صحيح مسلم حدیث نمبر: 5668
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 2170.01
📖 صحيح مسلم باب:39 حدیث نمبر : 23
Sahih Muslim 5668
کتاب #39: سلامتی اور صحت کا بیان
7: باب إِبَاحَةُ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الإِنْسَانِ:
باب: عورتوں کو ضروری حاجت کے لیے باہر نکلنا درست ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ يَا سَوْدَةُ: وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ؟ قَالَتْ: فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم في بيتي، وإنه ليتعشى وفي يده عرق فدخلت، فقالت: يا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ لِي عُمَر ُ كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ: فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ، وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي الْبَرَازَ.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : پردہ ہم پرلاگو ہوجانےکےبعد حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں ، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جسامت میں بڑی تھیں ، جسمانی طور پر عورتوں سے اونچی ( نظر آتی ) تھیں ۔ جوشخص انہیں جانتا ہو ( پردے کے باوجود ) اس کے لیے مخفی نہیں رہتی تھی ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھ کر کہا : سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !اللہ کی قسم!آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں اس لیے دیکھ لیجئے آپ کیسے باہر نکلا کریں گی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( یہ سنتے ہی ) الٹے پاؤں لوٹ آئیں اور ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے ۔ آپ کے دست مبارک میں گوشت والی ایک ہڈی تھی وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں باہر نکلی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس اس طرح کہا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اسی وقت اللہ تعا لیٰ نے آپ پر وحی نازل فر ما ئی ، پھر آپ سے وحی کی کیفیت زائل ہو گئی ، ہڈی اسی طرح آپ کے ہاتھ میں تھی ، آپ نے اسے رکھا نہیں تھا ، آپ نے فر ما یا : تم سب ( امہات المومنین ) کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم ضرورت کے لیے باہر جا سکتی ہو ۔ "" ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) کی روایت میں ہے : "" ان کا جسم عورتوں سے اونچاتھا "" ابو بکر نے اپنی حدیث ( کی سند ) میں یہ اضافہ کیا : تو ہشام نے کہا : آپ کا مقصود قضائے حاجت کے لیے جا نے سے تھا ۔