صحيح مسلم حدیث نمبر: 5659
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2165.04
📖 صحيح مسلم باب:39 حدیث نمبر : 14
Sahih Muslim 5659
کتاب #39: سلامتی اور صحت کا بیان
4: باب النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلاَمِ وَكَيْفَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ:
باب: یہود اور نصاریٰ کو خود سلام نہ کرے اگر وہ کریں تو کیسے جواب دے، اس کا بیان۔
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ، فَسَبَّتْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ "، وَزَادَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
یعلیٰ بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کی بات سمجھ لی ( انھوں نے سلام کے بجا ئے سام کا لفظ بولا تھا ) اور انھیں برا بھلا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! بس کرو ، اللہ تعا لیٰ برا ئی اور اسے اپنالینے کو پسند نہیں فرماتا ۔ " اور یہ اضافہ کیا تو اس پر اللہ عزوجل نے ( وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ ) نازل فر ما ئی : " اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ آپ کو سلام کہتا ہے ۔ " آیت کے آخر تک ( اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں جو کچھ ہم کہتے ہیں اللہ اس پر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ان کے لیے دوزخ کا فی ہے جس میں وہ جلیں گے اور وہ لوٹ کر جانے کا بدترین ٹھکا ناہے ۔)