كتاب الصلاة
کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
|
1: بَابُ : أَبْوَابِ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ
باب: اوقات نماز کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: " صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَر َبِلالا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْيَوْمِ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” آنے والے دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو ، چنانچہ ( پہلے دن ) جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے اذان دی ، پھر ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی ۱؎ ، پھر ان کو حکم دیا ، انہوں نے نماز عصر کی اقامت کہی ، اس وقت سورج بلند ، صاف اور چمکدار تھا ۲؎ ، پھر جب سورج ڈوب گیا تو ان کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی ، پھر جب شفق ۳؎ غائب ہو گئی تو انہیں حکم دیا ، انہوں نے عشاء کی اقامت کہی ، پھر جب صبح صادق طلوع ہوئی تو انہیں حکم دیا ، تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی ، جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے ان کو حکم دیا ، تو انہوں نے ظہر کی اذان دی ، اور ٹھنڈا کیا اس کو اور خوب ٹھنڈا کیا ( یعنی تاخیر کی ) ، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا ، پہلے روز کے مقابلے میں دیر کی ، پھر مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے پڑھائی ، اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھائی اور فجر کی نماز اجالے میں پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ “ ، اس آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری نماز کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 667]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلے روز سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اذان دلوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کا اول وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔ ۲؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی ۳؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے، اور عشاء سے ذرا پہلے تک برقرار رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسا جد 31 (613)، سنن الترمذی/الصلا ة 1 (152)، سنن النسائی/المو اقیت 12 (520)، (تحفة الأشراف: 1931)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/349) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى مَيَاثِرِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَأَخَّر عُمَرُ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتَ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتَ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ".
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے گدوں پہ بیٹھے ہوئے تھے ، اس وقت عمر بن عبدالعزیز مدینہ منورہ کے امیر تھے ، اور ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے ، عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ دیر کر دی تو ان سے عروہ نے کہا : سنیے ! جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت فرمائی ، تو ان سے عمر بن عبدالعزیز نے کہا : عروہ ! جو کچھ کہہ رہے ہو سوچ سمجھ کر کہو ؟ اس پر عروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا کہ میں نے اپنے والد ابی مسعود رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے ، اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی ۔ ۔ ۔ وہ اپنی انگلیوں سے پانچوں نمازوں کو شمار کر رہے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 668]
💡 وضاحت:
۱؎: تو عروہ نے حدیث کی سند بیان کر کے عمر بن عبدالعزیز کی تسلی کر دی، اور دوسری روایت میں ہے کہ عروہ نے ایک اور حدیث بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی جو آگے مذکور ہو گی، عروہ کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے اوقات مقرر ہیں اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تعلیم دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوقات میں نماز ادا فرماتے تھے، ایک روایت میں ہے کہ اس روز سے عمر بن عبدالعزیز نے کبھی نماز میں دیر نہیں کی، اس سے عروہ کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے اوقات کی تحدید کے لئے جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی طور پر سکھایا، اس لئے اس سلسلہ میں کوتاہی مناسب نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 2 (521)، بدء الخلق 6 (3221)، المغازي 12 (4007)، صحیح مسلم/المساجد 31 (610)، سنن ابی داود/الصلاة 2 (394)، سنن النسائی/المواقیت 1 (495)، (تحفة الأشراف: 9977)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (1)، مسند احمد (4/120) (صحیح)
|
|
|
2: بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: نماز فجر کا وقت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّ نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ فَلَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ تَعْنِي: مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں ، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں ، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا ، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 669]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہئے، اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی طریقہ تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن النسائی/المواقیت 24 (547)، (تحفة الأشراف: 16442)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 13 (372)، المواقیت 27 (578)، الأذان 163 (767)، 165 (872)، سنن ابی داود/الصلاة 8 (423)، سنن الترمذی/الصلاة 2 (153)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (4)، مسند احمد (6/33، 36، 179، 248، 259)، سنن الدارمی/الصلاة 20 (1252) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُرْءَانَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78، قَالَ: " تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ : «وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا» ( سورة الإسراء : 78 ) کی تفسیر میں فرمایا : ” اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر رہتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 670]
💡 وضاحت:
۱؎: تو رات اور دن دونوں کے فرشتے فجر اور عصر کے وقت، جمع ہو جاتے ہیں اور یہ مضمون دوسری حدیث میں مزید صراحت سے آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
حدیث عبد اللہ بن مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3135)، وحدیث أبي ہریرة أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 47 (215)، التفسیر 18 (3135)، (تحفة الأشراف: 12332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 31 (648)، صحیح مسلم/المساجد 42 (649)، مسند احمد (2/233) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: " هَذِهِ صَلَاتُنَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فَلَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ".
مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ صبح کی نماز «غلس» ( آخر رات کی تاریکی ) میں پڑھی ، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوا ، اور ان سے کہا : یہ کیسی نماز ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ پڑھتے تھے ، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ مار کر زخمی کر دیا گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے «اسفار» ( اجالے ) میں پڑھنا شروع کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 671]
💡 وضاحت:
۱؎: عثمان رضی اللہ عنہ کو «اسفار» (اجالے) میں فجر پڑھتے دیکھ کر بعض تابعین کو یہ گمان پیدا ہو گیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہی تھا کہ وہ «اسفار» میں فجر کی نماز پڑھا کرتے جیسے ابراہیم نخعی سے منقول ہے حالانکہ «اسفار» میں پڑھنے کا باعث جان کا ڈر تھا ورنہ اصلی وقت اس نماز کا وہی تھا جو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ منہ اندھیرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین (ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما) ایسا ہی کرتے رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7461، ومصباح الزجاجة: 253) (صحیح) (نیزملاحظہ ہو: الإرواء: 1 / 279)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، وَجَدُّهُ بَدْرِيٌّ يُخْبِرُ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ، أَوْ لِأَجْرِكُمْ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح کو اچھی طرح روشن کر لیا کرو ، اس میں تم کو زیادہ ثواب ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 672]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اتنا اجالا ہو جانے دو کہ طلوع فجر میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ دہلوی (حجۃ اللہ البالغہ) میں لکھتے ہیں کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مسجدوں کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر کی نماز خوب لمبی پڑھو، تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہو جائے، جیسا کہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ فجر کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہنچان لیتا اس طرح اس میں اور «غلس» والی روایتوں میں کوئی تضاد و تعارض نہیں رہ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 8 (424)، سنن الترمذی/الصلاة 3 (154)، سنن النسائی/المواقیت 26 (549)، (تحفة الأشراف: 3582) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/460، 465، 4/140، 142، 5/429)، سنن الدارمی/الصلاة 21 (1253) (حسن صحیح)
|
|
|
3: بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الظُّهْرِ
باب: نماز ظہر کا وقت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 673]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 33 (618)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (806)، سنن النسائی/الافتتاح 60 (981)، (تحفة الأشراف: 2179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/106) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي صَلَاةَ الْهَجِيرِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الظُّهْرَ، إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ".
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کی نماز جس کو تم ظہر کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 674]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 11 (541)، 13 (547)، 23 (568)، 38 (598)، صحیح مسلم/المساجد 40 (647)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (398)، سنن النسائی/المواقیت 1 (496)، 16 (526)، 20 (531)، (تحفة الأشراف: 11605)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 4 (155)، مسند احمد (4/420، 421، 423، 424، 425)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1338) (صحیح)
|
|
|
قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، نَحْوَهُ.
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ریت کی گرمی ( زمین کی تپش ) کی شکایت کی ، تو آپ نے ہماری شکایت کو نظر انداز کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 675]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نماز کی تاخیر گوارا نہ کی، اور ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 675M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ریت کی گرمی ( زمین کی تپش ) کی شکایت کی ، تو آپ نے اسے نظر انداز کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 676]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہوا کہ زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد تھوڑی سی دیر کریں نہ کہ ایک مثل کے بعد پڑھیں، ایک مثل کے بعد تو ظہر کا وقت ہی نہیں رہتا، اور ٹھنڈک سے یہ مراد ہے کہ دوپہر کی دھوپ میں ذرا نرمی آ جائے بالکل ٹھنڈک تو شام تک بھی نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9545، ومصباح الزجاجة: 254) (صحیح) (اس سند میں مالک الطائی غیر معروف ہیں، اور معاویہ بن ہشام صدوق ہیں، وہم کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
4: بَابُ : الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ
باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تاخیر سے) پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈی کر لو ، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 677]
💡 وضاحت:
۱؎: ظہر کو جلدی نہ پڑھنے اور باقی نماز کو اول وقت میں پڑھنے کی افضلیت کے سلسلہ میں جو روایتیں آئی ہیں، وہ باہم معارض نہیں ہیں کیونکہ اول وقت میں پڑھنے والی روایتیں عام یا مطلق ہیں، اور ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے والی روایت مخصوص اور مقید ہے، اور عام و خاص میں کوئی تعارض نہیں ہوتا، نہ ہی مطلق و مقید میں کوئی تعارض ہوتا ہے، رہی خباب رضی اللہ عنہ والی روایت جو صحیح مسلم میں آئی ہے، اور جس کے الفاظ یہ ہیں: «شكونا إلى النبي صلى الله عليه وسلم حرالرمضائ فلم يشكنا» ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دھوپ کی تیزی کی شکایت کی لیکن آپ نے ہماری شکایت نہ مانی“ تو «ابراد» سے قدر زائد کے مطالبہ پر محمول کی جائے گی، کیونکہ «ابراد» یہ ہے کہ ظہر کی نماز کو اس قدر مؤخر کیا جائے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہو جائے جس میں چل کر لوگ مسجد آ سکیں، اور گرمی کی شدت کم ہو جائے، اور «ابراد» سے زائد تاخیر یہ ہے کہ «رمضاء» کی گرمی زائل ہو جائے، اور یہ کبھی کبھی خروج وقت کو مستلزم ہو سکتا ہے، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا، نیز بہت سے علماء نے اس حدیث کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ جب شدت کی گرمی ہو تو ظہر میں دیر کرنا مستحب ہے، اور اس حدیث کی شرح میں مولانا وحید الزماں حیدر آبادی فرماتے ہیں: حدیث کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جب گرمی کی شدت ہو تو اس کو نماز سے ٹھنڈا کرو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے، اور جہنم کی بھاپ بجھانے کے لئے نماز سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے، اور اس مطلب پر یہ تعلیل صحیح ہو جائے گی، اور یہ حدیث اگلے باب کی حدیثوں کے خلاف نہ رہے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تقرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13862)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الموا قیت 9 (533)، صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن ابی داود/الصلا ة 4 (402)، سنن الترمذی/الصلاة 5 (157)، سنن النسائی/المواقیت 5 (501)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 7 (28)، مسند احمد (2/229، 238، 256، 266، 348، 377، 393، 400، 411، 462)، سنن الدارمی/الرقاق 119 (2887) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب گرمی سخت ہو جائے تو ظہر کو ٹھنڈا کر لیا کرو ، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 678]
💡 وضاحت:
۱؎: جہنم جاڑے کے دنوں میں اندر کی طرف سانس لیتی ہے اور گرمی کے دنوں میں سانس کو باہر نکالتی ہے جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے، بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ گرمی کا تعلق سورج نکلنے سے ہے لیکن یہ علت صحیح نہیں ہے، کیونکہ اونچے مقام پر گرمی نہیں ہوتی جب کہ سورج اس سے قریب ہوتا ہے، اور اصل وجہ گرمی اور جاڑے کی یہ ہے کہ زمین گرم ہو کر اپنی سانس یعنی بخارات باہر نکالتی ہے، اس سے گرمی معلوم ہوتی ہے اور کوئی مانع اس سے نہیں ہے کہ جہنم کا ایک ٹکڑا زمین کے اندر ہو، اور جیالوجی (علم الارض) سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اندر ہزار فٹ پر ایسی حرارت ہے کہ اگر وہاں حیوان پہنچیں تو فوراً مر جائیں، اور اس سے بھی زیادہ نیچے ایسی گرمی ہے کہ لوہا، تانبہ اور شیشہ پگھلا ہوا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو جہنم سے بچائے، آمین، نیز جمہور نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے،اس لئے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو، اور احتیاط کرو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب جلدی پڑھتے تھے، بعض روایتوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (402)، سنن الترمذی/الصلاة 5 (157)، سنن النسائی/المواقیت 5 (501)، (تحفة الأشراف: 13226) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو ، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 679]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 9 (538)، (تحفة الأشراف: 4006)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/52، 53، 59) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِر، فَقَالَ لَنَا: " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو ، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 680]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شريك مدلس وعنعن ¤ ولأصل الحديث شواھد كثيرة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 403
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11526، ومصباح الزجاجة: 255)، و قد أخرجہ: مسند احمد (4/ 250) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 681]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8044، ومصباح الزجاجة: 256) (صحیح)
|
|
|
5: بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: نماز عصر کا وقت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج اونچا اور زندہ ہوتا تھا ، چنانچہ ( نماز پڑھ کر ) کوئی شخص عوالی ۱؎ میں جاتا تو سورج بلند ہی ہوتا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 682]
💡 وضاحت:
۱؎: مدینہ کے جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن ابی داود/ الصلاة 5 (404)، سنن النسائی/المواقیت 7 (508)، (تحفة الأشراف: 1522)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 13 (550)، الاعتصام 16 (7329)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (11)، مسند احمد (3/223)، سنن الدارمی/الصلاة 15 (1244) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِي لَمْ يُظْهِرْهَا الْفَيْءُ بَعْدُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ میرے کمرے میں باقی رہی ، ابھی تک سایہ دیواروں پر چڑھا نہیں تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 683]
💡 وضاحت:
۱؎: سائے کا کمرہ کے اندر ہونا دلالت کرتا ہے کہ عصر کا وقت ہوتے ہی نماز پڑھ لی گئی تھی، اگر دیر کی جاتی تو سایہ کمرے میں نہ رہتا بلکہ دیواروں پر چڑھ جاتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (546)، الخمس 4 (3103)، صحیح مسلم/المساجد 31 (611)، (تحفة الأشراف: 16440)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 5 (407)، سنن الترمذی/الصلاة 6 (159)، سنن النسائی/المواقیت 8 (506)، موطا امام مالک/ وقوت الصلاة 1 (2)، مسند احمد6/37، 85، 199، 278) (صحیح)
|
|
|
6: بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: نماز عصر کی محافظت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: " مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا : ” اللہ ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ، جیسے کہ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ ( عصر کی نماز ) کی ادائیگی سے باز رکھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 684]
💡 وضاحت:
۱؎: تو معلوم ہوا کہ عصر کی نماز بھی نماز ہے، اور قرآن شریف میں ہر فریضہ نماز پر محافظت کرنے کا حکم دیا خصوصاً نماز وسطی پر، تو عصر کی محافظت کی زیادہ تاکید نکلی، اور نماز وسطی میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہے کہ وہ عصر کی نماز ہے، اور یہی مختار ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 110093)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الجہاد 98 (2931)، المغازي 29 (4111)، تفسیرالبقرہ (4533)، الدعوات 5 (6396)، صحیح مسلم/المساجد 35 (627)، 36 (627)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (409)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2984)، سنن النسائی/الصلاة 15 (474)، حم1/81، 82، 113، 122، 126، 135، 137، 144، 146، 150، 151، 152، 153، 154)، سنن الدارمی/الصلاة 28 (1268) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلُهُ وَمَالُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کی نماز عصر فوت ہو جائے ، گویا اس کے اہل و عیال اور مال و اسباب سب لٹ گئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 685]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، سنن النسائی/الصلاة 17 (479)، (تحفة الأشراف: 6829) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 14 (552)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (414)، سنن الترمذی/الصلاة 16 (160)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 5 (21)، مسند احمد (2/8، 13، 27، 48، 54، 64، 75، 76، 102، 134، 145، 147)، سنن الدارمی/الصلاة 27 (1267) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْس، فَقَالَ: " حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا ، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 686]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 36 (628)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة البقرة 3 (2985)، (تحفة الأشراف: 9549) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/392، 403، 456) (صحیح)
|
|
|
7: بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: نماز مغرب کا وقت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، نَحْوَهُ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے ، پھر ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر واپس ہوتا ، اور وہ اپنے تیر گرنے کے مقام کو دیکھ لیتا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 687]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سورج ڈوبتے ہی نماز پڑھ لیا کرتے تھے، بلاوجہ احتیاط کے نام پر تاخیر نہیں کرتے تھے، اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 687M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 688]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 18 (561)، صحیح مسلم/المساجد 38 (636)، سنن ابی داود/الصلاة 6 (417)، سنن الترمذی/الصلاة 8 (164)، (تحفة الأشراف: 4535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 15، 54)، سنن الدارمی/الصلاة 16 (1245) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: اضْطَرَبَ النَّاسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بِبَغْدَادَ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ الْأَعْيَنُ، إِلَى الْعَوَّامِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا أَصْلَ أَبِيهِ، فَإِذَا الْحَدِيثُ فِيهِ.
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت ہمیشہ فطرت ( دین اسلام ) پر رہے گی ، جب تک وہ مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ تارے گھنے ہو جائیں “ ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا : اس حدیث کے بارے میں اہل بغداد نے اختلاف کیا ، چنانچہ میں اور ابوبکر الاعین عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے ، تو انہوں نے اپنے والد کا اصل نسخہ نکالا تو اس میں یہ حدیث موجود تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 689]
💡 وضاحت:
۱؎: شرح السنہ میں ہے کہ اہل علم (صحابہ اور تابعین) نے اختیار کیا ہے کہ مغرب کی نماز جلدی پڑھی جائے، اور جس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کی تاخیر منقول ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5125، ومصباح الزجاجة: 257)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 6 (418) مسند احمد (4/147، 5/417، 422)، سنن الدارمی/الصلاة 17 (1246) (صحیح)
|
|
|
8: بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الْعِشَاءِ
باب: نماز عشاء کا وقت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا ، تو میں انہیں عشاء کی نماز میں دیر کرنے کا حکم دیتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 690]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 15 (252)، سنن ابی داود/الطہارة 25 (46)، سنن النسائی/المواقیت 19 (535)، (تحفة الأشراف: 13673)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 10 (167)، مسند احمد (2/245)، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1250) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا ، تو میں عشاء کی نماز تہائی یا آدھی رات تک مؤخر کرتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 691]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ راوی کا شک ہے اور دوسری حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عشاء کی تاخیر تہائی رات تک بہتر ہے، گو دوسری روایات کے مطابق عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 10 (167)، (تحفة الأشراف: 12988)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/245، 250، 433) (صحیح)
|
|
|
قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حمید، نَحْوَهُ.
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، ایک رات آپ نے عشاء کی نماز آدھی رات کے قریب مؤخر کی ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا : ” اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ، اور تم لوگ برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے “ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 692]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
(یہ سند مشہور حسن سلمان کے نسخہ میں موجود نہیں ہے، بلکہ یہ علی بن حسن عبدالحمید کے نسخہ میں صفحہ نمبر 333 پر موجود ہے)
|
|
|
قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حمید، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 692M]
تخریج دارالدعوہ:
(یہ سند مشہور حسن سلمان کے نسخہ میں موجود نہیں ہے، بلکہ یہ علی بن حسن عبدالحمید کے نسخہ میں صفحہ نمبر 333 پر موجود ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، وَلَوْلَا الضَّعِيفُ وَالسَّقِيمُ، أَحْبَبْتُ أَنْ أُؤَخِّرَ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی ، پھر آدھی رات تک ( حجرہ سے ) باہر نہ آئے ، پھر نکلے اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا : ” اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ، اور تم برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے ، اگر مجھے کمزوروں اور بیماروں کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کرنا پسند کرتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 693]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 7 (422)، سنن النسائی/المواقیت 20 (539)، (تحفة الأشراف: 4314) (صحیح)
|
|
|
9: بَابُ : مِيقَاتِ الصَّلاَةِ فِي الْغَيْمِ
باب: بادل میں نماز کے وقت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَن بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَالَ: " بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فِي الْيَوْمِ الْغَيْمِ، فَإِنَّهُ مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ".
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بادل کے ایام میں نماز جلدی پڑھ لیا کرو ، کیونکہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی ، اس کا عمل برباد ہو گیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 694]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس دن کے اعمال کا پورا ثواب اس کو نہیں ملے گا کیونکہ عصر کی نماز ہی ان اعمال میں ایک بڑا عمل تھا، اسی کو اس نے برباد کر دیا، یا اس دن کے کل اعمال لغو اور بیکار ہو جائیں گے، اور اس کو مطلق ثواب نہیں ملے گا، یا عمل سے مراد وہ عمل ہے جس میں وہ مصروف رہا، اور اس کی وجہ سے نماز قضا کی، مطلب یہ ہے کہ اس عمل میں برکت، اور منفعت نہ ہوگی، بلکہ نحوست پیدا ہو گی، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بادل کے دن نماز میں جلدی کرنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے اور خبر نہ ہو، بعضوں نے کہا کہ بادل کے دن عصر اور عشاء میں جلدی کرے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف إلا قوله من فاتته
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يحيي بن أبي كثير مدلس و عنعن ¤ و حديث البخاري (553) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 403
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2014)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/361) (ضعیف) (سند میں یحییٰ بن ابی کثیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، لیکن من فاتته صلاة العصر حبط عمله کاجملہ صحیح بخاری میں ہے)
|
|
|
10: بَابُ : مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ نَسِيَهَا
باب: نماز کے وقت سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو کیا کرے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَغْفُلُ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ يَرْقُدُ عَنْهَا؟ قَالَ: " يُصَلِّيهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو نماز سے غافل ہو جائے ، یا سو جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب یاد آ جائے تو پڑھ لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 695]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک روایت میں اتنا زیادہ ہے ”وہی اس کا وقت ہے“ یعنی جس وقت جاگ کر اٹھے یا جب نماز یاد آ جائے اسی وقت پڑھ لے، اگرچہ اس وقت سورج نکلنے یا ڈوبنے کا وقت ہو یا ٹھیک دوپہر کا وقت ہو، یا فجر یا عصر کے بعد یاد آئے، کیونکہ یہ حدیث عام ہے، اور اس سے ان احادیث کی تخصیص ہو گئی جس میں ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، یہی قول امام احمد کا ہے، اور بعضوں نے کہا نماز پڑھے جب تک سورج نہ نکلے یا ڈوب نہ جائے، اور یہ قول حنفیہ کا ہے، کیونکہ بخاری نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج کا کنارہ نکلے تو نماز میں دیر کرو، یہاں تک کہ سورج اونچا ہو جائے، اور جب سورج کا کنارہ غائب ہو جائے، تو نماز میں دیر کرو یہاں تک کہ بالکل غائب ہو جائے“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/المواقیت 52 (615)، (تحفة الأشراف: 1151)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الموا قیت 37 (597)، صحیح مسلم/المساجد 55 (684)، سنن ابی داود/الصلاة 11 (442)، سنن الترمذی/الصلاة 17 (178)، مسند احمد (3/100، 243، 266، 269، 282)، سنن الدارمی/الصلاة 26 (1265) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے ، تو جب یاد آئے پڑھ لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 696]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 55 (684)، سنن ابی داود/الصلاة 11 (442)، سنن الترمذی/الصلاة 17 (178)، سنن النسائی/المواقیت 51 (614)، (تحفة الأشراف: 1430)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/110، 243، 267، 269، 282) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، فَسَارَ لَيْلَهُ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: " اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ"، فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَيْ بِلَالُ"، فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " اقْتَادُوا"، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا لِلذِّكْرَى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹے تو رات میں چلتے رہے ، یہاں تک کہ جب نیند آنے لگی تو رات کے آخری حصہ میں آرام کے لیے اتر گئے ، اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہا : ” آج رات ہماری نگرانی کرو “ ، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ کو جتنی توفیق ہوئی اتنی دیر نماز پڑھتے رہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سوتے رہے ، جب فجر کا وقت قریب ہوا تو بلال رضی اللہ عنہ نے مشرق کی جانب منہ کر کے اپنی سواری پر ٹیک لگا لی ، اسی ٹیک لگانے کی حالت میں ان کی آنکھ لگ گئی ، نہ تو وہ جاگے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اور کوئی ، یہاں تک کہ انہیں دھوپ لگی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ، اور گھبرا کر فرمایا : ” بلال ! “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جس نے آپ کی جان کو روکے رکھا اسی نے میری جان کو روک لیا ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگے چلو “ ، صحابہ کرام اپنی سواریوں کو لے کر کچھ آگے بڑھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا : ” جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «أقم الصلاة لذكري» نماز اس وقت قائم کرو جب یاد آ جائے “ ( سورة : طه : ۱۴ ) ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو «لذكري» کے بجائے «للذكرى» پڑھتے تھے ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 697]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میں بھی نیند کی گرفت میں آگیا اور مجھ پر نیند بھی طاری ہوگئی۔ ۲؎: مشہور قراءت «أقم الصلاة لذكري» (طہٰ: ۱۴) ہی ہے، مذکورہ جگہ سے سواریوں کو ہانک لے جانے اور کچھ دور پر جا کر نماز پڑھنے کی تأویل میں علماء کے مختلف اقوال ہیں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس وجہ سے کیا تھا تاکہ سورج اوپر چڑھ آئے اور وہ وقت ختم ہو جائے جس میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے ان کے نزدیک چھوٹی ہوئی نماز بھی ان اوقات میں پڑھنی جائز نہیں، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی نماز کی قضا ہر وقت جائز ہے، ممنوع اوقات میں نماز ادا کرنے کی ممانعت نوافل کے ساتھ خاص ہے، مالک، اوزاعی، شافعی اور احمد بن حنبل وغیرہم ائمہ کرام کا یہی مذہب ہے، ان لوگوں کے نزدیک اس کی صحیح تاویل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جگہ نماز پڑھنا نہیں چاہتے تھے جہاں لوگوں کو غفلت و نسیان لاحق ہوا ہو، ابوداؤد کی ایک روایت میں «تحولوا عن مكانكم الذي أصابتكم فيه الغفلة» ”اس جگہ سے ہٹ جاؤ جہاں پر تم غفلت کا شکار ہو گئے تھے“ فرما کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی وجہ بیان فرما دی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 55 (680)، سنن ابی داود/الصلاة 11 (435)، (تحفة الأشراف: 13326)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ التفسیر طہ 21 (3163)، سنن النسائی/المواقیت 53 (620)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 6 (25) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: ذَكَرُوا تَفْرِيطَهُمْ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: نَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ وَأَنَا أُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: يَا فَتًى انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي شَاهِدٌ لِلْحَدِيثِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَمَا أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نیند کی وجہ سے اپنی کوتاہی کا ذکر چھیڑا تو انہوں نے کہا : لوگ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نیند میں کوتاہی نہیں ہے ، کوتاہی بیداری کی حالت میں ہے ، لہٰذا جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا اس سے سو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے ، اور اگلے روز اس کے وقت میں پڑھ لے “ ۱؎ ۔ عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے سنا تو کہا : نوجوان ! ذرا غور کرو ، تم کیسے حدیث بیان کر رہے ہو ؟ اس حدیث کے وقت میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، وہ کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس میں سے کسی بھی بات کا انکار نہیں کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 698]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب یاد آئے یا سونے کے بعد جاگتے ہی اسی وقت نماز پڑھ لے، اور دوسرے دن کوشش کرے کہ نماز کو وقت ہی پر پڑھے، نماز سے سستی کی عادت نہ ڈالے، اگرچہ ظاہر لفظ سے ایسا لگتا ہے کہ جاگنے کے بعد پڑھے، اور دوسرے دن اس کے وقت میں بھی پڑھے،لیکن اس کا کوئی قائل نہیں کہ نماز دو بار پڑھی جائے، نیز جو معنی ہم نے بتایا ہے اس کی تائید سنن دار قطنی کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 11 (437)، (تحفة الأشراف: 12089)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 55 (681)، سنن الترمذی/الصلاة 16 (177)، سنن النسائی/المواقیت 53 (618)، مسند احمد (5/305) (صحیح)
|
|
|
11: بَابُ : وَقْتِ الصَّلاَةِ فِي الْعُذْرِ وَالضَّرُورَةِ
باب: ضرورت اور معذوری کی حالت میں نماز کے وقت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے سورج کے ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی ، اس نے عصر کی نماز پا لی ، اور جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر کی نماز پا لی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 699]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی وجہ سے وہ اس قابل ہو گیا کہ اس کے ساتھ باقی اور رکعتیں ملا لے اس کی یہ نماز ادا سمجھی جائے گی قضا نہیں، یہ مطلب نہیں کہ یہ رکعت پوری نماز کے لیے کافی ہو گی، اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نماز کے دوران سورج نکلنے سے اس کی نماز فاسد ہو جائے گی وہ کہتے ہیں کہ اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے اتنا وقت مل گیا جس میں وہ ایک رکعت پڑھ سکتا ہو تو وہ نماز کا اہل ہو گیا، اور وہ نماز اس پر واجب ہو گئی مثلاً بچہ ایسے وقت میں بالغ ہوا یا حائضہ حیض سے پاک ہوئی یا کافر اسلام لے آیا کہ وہ وقت کے اندر ایک رکعت پڑھ سکتا ہو تو وہ نماز اس پر واجب ہوگئی، لیکن ابوداود کی حدیث رقم (۵۱۷) سے جس میں «فليتم صلاته» کے الفاظ آئے ہیں اس تاویل کی نفی ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 28 (579)، صحیح مسلم/المساجد 30 (607)، (تحفة الأشراف: (12206، 13636، 14216)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 5 (412)، سنن الترمذی/الصلاة 23 (186)، سنن النسائی/المواقیت 10 (518)، 28 (551)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (5)، مسند احمد (2/254، 260، 282، 348، 399، 462، 474)، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1258) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا"، حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لی اس نے فجر کی نماز پا لی ، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی ، اس نے عصر کی نماز پا لی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 700]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 30 (609)، سنن النسائی/المواقیت 27 (552)، (تحفة الأشراف: 16705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/78) (صحیح)
|
|
|
12: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَعَنِ الْحَدِيثِ بَعْدَهَا
باب: عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا".
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء دیر سے پڑھنا پسند فرماتے تھے ، اور اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 701]
💡 وضاحت:
۱؎: عشاء کی نماز سے پہلے سونے کو اکثر علماء نے مکروہ کہا ہے، بعضوں نے اس کی اجازت دی ہے، امام نووی نے کہا ہے کہ اگر نیند کا غلبہ ہو، اور نماز کی قضا کا اندیشہ نہ ہو تو سونے میں کوئی حرج نہیں، نیز بات چیت سے مراد لایعنی بات چیت ہے جس سے دنیا اور آخرت کا کوئی مفاد وابستہ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 11 (541)، 13 (547)، 23 (568)، 38 (599)، سنن الترمذی/الصلاة 11 (168)، 20 (529)، (تحفة الأشراف: 11606)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 40 (647)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (398)، الأدب 27 (4849)، سنن النسائی/المواقیت 1 (496)، 16 (526)، مسند احمد (4/420، 421، 423، 424، 425)، سنن الدارمی/الصلاة 139 (1469) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَمَرَ بَعْدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے نہ سوئے ، اور نہ اس کے بعد ( بلا ضرورت ) بات چیت کی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 702]
💡 وضاحت:
۱؎: بیکار اور غیر ضروری باتیں عشاء کے بعد کرنی مکروہ ہے، اور کراہت کی علت یہ ہے کہ شاید رات زیادہ گزر جائے اور تہجد کے لئے آنکھ نہ کھلے، یا فجر کی نماز اول وقت اور باجماعت ادا نہ ہو سکے، اور یہ وجہ بھی ہے کہ سوتے میں گویا آدمی مر جاتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ خاتمہ عبادت پر ہو، نہ دنیا کی باتوں پر، اگر دین یا دنیا کی ضروری باتیں ہوں تو ان کا کرنا جائز ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد مسلمانوں کے کاموں کے متعلق ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے باتیں کیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17497، ومصباح الزجاجة: 258)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/264) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " جَدَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَاءِ"، قَال ابْنُ مَاجَهْ: يَعْنِى: زَجَرَنَا عَنْهُ نَهَانَا عَنْهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد بات چیت پر ہماری مذمت فرمائی یعنی اس پر ہمیں جھڑکا اور ڈانٹا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 703]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور حسن کے نسخہ میں «زجرنا عنه» ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”…عطاء بن السائب اختلط بآخره۔ومحمد بن فضيل روي عنه بعد الإختلاط‘‘ وكذا سائر من رواه عنه ھذا الحديث (وانظر ضعيف سنن أبي داود: 2819) ¤ ولأصل الحديث شواھد بغير ھذا اللفظ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 403
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9286 ومصباح الزجاجة: 703)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 410) (صحیح) (ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2435)
|
|
|
13: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ صَلاَةُ الْعَتَمَةِ
باب: عشاء کو عتمہ کی نماز کہنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، فَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَإِنَّهُمْ لَيُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اعراب ( دیہاتی لوگ ) تمہاری نماز کے نام میں تم پر غالب نہ آ جائیں ، اس لیے کہ ( کتاب اللہ میں ) اس کا نام عشاء ہے ، اور یہ لوگ اس وقت اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے اسے «عتمہ» کہتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 704]
💡 وضاحت:
۱؎: عرب کے لوگ سورج ڈوبنے کے بعد جب اندھیرا ہو جاتا تو اپنے جانوروں کا دودھ دوہتے تھے، تاکہ مانگنے والے محتاج دیکھ نہ سکیں اور ان کو دودھ نہ دینا پڑے، پھر وہی لوگ عشاء کی نماز کو «عتمہ» کہنے لگے، کیونکہ اس کا وقت یہی تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو مکروہ جانا، کیونکہ محتاجوں کو نہ دینا، اور صدقے کے ڈر سے مال کو چھپانا،بخل اور ایک بری صفت ہے، اور نماز ایک عمدہ عبادت ہے، لہذا اس کا یہ نام بالکل غیر موزوں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی اس نماز کو «عشاء» کہا ہے نہ کہ «عتمہ» ،پس وہی نام بہتر ہے اس پر بھی علماء نے کہا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ «عتمہ» کا لفظ نہ استعمال کیا جائے، اور اس کو اصطلاحی نام «عشاء» سے پکارا جائے، بعض حدیثوں میں خود «عتمہ» کا لفظ «عشاء» کی نماز کے لئے آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 39 (644)، سنن ابی داود/الأدب 86 (4984)، سنن النسائی/المواقیت 22 (542)، (تحفة الأشراف: 8582)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/10، 19، 49، 144) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ"، زَادَ ابْنُ حَرْمَلَةَ، " فَإِنَّمَا هِيَ الْعِشَاءُ، وَإِنَّمَا يَقُولُونَ الْعَتَمَةُ لِإِعْتَامِهِمْ بِالْإِبِلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اعراب ( بدوی ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب نہ آ جائیں “ ، ابن حرملہ نے یہ اضافہ کیا ہے : اس کا نام «عشاء» ہے ، اور یہ اعرابی اسے اس وقت اپنی اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے «عتمه» کہتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 705]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13065، ومصباح الزجاجة: 705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/433، 438) (حسن صحیح)
|
|