرِيهِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں حفص اور ابومعاویہ نے حدیث بیان کی۔ ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، ان دونوں (ابومعاویہ اور حفص) نے اعمش سے روایت کی، ابوسعید اشج نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی انسان کے پیٹ میں پیپ بھر جانا جو اس کے پیٹ کو تباہ کر دے، شعر کے ساتھ بھر جانے کی نسبت بہتر ہے۔“ابوبکر نے کہا: مگر حفص نے يَريهِ (جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے) کے الفاظ روایت نہیں کیے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5893]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5894]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ يُحَنِّسَ مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ، إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا الشَّيْطَانَ، أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرج کے علاقے میں جا رہے تھے کہ ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا سامنے سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”شیطان کو پکڑو، یا (فرمایا) شیطان کو روکو، انسان کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5895]
|
|
|
1: باب تَحْرِيمِ اللَّعِبِ بِالنَّرْدَشِيرِ:
باب: چوسر کھیلنا حرام ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ ".
سلیمان کے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے چوسر کھیلی تو گویا اس نے اپنے ہاتھ کو خنزیر کے خون اور گوشت سے رنگ لیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5896]
|
|