📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 5693

Sahih Muslim Hadith 5693 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #39 📁 سلامتی اور صحت کا بیان (كِتَاب السَّلَامِ) ← 🏷️ باب: اگر اجنبی عورت راہ میں تھک گئی ہو تو اس کو اپنے ساتھ سوار کر لینا درست ہے۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 5693 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2182.1 Sahih Muslim 5693
کتاب #39: سلامتی اور صحت کا بیان
14: باب جَوَازِ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ الأَجْنَبِيَّةِ إِذَا أَعْيَتْ فِي الطَّرِيقِ:
🏷️ باب: اگر اجنبی عورت راہ میں تھک گئی ہو تو اس کو اپنے ساتھ سوار کر لینا درست ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ، فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا، قَالَتْ: كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ فَجَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ، قَالَتْ: إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ، أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ، فَجَاءَ، فَقَالَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ، قَالَتْ: مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ، فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ، فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي، فَقَالَ: هَبِيهَا لِي، قَالَتْ: إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا ".
ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں گھر کی خدمات سر انجام دے کر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمت کرتی تھی، ان کا ایک گھوڑا تھا، میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی، میرے لیے گھر کی خدمات میں سے گھوڑے کی نگہداشت سے بڑھ کر کوئی اور خدمت زیادہ سخت نہ تھی۔ میں اس کے لیے چارا لاتی، اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی اور اس کی نگہداشت کرتی، کہا: پھر انہیں ایک خادمہ مل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ نے ان کے لیے ایک خادمہ عطا کر دی۔ کہا: اس نے مجھ سے گھوڑے کی نگہداشت (کی ذمہ داری) سنبھال لی اور مجھ سے بہت بڑا بوجھ ہٹا لیا۔ میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں: میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں (بیٹھ کر سودا) بیچ لیا کروں۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے تمہیں اجازت دے دی تو زبیر رضی اللہ عنہ انکار کر دیں گے۔ جب زبیر رضی اللہ عنہ موجود ہوں تو (اس وقت) آ کر مجھ سے اجازت مانگنا، پھر وہ شخص (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں) آیا اور کہا: ام عبداللہ! میں ایک فقیر آدمی ہوں اور چاہتا ہوں کہ میں آپ کے گھر کے سائے میں (بیٹھ کر کچھ) بیچ لیا کروں، انہوں نے (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) جواب دیا: مدینہ میں تمہارے لیے میرے گھر کے سوا اور کوئی گھر نہیں ہے؟ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے، ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے روک رہی ہو؟ وہ بیچنے لگا، یہاں تک کہ اس نے کافی کمائی کر لی، میں نے وہ خادمہ اسے بیچ دی۔ زبیر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو اس خادمہ کی قیمت میری گود میں پڑی تھی، انہوں نے کہا: یہ مجھے ہبہ کر دو۔ تو انہوں نے کہا: میں اس کو صدقہ کر چکی ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5693]
صحيح مسلم • حدیث #5693
5691 5692 5693 5694 5695

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#5692 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ع...
ہشام کے والد (عروہ) نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) کہا: حضرت ز...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ