صحيح مسلم حدیث نمبر: 5659
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2165.3
Sahih Muslim 5659
کتاب #39: سلامتی اور صحت کا بیان
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ، فَسَبَّتْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ "، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی (انہوں نے سلام کے بجائے سام کا لفظ بولا تھا) اور انہیں برا بھلا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! بس کرو، اللہ تعالیٰ برائی اور اسے اپنانے کو پسند نہیں فرماتا۔“ اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ نازل فرمائی: ”اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے۔“ آیت کے آخر تک (اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے دوزخ کافی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکانا ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5659]